بدھ , 21 اپریل 2021

معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے،چیف جسٹس

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ اگر عدلیہ کا ادارہ ناکام رہا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، جس معیار کا انصاف کا ادارہ ہونا چاہیے وہ نہیں ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے مواقع پر میں بات کرتا ہوں کہ قوم کیسے ترقی کرتی ہے، میں 3 بنیادی چیزیں دیکھتا ہوں جو قوم بناتی ہیں، جس میں پہلی تعلیم، دوسرا بہترین لیڈرشپ اور تیسرا انصاف کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم اس کا ایک لازمی جزو ہے، تعلیم کے بغیر سوسائٹی بے کار ہے، پاکستان میں شرح خواندگی بہت کم ہے اور یہاں تعلیم کا نظام کوئی خاص اچھا نہیں ہے.

ان کا کہنا تھا کہ میں ملک کے ہر حصے میں گیا ہوں، بلوچستان کے کئی علاقوں میں اسکول نہیں ہیں اور اگر اسکول ہیں تو اس کی چار دیواری نہیں ہے اور اس میں واش روم نہیں ہیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وڈیروں کے جانور اور بھوسہ رکھا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی بہترین ریاست مدینہ کی ریاست ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور سب سے خوبصورت دور ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لیے پسند کریں، ملک کی ترقی کا دوسرا راز بہترین لیڈرشپ ہے اور ترقی کا تیسرا راز انصاف کی فراہمی ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اللہ تعالی کی سب سے بڑی عنایت ہے کہ اس دنیا میں زندگی پیدا کر دی ہے، زندگی صرف زندہ رہنے کا نام نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جانوروں، چرند پرند اور نباتات کے حقوق ہیں جبکہ سب سے زیادہ حقوق اللہ تعالی نے انسان کو دیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کا ادارہ ناکام رہا تو معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، جس معیار کا انصاف کا ادارہ ہونا چاہیے وہ موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب کسی شہری کو بنیادی حقوق نہیں ملتے تو پھر سوسائٹی میں اضطراب پیدا ہوتا ہے، جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ دیانت کے ساتھ کرنا چاہیے.چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رول ادا کرے، اگر ہر شخص اپنے طور پر رول ادا نہیں کرے گا تو معاشرے کی ترقی نا ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور صحت کو کاروبار مت بنائیں اور اپنی وفاداری، اپنا علم اور وقت اس ملک کو دیجیے، یہ واقعی ہی بڑے حوصلے کی بات ہے کہ لوگوں پر خرچ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں کیا تھا، میں نے زندگی میں کبھی فرسٹ پوزیشن نہیں لی اور 2 سالوں میں عوام نے بہت عزت دی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں نے ان ایشوز کو ٹیک آپ کیا جو ضروری تھے، لاہور کا سارا فضلہ راوی میں ڈالا جا رہا ہے، اس ملک کو کسی کمزور بندے نے نقصان نہیں پہنچایا اور پاکستان کو اس مقام پر لانے والے یہ بڑے لوگ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ڈیوٹی ہے کہ ایک لاکھ 21 ہزار روپے کے مقروض بچے کے لیے کچھ کر کے جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …