منگل , 13 اپریل 2021

وزیراعلیٰ کا قبائلی اضلاع کا دورہ اور اعلانات

(رپورٹ: ایس علی حیدر)

وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے بعد صوبہ کے پہلے وزیراعلٰی کی حیثیت سے محمود خان نے باجوڑ اور خیبر کا دورہ مکمل کرلیا ہے، اب قبائلی اضلاع وزیراعلٰی کے ماتحت ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیراعلٰی محمود خان نے چیف ایگزیکٹیو کی حیثیت سے باجوڑ اور خیبر اضلاع کا دورہ کیا۔ ان کی آمد کے موقع پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ ان کے ہمراہ صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل خان وزیر بھی تھے، جبکہ انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بھی وزیراعلٰی کے دورے کے دوران موجود رہے۔ اپنے دورے کے دوران وزیراعلٰی محمود خان نے باجوڑ میں یادگار شہداء پر حاضری دی اور قبائلی جرگہ سے خطاب کیا۔ اس طرح وزیراعلٰی نے باجوڑ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ضلع خیبر کے سب ڈویژن جمرود کے لیویز سنٹر شاہ کس پہنچے، جہاں قبائلی عمائدین اور سرکاری حکام نے ان کا استقبال کیا۔ وزیراعلٰی نے دہشت گردی میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی بحالی کے مرکز کا بھی دورہ کیا۔ قبائلی اضلاع باجوڑ اور خیبر کے دورے کے دوران وزیراعلٰی محمود خان نے قبائلی جرگوں سے خطاب کے دوران کئی اہم اعلانات کئے۔

ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں پہلے سے نافذ جرگہ سسٹم کو قانونی تحفظ دیا جائے گا، سابقہ فاٹا اور پاٹا کو 5 سالوں کیلئے ٹیکس میں چھوٹ دی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے قبائلی علاقوں میں جلد عدالتیں قائم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلٰی نے قبائلی اضلاع میں لیویز اہلکاروں کو شہداء پیکج دینے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے باجوڑ میں غاخی پاس اور ناوا پاس کو جلد از جلد کھلوانے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ سابقہ دور حکومت میں آئینی ترمیم کے ذریعے پارلیمنٹ نے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا ہے۔ اب قبائلی اضلاع صوبہ کا حصہ ہیں اور وزیراعلٰی دوسرے اضلاع کی طرح قبائلی اضلاع کے بھی چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ آئینی ترمیم سے قبل گورنر قبائلی ایجنسیوں کے چیف ایگزیکیٹیو ہوا کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ گورنر بننے کیلئے بہت دوڑ دھوپ ہوتی تھی۔ اب گورنر کے پاس قبائلی اضلاع کے اختیارات نہیں رہے، یہ اختیارات وزیراعلٰی کو مل گئے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلٰی کو ضم شدہ قبائلی اضلاع کے اختیارات ملنے پر محمود خان نے باجوڑ کا پہلا دورہ کیا، اس کے بعد وہ ضلع خیبر گئے۔

ان کے اس دورے کو بہت بڑی اہمیت دی جاتی ہے، انضمام کے بعد ان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ وزیراعلٰی محمود خان کی جانب سے لیویز اہلکاروں کیلئے بہت بڑا اعلان سامنے آیا، دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے لیویز اہلکاروں کے خاندان کو عام شہریوں کی شہادت پر جو پیکج دیا جاتا تھا وہ ملتا تھا، اور اب خیبر پختونخوا پولیس کے شہداء کیلئے جو پیکیج ہے وہی لیویز اہلکاروں کے خاندانوں کو بھی ملے گا۔ وزیراعلٰی نے اس عزم کو دہرایا کہ صوبائی حکومت وفاق سے ملنے والے سالانہ 100 ارب روپے قبائلی اضلاع کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی پر خرچ کئے جائیں گے، جس سے قبائلی اضلاع کی تقدیر بدل جائے گی۔ انضمام سے قبل قبائلی اضلاع میں ایف سی آر کا قانون نافذ تھا جس سے قبائلی عوام تنگ آ چکے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ قبائلی علاقوں سے فاٹا کے خاتمہ کی آوازیں اُٹھنے لگیں اور اس مقصد کیلئے احتجاجی مظاہرے اور کوششیں ہوئیں، جو بالاخر بارآور ثابت ہوئیں۔ قبائلی اضلاع میں ماضی میں لوٹ مار ہوتی رہی، کرپشن اپنے انتہا کو پہنچ چکی تھی، وہ ترقی نہیں ہو رہی تھی جو ملک کے دوسرے اضلاع میں ہوا کرتی تھی۔

اب قبائلی عوام میں اُمید جاگ اٹھی ہے کہ انضمام کے بعد ان کی تقدیر بدل جائے گی۔ وزیراعلٰی کے دورے کے دوران ان کے جذباتی نیک تھے، اگر اسی جذبے سے قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے تو قبائلیوں کی تقدیر بدل جائے گی۔ قبائلی اضلاع سے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر ہے، اگر کرپشن ختم نہ ہوئی تو 100 ارب روپے سالانہ خرچ ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلٰی نے عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا، تاہم صوبائی حکومت تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔ عدالت عظمی سے عدالتوں کے قیام کیلئے وقت مانگا گیا ہے، جس سے صوبائی حکومت کے اقدامات کا اندازہ ہوتا ہے۔ قبائلی علاقوں کے عوام کو سستے اور بالاخر انصاف کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاخیری حربوں کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ وزیر اعلٰی کی جانب سے پاک افغان سرحد ناوا پاس اور غاخی پاس کھولنے کے اعلان کا ہر سطح پر خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ طویل عرصے سے مہمند اور باجوڑ سمیت کئی قبائلی علاقوں میں پاک افغان سرحد بند ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے۔

وزیراعلٰی کے اعلانات کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے، جب خیبر پختونخوا اسمبلی میں قبائلی اضلاع سے ان کے نمائندے جائیں گے تو تب قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیاں دور ہو جائیں گی۔ قبائلی عوام کی جانب سے ایک وقت ایسا آنے کی امید کی جارہی ہے کہ جب صوبہ کا وزیراعلٰی قبائلی اضلاع میں سے ہوگا۔ ماضی میں قبائلی اضلاع کی محرومیاں دور کرنے کیلئے وہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے جن کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ صوبائی حکومت کی محرومیاں ختم کرنے کیلئے اقدامات تیز کرنے ہوں گے، ورنہ ان قوتوں کے موقف کو تقویت ملے گی جو فاٹا انضمام کے خلاف تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے کے باقی اضلاع کی طرح قبائلی اضلاع میں صوبائی حکومت کی عملداری یقینی بنائی جائے، سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں میں کمی لائی جائے، شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے۔ سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو سرحدوں کی حفاظت تک محدود کیا جائے اور پولیس کو تعینات کیا جائے، تب جا کر قبائلی اضلاع کے عوام کا حکومت پر اعتماد بحال ہو سکے گا۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …