جمعرات , 15 اپریل 2021

امریکہ کا یو ٹرن

(کرن عزیز کشمیری)
امریکی صدر ٹرمپ نے یکم جنوری کو پاکستان مخالف بیان دیا اور چند گھنٹے گزرنے کے بعد موقف میں تبدیلی آ گئی۔ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت سے ملاقات کا اظہار اورزبردست تعلقات کی خواہش دراصل امریکی قلابازیا ں ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ امریکی سیاسی تنہائیاں عروج پر ہیں۔ امریکی بیان کو وقتی سیاسی ضروریات کے تناظر میں دیکھا جائے تو بیان کے پس پردہ محرکات واضح ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان میں مسلسل ناکامیاں امریکہ کے لیئے نوشتہ دیوار ہیں یہی وجہ ہے کہ زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے امریکہ نے روس کے خلاف اپنے موقف میں تبدیلی لاتے ہوئے مثبت رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس ضمن میں دیکھا جائے تو یہ وہی امریکہ ہے جس نے روس کے خلاف افغانستان میں ایک بڑی جنگ لڑی تاہم اب تاریخی سیاسی یوٹرن وقتی سیاسی مصلحتیں ہیں اس سلسلے میں امریکہ کو یہ صاف نظر آرہا ہے کہ سیاسی صورتحال اب بدل رہی ہے۔ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ترکی کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات کا بھی اشارہ دیا جبکہ شام میں کردباغیوں کی مدد کرنے کے مسئلے پر ترکی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا تھا۔ گزشتہ سال ترک لیڈر طیب اردگان کو امریکہ نے ان کے دورہ

امریکہ کے موقع پر اپنا سب سے بڑا اتحادی قرار دیا تھا اور داعش کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ ٹرمپ نے داعش کے علاوہ ترکی کے خلاف لڑنے والی کرد پارٹی کو بھی مشترکہ دشمن قرار دیا تھاجبکہ داعش امریکہ اور ترکی دونوں کا دشمن قراد پایا تھا۔ امریکی سینٹ نے ایک قانون بھی پاس کیا تھا جس کے مطابق امریکی حکام کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ترکی کو ملنے والے بین الاقوامی قرضوں کو اس وقت تک روک دیں جب تک ترکی پادری کو یعنی امریکی شہری کو رہا نا کر لیتا۔ دوسری طرف روس اور پاک چین بڑھتی قربتیں امریکہ کیلئے پریشانی کا باعث ہیں۔ خاص طور پر سی پیک منصوبے کے تناظر میں امریکی تنہائی اور خوف کے آثار نمایاں ہیں۔ سی پیک منصوبے کی کامیابی سے امریکہ دراصل خطے میں چین کی اکنامک بالادستی سے خوف زدہ ہے۔ اس ضمن میں امریکہ کو پاک چین تعلقات میں مزید بہتری نظر آرہی ہے۔

اہم امر یہ ہے کہ امریکہ افغانستان سے باعزت واپسی کا منتظر ہے۔ اسی مسئلے کے سیاسی حل کیلئے امریکہ نے مثبت روش اپنانے میں ہی عافیت سمجھی۔ اس ضمن میں نئی حکومت نے امریکہ کو دوٹوک باور کرایاتھا کہ پاکستان امریکہ کی جنگ اب نہیں لڑے گا بلکہ اب ہم وہ کریں گے جو ملک کے مفاد میں ہوگا۔ مزید آئینہ دکھایا تھا کہ پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں۔ ڈرون حملوں کو بھی زیادتی اور خود مختاری کے خلاف قرار دیا تھا۔ پاکستان نے امریکہ پر یہ واضح کیا تھا کہ امریکہ کی جنگ لڑتے ہوئے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ امریکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا محض الزام ہی لگاتا ہے جبکہ ان الزامات کا کبھی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ پاکستان نے امریکا کو واضح طور پر یہ امر بھی باور کرایا کہ امریکہ کے ساتھ ہم چین جیسے تعلقات چاہتے ہیں۔ امریکہ نے اپنے حالیہ بیان میں بھارت پر بھرپور تنقید کی ہے۔ اپنے فرنٹ لائن اتحادی کے دیرینہ مکار دشمن پر امریکہ نے الزام لگایا ہے کہ مودی نے افغانستان میں لائبریری بنا کر بار بار بتایا اور بھارت نے جتنے پیسوں میں لائبریری تعمیر کی امریکہ چند گھنٹوں میں لائبریری پر لگائے گئے پیسے خرچ کر سکتا ہے۔ یہ طرفہ تماشاہے کہ بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر اسکی سرپرستی شروع کردیتا ہے اور ساتھ ہی جنگی دفاعی تعاون اور ایٹمی ہتھیاروں کی فراہمی کے متعدد معاہدے بھی کر رکھے ہیں۔ ہماری سلامتی کے درپے دشمن بھارت کے خلاف امریکہ کا موجودہ بیان مضحکہ خیز ہے۔ بیان کے پس پردہ محرکات امریکہ کا مطلوبہ ہدف ہیں۔ اپنے اہم اتحادی پر طنز امریکی مجبوری ہے مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وقتی ضرورت ہے۔ افغانستان سے باعزت واپسی کے سلسلے میں یوٹرن امریکی پالیسی کا حصہ ہے بنیادی طور پر پاکستانی کردار ادا کرنے کی امریکی خواہش ہے اگر امریکہ کو اپنے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو اپنی پرانی روش اپنانے میں تاخیر سے کام نہیں لے گا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …