جمعرات , 15 اپریل 2021

افغانستان: صدرٹرمپ کا نیا بہروپ

(جمیل اطہرقاضی)
2019ء کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کیلئے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آئی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا۔کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدرٹرمپ نے کہا کہ وہ نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملنے کے منتظر ہیں اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم طالبان اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں،امریکہ ہزاروں میل دور رہ کر ہی افغانستان میں کیوں لڑے، پاکستان اور روس کو بھی افغانستان میں مزید کردار ادا کرنا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کے گزشتہ مؤقف کے برعکس افغانستان میں روس کی مداخلت کو بھی درست قرار دیا۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی نے افغانستان میں لائبریری بنا کر بار بار جتایا، بھارت نے جتنے پیسوں میں لائبریری بنائی،امریکہ اتنی رقم افغانستان میں پانچ گھنٹے میں خرچ کر دیتا ہے۔ اس طرح سال نو پر امریکی صدر کے اس مثبت پیغام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات پر جمی برف آخر کار پگھلنے لگی ہے۔ امریکی صدر نے کابینہ کے اجلاس میںافغانستان پر سوویت یونین کا حملہ جائز قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ طالبان اور دوسرے لوگوں سے مذاکرات کررہا ہے۔ روس کبھی سوویت یونین تھا۔ افغانستان نے اسے روس بنایا کیونکہ سوویت یونین افغانستان میں جنگ لڑتے ہوئے دیوالیہ ہوگیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ روس افغانستان میں اس لیے گیا تھا کہ دہشت گرد روس میں داخل ہورہے تھے۔ روس کو افغانستان میں مداخلت کا حق تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہوگئے ہیں جیسا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی اہمیت کو سمجھ لے تو معاملات بہتر ہو جائینگے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ پاکستان کا امن افغانستان سے جڑا ہوا ہے، افغانستان میں استحکام کے تناظر میں امریکہ کا کردار اہم ترین ہے۔ فواد چوہدری کے اس بیان سے واضح ہے کہ پاکستان کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوا۔ امریکی صدر نے روس کے افغانستان پر حملے کو بھی درست قرار دیتے ہوئے کہاکہ سوویت یونین نے اس لئے افغانستان پر حملہ کیا تھا کہ وہاں دہشتگرد افغانستان میں داخل ہورہے تھے۔ اسکے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت افغانستان میں ایک لائبریری بنا کربار بار جِتا رہا ہے جبکہ بھارت نے جتنی رقم لائبریری کی تعمیر پر خرچ کی ہے اتنی رقم امریکہ پانچ گھنٹے میں خرچ کردیتا ہے، ان کا یہ موقف غلط نہیں اسکے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی احساس دلادیا کہ وہ اب افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند ہیں انہوں نے کہا کہ امریکہ ہزاروں میل دُور بیٹھ کر افغانستان سے کیوں لڑے، یعنی انکے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں اب پاکستان اور روس افغانستان میں خود لڑیں، لیکن امریکی صدر کیلئے تاریخ پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے کہ افغانستان میں امریکہ کسی مشکل میں مدد کرنے کیلئے نہیں بلکہ سوویت یونین کو شکست دینے کیلئے آیا تھا اور اس نے مسلمان نوجوانوں کا ایک ایسا گروپ تشکیل دے دیا تھا جو امریکی معاونت سے افغانستان میں سوویت فوجوں کیخلاف لڑا اور انہیں شکست دیکر افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا، اس جنگ میں سوویت یونین کا اتنا خرچہ ہوگیا کہ وہ اپنی ریاستوں کو متحد نہ رکھ سکا اور اس طرح سوویت یونین کی تمام ریاستیں علیحدہ مملکتوں کی صورت اختیار کرگئیں۔

امریکہ کا مقصد دنیا میں اپنے مقابلے کی ایک قوت کا خاتمہ تھا اور جب مسلمان نوجوانوں نے سوویت یونین کو شکست دے دی تو امریکہ نے اس جانب سے ایک دم سے منہ پھیر لیا جبکہ اصولی طور پر اس کو چاہئے تھا کہ وہ اپنے پیدا کئے ہوئے ان مجاہدین کو کسی کام میں لگاتا جنہیں اس نے سوویت فوجوں کیخلاف لڑنے کیلئے اس طرح تیار کیا تھا کہ گوریلا جنگ کی تربیت اور اسلحے کے ساتھ ساتھ مالی معاونت بھی کی تھی، امریکہ کے خاموشی سے افغانستان کی جانب سے توجہ ہٹانے کا منطقی نتیجہ یہ نکلا کہ اسکی تیار کردہ جہادی فورس یہیں رہ گئی اور پھر کچھ تو افغانستان میں جاری خانہ جنگی میں ایک فریق بن گئے جبکہ دیگر نے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں اپنی مستقل رہائش گاہیں قائم کرکے یہاں شادیاں کرلیں اور یہیں کے ہوکر رہ گئے لیکن انکی مشکل یہ تھی کہ وہ لڑنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتے تھے لہذا انہوں نے یہی کام یہاں بھی شروع کردیا، یہ دیکھتے ہوئے بھارت نے انکی خدمات حاصل کرلیں اور ا کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے لگا، صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اپنے پرانے ایجنٹ الطاف حسین کی دہشت گرد تنظیم ایم کیو ایم کے ذریعے بھی کراچی میں دہشتگردی کو فروغ دینے لگا، اس وقت بھی امریکہ کو ذرا سا بھی خیال نہ آیا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد شروع کرنے میں پاکستان نے بھی اس کا حتی المقدور ساتھ دیا تھا اب اسے بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہئے یا کم از کم اتنا ہی کرلیتا کہ بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے سے روک دیتا لیکن ایسا کچھ نہیں کیا بلکہ خاموشی سے پاکستان کی تباہی دیکھتا رہا جبکہ بھارت نے پاکستان میں ایم کیو ایم کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور دیگر کئی ناموں سے اپنے ذیلی تنظیمیں قائم کرلیں جن کا کام پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا، ان تمام کارروائیوں کو امریکہ خاموشی سے دیکھتا رہا، اس نے نہ تو تباہ حال سوویت یونین کی کسی قسم کی کوئی مدد کی نہ ہی پاکستان میں ہونے والی تباہی میں کوئی مثبت کردار ادا کیا۔

لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان کے شیر دل، بہادر اور کڑیل فوجی جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر دہشت گرد بھارتی ایجنٹوں کا کامیابی کے ساتھ خاتمہ کیا اور دہشت گروں کا انکی دہشت گردی کی لعنت سمیت خاتمہ کیا گو، حالانکہ دہشت گردی کیخلاف عالمی جنگ خود امریکہ ہی کی چھیڑی ہوئی تھی لیکن اس میں نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا، اس میں ایک کھرب سے زائد ڈالر کے مالی نقصان کے علاوہ 65 ہزار شہریوں اور فوجی جوانوں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا، نیز آپریشن ضرب عضب اور آپریشن رد الفساد شروع کئے جن میں سے آپریشن ردالفساد اب بھی جاری ہے۔ جبکہ امریکی فوجیں اس وقت سے ہی افغانستان میں موجود تھیں جب مسلمان نوجوان وہاں سوویت فوجوں کیخلاف برسرپیکار تھے جو بعد ازاں اسامہ بن لادن کی افغانستان میں موجودگی کو بنیاد بنا کر افغانستان پر حملہ آور ہوئے اور پھر یہاں اپنی فوجیں اتار کر اس خطے کا چوہدری بننے کی کوشش کی لیکن افغانستان کے شہریوں کی گُھٹی میں یہبات نہیں کہ وہ کسی غیر ملکی کے سامنے سر جھکادیں لہٰذا وہاں خانہ جنگی کا سلسلہ جاری رہا، اگر امریکی کرتا دھرتا افغانستان میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے قبل وہاں کی تاریخ اور عوام کی نفسیات پر ایک نظر ڈال لیتے تو شائد ایسی حماقت نہ کرتے بہر حال اب صدر ٹرمپ اپنے وطن اور عوام کے لحاظ سے یہ عقل مندی کررہے ہیں کہ نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں امریکی فوجیں دوسروں کی لڑائی میں حصہ لے رہی ہیں انہیں واپس بلارہے ہیں جیسے حال ہی میں شام سے فوجیں واپس بلائی گئی ہیں اور افغانستان سے بھی نصف فوج واپس بلارہے ہیں، انکی سوچ اب بھی وہی پرانی ہے کہ افغانستان میں پاکستان اور روس لڑیں اور وہ امریکی فوجوں کو واپس بلالیں، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افغانستان میں امن کی سب سے زیادہ ضرورت پاکستان کو ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے، لیکن اسکے باوجود اب پاکستان افغانستان میں امریکی لڑائی میں فریق نہیں بنے گا، امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں ضرور نکالے اور پاکستان کے ساتھ ضرور اچھے تعلقات قائم کرے لیکن اس سے پہلے افغانستان میں مکمل امن قائم کرکے اپنی فوجیں یہاں سے نکال لے پھر پاکستان افغانستان میں امن کے تسلسل کو قائم رکھنے اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اس میں پاکستان کو روس اور چین کی ہم کاری بھی حاصل رہے گی، لیکن امریکی لڑائی میں اب پاکستان کوئی کردار ادا نہیں کریگا اور نہ ہی صدر ٹرمپ چہرے پر نقاب چڑھا کرامن دوست بنتے ہوئے ہماری قیادت کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …