منگل , 13 اپریل 2021

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

(تحریر: طاہر یاسن طاہر)

دیکھیے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

حضرتِ غالب کا یہ مصرعہ زبانِ زد عام ہے، جو عنوان بنایا گیا ہے۔ شعر کی تشریح کالم کا موضوع ہی نہیں، نہ اس کا یہ موضوع محل ہے۔ بس اسی ایک مصرعہ کو گنگناتے ہوئے ہم بھی نئے عیسوی سال کو چشمِ تصور میں ملک و ملت کے لیے خوش آئند سمجھ رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ زمینی حقائق اس خواہش سے میل کھاتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا ایسا ہو جائے گا کہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا؟ کیا معیشت کی گاڑی درست سمت کی طرف سفر شروع کر دے گی؟ کیا توانائی بحران حل ہو جائے گا؟ اور کیا 50 لاکھ گھروں کی تکمیل کے وعدے کا سنگ بنیاد رکھ دیا جائے گا؟ نیز یہ یقین بھی کر لیا جائے کہ مستحق افراد کو بغیر کسی سفارش اور کمیشن ایجنٹوں کے گھر مل جائیں گے؟ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ کیا ایک کروڑ نوکریوں کے ہدف کی طرف بھی حکومت توجہ دے پائے گی اس سال یا نہیں؟ اور اگر توجہ دے گی تو کون کون سے سیکٹر میں نوکریوں کی گنجائش پیدا کی جائے گی۔؟

کیا ڈیم کا کام اس سال "ایسی رفتار” سے شروع ہوسکے گا کہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ مقررہ مدت کے اندر مہمند ڈیم کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا؟ کیا واقعی کرپشن میں لتھڑے معاشرے کے ان افراد اور طاقتوروں کو سزا مل سکے گی، جن کے باعث ملک قرضوں میں جکڑا گیا؟ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ کیا واقعی احتساب بے لاگ ہوگا یا اس احتسابی عمل پر اس سال بھی سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے جیسے طعنوں کا سامنا رہے گا؟ نیز یہ کہ کیا حکومت کی اپنی کابینہ حکومت کے لیے نئے مسائل تراشنا بند کر دے گی یا یونہی جارحانہ سیاسی رویہ اپنائے رہے گی؟ بہت سے چیزیں اور سوالات مزید ہیں۔ بے شک چار عشروں کے مسائل چشمِ زدن میں حل نہیں ہوتے۔ لیکن وہ جماعت جس کے "عالی دماغ” ٹیلی ویژن چینلوں پر بیٹھ کر اعداد و شمار کے ذریعے قوم کو اعتماد میں لے لیتے تھے، ان کی "کاریگری” کے ہنر تا دمِ تحریر نہیں کھل سکے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گذشتگان پر حرف گیری موجودہ حکومت کی ساکھ کو کمزور تر کرتی جائے گی۔ ٹیلی ویژن پر بیٹھ کر مسائل حل ہوتے تو حکومتوں کے بجائے "اینکرز” ہی حل کر دیتے۔۔۔

گذشتگان اگر قوم کی یاوری کرتے تو لوگ پی ٹی آئی کو قبول کیوں کرتے؟ سادہ بات ہے کہ لوگوں نے اگر پی ٹی آئی کو ووٹ دیئے تو انھوں نے گذشتگان یعنی پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو مسترد کیا ہے اور ایک نئی جماعت کو قبول کیا ہے۔ اس قبولیت کے پیچھے چار عشروں کی محرومیاں اور تکالیف ہیں۔ عمران خان کے وعدوں اور دعووں میں لوگوں کو عافیت اور بہتری نظر آئی۔ اب اگر پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں کے بڑے مسائل حل کرنے کے بجائے، آج سے چار برس قبل والا وہی جارحانہ لب و لہجہ استعمال کرتی رہی تو ہر گزرتے وقت کے ساتھ عوام میں مایوسی اور ناامیدی گہری ہوتی جائے گی۔ لوگ پلٹ کر انہی کرداروں کی طرف دیکھیں گے، جو موجودہ صورتحال کا سبب بننے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت کی بگڑتی صورتحال اور سیاسی عدم استحکام ہے۔ وزیراعظم معیشت کی بحالی کے لیے دوست ممالک کی طرف زیادہ جھکائو رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے بعد یو اے ای نے بھی یقین دھانی کرا دی ہے۔

تازہ خبر آج یہ سنی گئی کہ متحدہ عرب امارات نے تقریباً 6 ارب 20 کروڑ ڈالر کے سپورٹ پیکج کی شرائط و ضوابط کو حتمی شکل دے دی ہے اور اس کا اعلان ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورہ پاکستان کے درمیان متوقع ہے۔ پیکج میں 3 ارب ڈالر نقد جمع کرانے کے علاوہ مؤخر ادائیگیوں پر 3 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کی فراہمی بھی شامل ہے۔ یو اے ای کے پیکج کی شرائط و ضوابط اور سائز بالکل ویسا ہی ہے، جیسا سعودی عرب کی جانب سے دیا گیا تھا۔ کوئی ماہر معاشیات ہی ان اعداد و شمار کو پرکھ کر آئندہ کا منظر نامہ ترتیب دے سکتا ہے۔ میں تو اس حوالے سے بھی غالب کا ہی سہارا لوں گا کہ

ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

ادائیگیوں کی یہ "رونق” اور اعداد و شمار کا خوش کن ہیر پھیر عارضی علاج ہے، بالکل جز وقتی۔ مریض کا علاج اس کی مرض کے مطابق نہیں۔ کیا تین چار ماہ کے بعد ہم پھر کسی دوست ملک کے سامنے دست ِ طلب دراز کر رہے ہوں گے؟ یا پھر ہمیشہ کے "دوست” آئی ایم ایف دستِ شفقت دراز کرے گا؟

ڈالر کی اڑان کیسے رکے گی؟ مہنگائی کے گھوڑے کو کیسے لگام دی جائے گی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو کیسے راغب کیا جائے گا؟ اس حوالے سے حکومت نے ابھی تک کسی بڑے عزم کا اظہار نہیں کیا، اگرچہ بیانات کی حد تک موجود ہے لیکن عملی طور پر گہری خاموشی ہے۔ یہ سال بیرونی قرضوں سے نجات کا سال نہ ہو، مگر بیرونی قرضوں پر انحصار کا سال بھی تو نہیں ہونا چاہیئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کی روش یہی رہی تو اپوزیشن جماعتیں یکجان ہو کر حکومت کو مزید ہچکولے دیں گی۔ اس ملک نے کیسے آگے بڑھنا ہے؟ اس کا تعین اسی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہو جائے۔ اگر یہ کام خدانخواستہ حکومت نہ کر پائی تو غالب کے مصرعہ کی پیشنگوئی غلط ثابت ہو جائے گی اور ہم ایک بار پھر انہی عطار کے لونڈوں سے دوا لینے چل پڑیں گے، جن کے سبب غربت، افلاس، مہنگائی اور کرپشن جیسی بیماری کا شکار ہوئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …