ہفتہ , 17 اپریل 2021

سعودی جیلوں میں اسیر عورتوں کو وحشیانہ طور پر شکنجہ دیا جاتا ہے

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)انسانی حقوق کی تنظیم نے فاش کیا ہے کہ سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید کی جانے والی عورتوں کو وحشیانہ طور پر شکنجہ دیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم قسط نے اپنے ایک بیان میں فاش کیا ہے کہ سعودی عرب کے حکام جیلوں میں قید عورتوں کو بری طرح شکنجہ دے رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم قسط کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی عالمی تنظیموں نے بھی سعودی عرب کی جیلوں میں خواتین کو شکنجہ دینے کی تائید اور تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی ایک جیل میں خاتون کو برہنہ کرکے اسے شکنجہ دیا گیا ۔ اور ثبوت کے طور پر اس خاتون کے فوٹو کو بھی سعودی حکام کے سامنے پیش کیا گيا ہے۔ قسط کے مطابق سعودی بادشاہ کے دربار کے سابق مشیر سعود القحطانی کو شکنجوں کے کمروں میں بارہا دیکھا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم قسط کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں قید عورتوں کو بدنی شکنجے کے ساتھ نفسیاتی شکنجے بھی دیئے جاتے ہیں۔ عالم اسلام میں سعودی عرب کی وحشی اور جنگلی حکومت کو امریکی ، یزیدی اور معاویائی حکومتوں کا ورثہ دار سمجھا جارہا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت ، عالم اسلام میں اختلاف ڈالنے اور اسلامی ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں خطے میں امریکی ایجنڈے پر گامزن ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …