پیر , 21 جون 2021

پاکستان اور ترکی ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں، پاک ترک تعلقات پر ایک نظر

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر ترکی پہنچے ہیں جہاں ان کی ترکی کے صدر طیب رجب اردگان سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہ عمران خان کا ترکی کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان سعودی عرب اور متحدہ امارات کے دورے کر چکے ہیں جہاں ان کا اہم مقصد پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنا تھا۔

پہل سعودی عرب نے کی۔ سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک سال میں تین ارب ڈالر کی امداد دینے کا وعدہ کیا اور اس پر عمل بھی شروع ہو گیا۔ اس کے علاوہ اس نے تین سال تک مؤخر ادائیگیوں پر تقریباً نو ارب ڈالر مالیت کا تیل دینے پر بھی رضامندی ظاہر کی جو کہ ایک عمران کی معاشی طور پر کمزور نوزائیدہ حکومت کے لیے ایک خوش آئند بات تھی۔

پاکستان ترکی سے کیا چاہتا ہے؟
لیکن پاکستانی وزیرِ اعظم ترکی سے امداد کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی پاکستان میں سرمایہ کرے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا قحط اب ختم ہو جس نے پاکستانی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انھوں نے ترکی بزنس کمیونٹی کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئیں اور پاکستان میں کنسٹرکشن، سے لے کر سیاحت، اور قدرتی وسائل کی دریافت تک کے پراجیکٹس میں حصہ لیں۔

انھوں نے ترک تاجروں کو یہ بھی تسلی دی کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دے رہی ہے اور اس سلسلے میں سرخ فیتے یا ریڈ ٹیپ ازم کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اور ترکی کیا چاہتا ہے؟
بی بی سی کی ترک سروس کی ارم کوکر کے مطابق ‘دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ کے لیے روایتی میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ یا یادداشت کے دستاویز پر تو دستخط ہوں گے ہی لیکن ترکی کی زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ پاکستان امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والی فتح اللہ گولن کی تحریک اور تنظیم کے خلاف کیا کچھ کر رہا ہے۔’پاکستان پہلے ہی گولن تحریک کے تحت پاکستان میں چلنے والے سکول ترکی کی معارف فاؤنڈیشن کے سپرد کر چکا ہے۔

یاد رہے کہ ترکی نے 2016 کے ناکام انقلاب کے بعد، جس میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، معارف فاؤنڈیشن کا قیام کیا تھا جس کا مقصد ان تمام سکولوں کا انتظام سنبھالنا تھا جو ملک کے اندر اور باہر گولن نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ ترکی کا الزام ہے کہ انقلاب کے پیچھے گولن نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔

گذشتہ ماہ پاکستان کے سپریم کورٹ نے گولن کے نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دینے کی ایک درخواست تسلیم کی تھی۔پاکستان سپریم کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی تنظیم کو اس کا اپنا ملک ہی دہشت گرد قرار دیتا ہے تو پاکستان بھی اسے اس طرح ہی تسلیم کرے گا۔

ارم کہتی ہیں کہ ‘اس طرح ترکی کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جس نے گولن نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد نیٹ ورک تسلیم کیا ہے اور ترکی اپنے دوست ملک کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہتا ہے۔’

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسا اس وقت ہوا جب پاکستان کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ترکی کے کونسٹیٹیوشنل کورٹ کے صدر کی دعوت پر ترکی جا رہے تھے۔اور یہ بھی ایک حسنِ اتفاق ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی اسی شہر یعنی کونیا گئے جہاں چیف جسٹس گئے تھے اور دونوں نے مولانا رومی کے مزار پر حاضری دی۔

پاک ترک ممالک کے تعلقات
پاکستان میں حکومت کسی کی بھی ہو اس کے ترکی کے ساتھ تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے ہیں۔ تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ ترک میڈیا میں چھپنے والا اطلاعات کے مطابق گذشتہ سال پاکستان اور ترکی کے درمیان تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی مالیت کا فوجی معادہ ہوا تھا۔ اسی طرح ترک فوجی پاکستان میں آ کر تربیت لیتے ہیں اور پاکستانی فوجی ترکی جا کر۔ بلکہ پاکستان کے سابق فوجی آمر اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے تو اپنی ترکی میں ایک لمبے عرصے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ترک جمہوریہ کے بانی کمال اتا ترک تو ان کے آئیڈیل تھے۔ اسی طری موجودہ وزیرِ اعظم عمران خان بھی کمال اتا ترک کے ترکی ماڈل کا ذکر کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔پاکستان میں کئی شاہراہیں کمال اتا ترک کے نام پر ہیں جبکہ ترکی کی اہم مصروف شاہراہ جناح جادیسی پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے نام پر ہے۔

لیکن کیا ہمیشہ ہی تعلقات بہتر رہے
ویسے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ ان میں دراڑ افغانستان کی خانہ جنگی کے دوران اس وقت آئی جب پاکستان طالبان کی جبکہ ترکی شمالی اتحاد کی حمایت کر رہا تھا۔ شمالی اتحاد میں زیادہ تر ازبک اور ترک نژاد افغان تھے جبکہ طالبان میں اکثریت پختون کی تھی جن کی پاکستان حمایت اور مدد کر رہا تھا۔ اور دونوں گروہ ایک دوسرے کے بدترین دشمن تھے۔

اس کے علاوہ ترکی چین میں مسلم اویغوروں کی ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کی حمایت کرتا ہے جبکہ پاکستان اپنے ہمسائے اور درینہ دوست چین کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور ای ٹی آئی ایم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ پاکستان نے اپنی سرحد کے اندر ایسے کئی اویغروں کو ہلاک کیا ہے جن پر شبہ تھا کہ وہ چین میں شدت پسند کارروائیوں میں ملوث تھے۔بشکریہ بی بی سی

یہ بھی دیکھیں

غلیل سے میزائل تک، فلسطین بدل رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس پچھلے گیارہ دن سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر …