منگل , 13 اپریل 2021

ٹرمپ دور : فلسطین میں یہودی آبادکاری میں بے پناہ اضافہ: رپورٹ

یروشلم (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا میں ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا میں صدر بننے کے بعد ان کے دور اقتدار میں فلسطین میں‌ یہودی آباد کاری میں ایک نیا طوفان اٹھا اور اس میں مسلسل تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔

خبر رساں ادارے "اے پی” کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار میں فلسطینی علاقوں میں آباد کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں ںے اعتراف کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے قیام کے بعد تل ابیب کو فلسطین میں اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی اتھارٹی اور امریکا کے درمیان اختلافات بڑھنے کا اسرائیل کو فائدہ پہنچا اور اس نے فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی کے منصوبوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ کیا ہے۔

رپورٹ میں مبصرین کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل جب غرب اردن میں ایک نئی یہودی کالونی کااعلان کرتا ہے تو وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو ایک قدم اور بھی مشکل بنا دیتا ہے۔

نیوز ایجنسی نے اسرائیل کے انسانی حقوق کے ادارے’ اب امن’ کی یہودی کالونیوں کے امور کی نگران ھجیت اوفران کے حوالے سے بتایا ہےکہ موجودہ اسرائیلی حکومت یہ سمجھتی اس کے لیے سب کچھ جائز ہے۔ امریکی انتظامیہ موجودہ حالات میں صہیونی ریاست کےساتھ ہے اور اسرائیل کو یہودی آباد کاری کا پورا حق حاصل ہے۔

اسرائیلی انسانی حقوق گروپ کے مطابق 2016ء میں غرب اردن میں یہودیوں کے لیے 3066 مکانات تعمیر کیے گئے۔ 2017ء میں اس میں کمی دیکھی گئی اور 1650 مکانات تعمیرکیے گئے۔ سال 2018ء کے دوران یہودی آبادکاری میں اڑھائی گنا اضافہ ہوا او 6712 مکانات تعمیر کیے گئے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …