منگل , 13 اپریل 2021

جمہوریت سے جنگوں تک

(ظہیر اختر بیدری) 
ہماری جمہوریت کے عاشقین کو ایسا لگتا ہے، اب کچھ صبرآگیا ہے یا ادھر ادھر سے اڑتی خبریں اس قدر خطرناک ہیں کہ جمہوریت کے پرستار فی الوقت صبرکرنے کو ہی سلامتی کا راستہ سمجھ رہے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ ہم جمہوریت کے عشاق میں اعتدال اور احتیاط کے مسئلے پر ایک نظر ڈالیں، حزب اختلاف کی طوفان جیسی تحریکوں میں سرد بازاری کا ایک جائزہ پیش کرتے ہیں ۔ اس بات کو دہرانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے ملک میں تحریکیں چلانے اور تحریکوں کو بند کرنے کا ایک خودکار میکنزم ہے۔

ریاست اور ملک کو درپیش خطرات پر بڑی دور رس نگاہیں رکھنے والے ذمے دار لوگ نظر رکھتے ہیں، ان اہل الرائے کی رائے جمہوریت کے آنے جانے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پاکستان ہی کیا دنیا کی کوئی نئی نویلی جمہوریت جب انتخابات جیت کر اقتدار سنبھالنے کی تیاری کرتی ہے تو یہ دیکھنا بہت ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اقتدار میں آنے والی سیاسی جماعت کا رخ کدھر ہے ملک کے مستقبل کے حوالے سے انتخابات جیتنے والی جماعت کا وژن کیا ہے۔ کیا انتخابات جیتنے والی جماعت ملک کے مستقبل کے حوالے سے جو پالیسی رکھتی ہے وہ ملک کی دیرینہ سیاسی پالیسی سے مطابقت رکھتی ہے یا اس میں کوئی بڑی تبدیلی کے امکانات ہیں۔ ملک کے اہم قومی مسائل پر انتخابات جیتنے والی جماعت کی کیا رائے ہے ۔

انتخابات لڑنے والی تمام جماعتوں کے بارے میں جمہوری ملکوں میں بھی اہم قومی مسائل پر جانکاری کو ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ انتخابی معرکوں میں اگلی صفوں میں رہنے والی جماعتوں کے بارے میں ضروری معلومات کا حصول ساری دنیا کی روایت ہے اسے کوئی ملک جمہوریت میں مداخلت نہیں سمجھتا۔ اس قسم کی معلومات ڈنکے کی چوٹ پر حاصل نہیں کی جاتیں بلکہ خفیہ طریقے سے حاصل کی جاتی ہیں، اس کی مخالفت یعنی شدید مخالفت اس لیے نہیں کی جاتی کیونکہ موجودہ نازک دور میں مذہبی انتہا پسند اور دہشت گرد بھی قانون ساز اداروں میں پہنچ رہے ہیں۔ ساری دنیا دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی سے بہت خائف ہے اس میں دائیں بائیں کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

یہ حقیقت بڑی واضح ہے کہ دہشتگردی کے قومی سیاست میں آنے کے بعد دنیا کا ہر ملک دہشتگردوں مذہبی انتہا پسندوں سے بہت محتاط ہے اور پوری کوشش کرتا ہے کہ ہر انتخابات میں اعتدال پسند جماعتیں آگے رہے۔ ترقی یافتہ اور دنیا کی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے والے ملکوں پر ہر ملک کے خفیہ اداروں کی نظر ہوتی ہے کیونکہ ساری دنیا کے تحفظ اور مستقبل کا معاملہ ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اس حوالے سے تحفظ کا ایک سخت اور جامع نظام موجود ہوتا ہے لیکن پسماندہ ملکوں کے پاس جدید دنیا کے حفاظتی انتظامات کا اہتمام ممکن نہیں۔

انتخابات کے دوران جمہوریت دشمن طاقتیں رائے عامہ پر اثرانداز ہونے کے لیے بھاری سرمائے کا اہتمام کرتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کا بنیادی مسئلہ زیادہ سے زیادہ ملکوں میں اپنے حامی تلاش کرنا ہوتا ہے جو ضرورت کے وقت ہر طرح سے کام آ سکیں۔

دنیا بیسویں صدی سے جس سیاسی کلچرکو اپنا دین ایمان بنا رہی ہے اس کلچر نے دنیا میں بڑی بڑی جنگوں کو تو معارف کرا دیا اور ان جنگوں میں ہزاروں بے گناہ انسان جانوں سے گئے لیکن دنیا نے ایسے دانشور مفکر اور عالم پیدا نہیں کیے جنھوں نے شدت سے گلوبل لیول پر جنگوں کی مخالفت کی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دور میں کچھ لوگ جنگوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن ان کی حیثیت نقارخانے میں طوطی کی آواز بنی رہی کسی مسئلے کی حمایت یا مخالفت کرنے کے لیے مسئلے کی اہمیت اور اس کے درست یا غلط ہونے کے بارے میں واضح رائے کا ہونا ضروری ہے ۔جنگ خواہ کسی حوالے سے لڑی جائے ہزاروں اور بعض صورتوں میں لاکھوں انسانوں کی جانیں لیتی ہے لہٰذا کسی جنگ کے جائز ہونے یا ناجائز ہونے کا فتویٰ دینا ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔ اس دنیا میں رہنے والے انسان کبھی کسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ قومی جنگ کے نام پر جو جنگیں لڑی گئیں ان میں بھی ہزاروں لاکھوں انسان مارے گئے۔

جنگیں خود بخود شروع نہیں ہوتیں بلکہ جنگی ماہرین جنگوں کی ضرورت اور فائدے نقصان پر غور کر کے جنگیں شروع کرتے ہیں۔ جنگ کسی بھی حوالے سے خواہ کتنی ہی جائزکیوں نہ ہو اپنی اصل میں ایک ایسی برائی، ایسی وحشت ہے جس کا فائدہ بہت قلیل نقصان ہزاروں ہیں۔

دنیا نے ہزاروں جنگی ماہرین پیدا کیے جن کا ان کی کارکردگی کے حوالے سے احترام بھی کیا جاتا ہے۔ یہ سب عقل و خرد کے خلاف ہے۔ دنیا میں آج تک جتنی جنگیں لڑی گئیں خواہ ان کے جائز ہونے کے کتنے ہی جواز پیش کیے جائیں جنگیں کبھی جائز نہیں ہو سکتیں۔ اس حوالے سے یہ عذر پیش کیا جا سکتا ہے کہ ظلم کے خلاف لڑنا جنگ نہیں بلکہ مدافعت ہے۔ جنگ خواہ مدافعت کے نام سے لڑی جائے یا مزاحمت کے نام سے ہر حال میں یہ ایک خونی کھیل ہی کہلائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو مارنا ایک ایسا جرم ہے جس کی سزا کا تعین اس طرح کیا جانا چاہیے کہ دنیا جنگ سے نفرت کرے اور امن سے محبت کرے۔

جنگیں اور انسانوں کی جان لینا خواہ اس کے لیے کتنے ہی جواز پیش کیے جائیں بنیادی طور پر انسان کے زندہ رہنے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ جنگیں بعض وقت قوموں پر مسلط کی جاتی ہیں جس کا دفاع ناگزیر ہو جاتا ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگیں فریقین کی مرضی سے لڑی جائیں یا یکطرفہ کسی صورت میں بھی جنگیں انسان کے زندہ رہنے کے حق کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔ دنیا میں ہزاروں سے زیادہ جنگی ماہرین موجود ہیں اور ان کی مہارت کے حوالے سے ان کی تکریم کی جاتی ہے اور جب تک یہ کلچر موجود ہے جنگیں جاری رہیں گی، بلاشبہ جنگوں کے مخالفین بھی موجود ہیں لیکن ان کا حال نقار خانے میں طوطی کا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ کے حامی دراصل ہتھیاروں کی فروخت کے حامی ہوتے ہیں۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …