منگل , 13 اپریل 2021

کرتارپور کے باوجود پاک بھارت کشیدگی؟

(مزمل سہروردی) 
بھارت میں انتخابی مہم شروع ہو چکی ہے۔مودی مشکل میں ہیں۔ مودی کو اپنی کرسی مشکل میں نظر آرہی ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں ہے کہ مودی گیم سے باہر ہیں۔ ایک سال پہلے بھارت میں یہ تاثر تھا کہ مودی کو ہرانا نا ممکن ہے۔ لیکن اب ایک سال میں حالات اس قدر تبدیل ہو گئے ہیں کہ ایسا لگ رہا ہے کہ مودی مشکل میں ہیں۔ بھارت میں حالیہ پانچ صوبوں میں ہونے والے انتخابی نتائج نے مودی کی سیاست کو بہت دھچکا دیا ہے۔ پانچ میں سے تین صوبے وہ ہار گئے ہیں۔ جس نے کانگریس میں جان ڈال دی ہے اور ریس سے باہر راہول گاندھی ریس میں آگئے ہیں۔ لیکن ابھی بھی ان کا وزیر اعظم بننا ممکن نظر نہیں آرہا۔ کہا جا رہا ہے کہ نہ مودی نہ گاندھی کوئی تیسرا ہی آجائے گا۔

پاکستان میں مودی کے حوالے سے ایک رائے یہ بھی ہے کہ ان کی سیاست کی بنیاد ہی پاکستان مخالفت پر ہے۔ وہ پاکستان کے بارے میں بہت منفی رائے رکھتے ہیں۔ میں اس فلسفے سے متفق نہیں ہوں۔ میری رائے میں مودی نے اپنے دور وزارت عظمیٰ میں پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن پاکستان میں اندرونی سیاسی کشمکش کی وجہ سے مودی کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے آج پاکستان بھارت سے بہتر تعلقات کی کوشش کر رہا ہے اور اسے مثبت جواب نہیں مل رہا۔

شاید جب مودی کوشش کر رہے تھے تب پاکستان میں حالات ساز گار نہیں تھے۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مودی کبھی پاکستان سے اچھے تعلقات کے حق میں نہیں تھے وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ مودی چل کر پاکستان آئے تھے۔ لیکن تب ا ن کے اس دورے کو متنازعہ بنا دیا گیا تھا۔ اور آج جب پاکستان کوشش کر رہا ہے تو بھارت میں حالات سازگار نہیں ہیں۔اور اب بھارت میں کرتار پور کی سرحد کھولنے کو متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اس سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ دونوں طرف ٹائمنگ غلط رہی ہے۔ شاید ٹائمنگ ہمیشہ ہی غلط رہی ہے۔دونوں طرف ایسے گروپ موجود ہیں جو کشیدگی کی سیاست کرتے ہیں۔ اور دونوں طرف کشیدگی بیچنے والے کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایسا پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی دفعہ نہیں ہوا۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی کاوشیں کئی بار انھی حالات کا شکار ہوئی ہیں۔ جب واجپائی پاکستان آئے تھے تب بھی ایسے ہی حالات تھے اور جواب میں جب مشرف بھارت گئے تو انھیں بھارت میں ایسے ہی حالات کا سامنا رہا۔

کرتار پور کے بعد پاک بھارت کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر سیزفائر خلاف ورزیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے معصوم شہریوں کی شہادت کے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں۔کیا مودی کا یہ گلہ جائز ہے کہ بھارت میں انتخابات کے موقعے پر کرتار پور کی سرحد کھول کر پاکستان نے بھارتی انتخابات میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ کیا مودی کایہ گلہ جائز ہے کہ کرتارپور کی سرحد کھولنا مودی کو انتخابات ہروانے کی کوشش ہے۔ اسی تناظر میں کیا اب مودی کا جارحانہ انداز بھی کوئی پیغام دے رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں گورنر راج اور وہاں بڑھتے مظالم بھی کوئی پیغام دے رہے ہیں۔کیا یہ سب کرتار پورکا جواب ہے۔ پاکستان نے کرتار پور کی سرحد کھول کر بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔بھارت کو تعلقات کی بہتری کے لیے نئی حکومت اور پاکستان کی فوجی قیادت نے بہت دعوت دی ہے لیکن دوسری طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

پاک بھارت تعلقات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کی رائے میں آئندہ چند ماہ پاک بھارت تعلقات کے حوالہ سے اہم ہیں۔ کرتار پور کی سرحد کھولنے اور بھارتی صوبائی انتخابات کے نتائج نے مودی کو کافی پریشان کر دیا ہے۔ مودی کو انتخابات جیتنے کے لیے ایک ایشو کی ضرورت ہے۔ ایک ایسا ایشو جو انتخابی نتائج کو ان کے حق میں موڑ دے۔ کیا مودی انتخابی نتائج کو حق میں موڑنے اور اپنی کرسی کو بچانے کے لیے پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی مسلسل لائن آف کنٹرول پر حالات گرم رکھے ہوئے ہیں۔

مودی کے دور میں سرحدیں گرم رہی ہیں۔ ایسے میں سیز فائر لائن پر نئی خلاف ورزیوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کو معمول سمجھنا چاہیے۔ لیکن گرم سرحدیں معصوم شہریوں کے لیے خون کا پیغام لا رہی ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے کیسے قابل قبول ہے۔معصوم شہریوں کی شہادت کو اس طرح آسانی سے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے پاکستان نے اس ضمن میں اب تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ خود کو دفاع تک محدود رکھا ہے۔ پاکستان نے بے شک کرتار پور کی سرحد کھول کر بھارت سے تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن پھر بھی سرحدوں کی گرمی پاکستان کو بھی گرم جواب دینے پر مجبور کر رہی ہے۔

کیا مودی انتخابات کے مواقعے پر پاکستان سے جنگ چاہتے ہیں۔ کیا پاک بھارت جنگ مودی کو انتخابات جتوا سکتی ہے۔شاید ایسا نہیں ہے۔ اسی لیے مودی اب خود کہہ رہے ہیں جنگ پاکستان سے مسائل کا حل نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پورے بھارت کو اندازہ ہے کہ مودی انتخابات جیتنے کے لیے پاکستان سے حالات خراب کر سکتے ہیں اسی لیے مودی یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ جنگ پاکستان سے مسائل کا حل نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود جب تک بھارت میں انتخابی عمل مکمل نہیں ہو تا۔پاکستان سے حالات کشیدہ رہیں گے۔مودی سرحدوں پر شرارتیں جاری رکھیں گے۔

مودی نے پاکستان سے ناکام جانے کے بعد پاکستان کے ساتھ لڑائی اور محاذ آرائی کو سرحدوں سے آگے پہنچا دیا ہے۔ وہ اس کو کرکٹ کے میدانوں میں لے آئے ہیں۔مودی پاکستان کے ساتھ صرف سرحدوں پر نہیں شرارتیں کر رہے بلکہ انھوں نے پاکستان کو معاشی محاذ پر بھی نقصان پہنچایا ہے۔ مودی پاکستان کو معاشی طور پر بھی محصور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کا تازہ انٹرویو بھی یہی نشاندہی کر رہا ہے۔ کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دونوں ممالک کی اندرونی سیاست ہے۔ دونوں طرف اس معاملہ پر بھر پور سیاست کی کوشش کی جا تی ہے۔دونوں طرف ایک جیسا ماحول ہے۔ پاکستان میں بھی بھارت سے بہتر تعلقات کو ایک گالی سمجھا جاتا ہے جب کہ بھارت میں بھی پاکستان سے اچھے تعلقات کو ایک گالی ہی بنا دیا گیا ہے ۔ ایسے میں دونوں طرف ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو تعصب سے بالاتر ہو کر تعلقات کو ٹھیک کرنے کا عمل شروع کر سکے۔ لیکن یہ بظاہر ممکن نظر نہیں آتا۔

کشمیر دونوں طرف ایک بڑا مسئلہ ہے۔ نہ پاکستان کشمیر سے دستبردار ہونے کی پوزیشن میں ہے اور نہ ہی بھارت میں ایسا ممکن ہے۔ نہ پاکستان میں کشمیر پر مفاہمت ممکن ہے اور نہ ہی بھارت میں کشمیر پر مفاہمت ممکن ہے۔ ایسے میں یہ کوشش بھی ہوئی ہے کہ کشمیر کو ایک طرف رکھ کر پاک بھارت تعلقات کو ٹھیک کیا جائے ۔ جب تعلقات ٹھیک ہو جائینگے تو کشمیر کا حل نکل آئیگا لیکن یہ فارمولہ بھی ناکام ہو گیا ہوا ہے۔ اس تناظر میں فوری طور پر دونوں ممالک کے حالات ٹھیک ہوتے نظر نہیں آرہے۔ کہیں نہ کہیں یہ احساس بھی یہ ہے کہ کرتار پور کی سرحد کھولنے میں پاکستان نے جلدی کی ہے۔ پاکستان کو بھارت کے انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ اس طرح ہم نے مودی کو پاکستان سے اور دور کر دیا ہے۔ جس کی شاید ضرورت نہیں تھی۔

سوال یہ ہے کہ کیا آگے کوئی امید ہے۔ شاید اس کے لیے دونوں طرف مضبوط سیاسی قیادت کو برسر اقتدار آنا ہوگا۔ ایسا کیسے ممکن ہے۔ اس وقت پاکستان میں بھی سیاسی طور پر ایک کمزور حکومت ہے۔ اور کہیں نہ کہیںایسا لگ رہا ہے کہ آئندہ انتخابات کے بعد بھارت میں بھی ایک سیاسی طور پر ایک کمزور حکومت ہی آئے گی۔ چاہے وہ مودی کی حکومت ہو یا نہ ہو۔ اس منظر نامے میں شاید بہتری کی کوئی امید نہیں ہے۔ بس یہی حقیقت ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …