ہفتہ , 17 اپریل 2021

آج شہید اعتزاز حسن کی برسی ہے

(تحریر سید فرخ رضا ترمذی)

شہید اعتزاز حسن بیٹا تجھے سلام
شہید اعتزاز حسن بیٹا تو نے شجاعت علوی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح خود کش دہشت گرد کا راستہ روکا اور اپنے سیکڑوں ہم مکتب ساتھیوں کوبچایا وہ تجھے ہمیشہ زندہ رکھے گا .

شہید اعتزاز حسن بیٹا تو نے 15 برس کی عمر میں شہادت کا جام پی کر سنت حضرت قاسم ابن حسن پر عمل کیا اور شاید تجھے بھی موت شہد سے زیادہ میٹھی لگی ہو
شہید اعتزاز حسن بیٹا تجھے ریاست نے ایک سال بود تمغہ شجاعت دیا مگر تیرے آقا و مولا نے تو اسی روز تجھے تمغہ شجاعت و عزت عطا کردیا ہوگا جب تو 6 جنوری 2014 کو آن کے حضور حاضر ہوا ہوگا.

شہید اعتزاز حسن بیٹا تم تو ان عام سے نوجوان تھے مگر شاید بچپن سے ماں نے جن کی محبت ترے دل میں بھر دی تھی آس محبت نے تجھے اس قدر جرات مند کردیا تھا کہ تو نے اپنے آج اس قوم کے بچوں کے کل کے لئےقربان کردیا ۔

سلام ہو تجھ پر اے شہید اعتزازحسن بیٹا
6 جنوری 2014 کا دن بھی طلوع تو عام دنوں کی طرح ہوا مگر جب غروب ہوا تو خاص دنوں کی طرح کی اب ہر برس یہ دن اعتزاز حسن شہید کا دن کہلائے گا.
6جنوری 2014 کی ٹھٹھرتی صبح پروین بیگم نے بڑے پیار سے اپنے بیٹے کو سکول کے لئے بیدار کیا۔ بچہ لحاف اوڑھے سکول نہ جانے کی ضد کر رہا تھا، شائد کوئی قوت اسے آج گھر سے نکلنے سے روکنا چاہتی تھی لیکن ماں نے بچے کی تعلیم کی خاطر ایک نہ سنی، بچے نے مزیدار ناشتے کی فرمائش کی شائد اسی بہانے ماں اس کی بات مان لے۔پروین بیگم نے بڑے چاؤ سے بیٹے کے لئے پراٹھا اور انڈہ بنا دیا جسے کھا کر ننھا اعتزاز گورنمنٹ ہائی سکول ابراہیم زئی، ہنگو کے لئے روانہ ہوا۔ ضلع ہنگو پاکستان کے شمال میں صوبہ خیبرپختونخوا میں واقع ہے جس کی آبادی قریباً پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، یہ مقام تازہ پانی کے ذخائر اور پھولوں کی کئی اقسام کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اعتزاز جب اپنی والدہ کو الوداع کہہ کر سکول کی جانب روانہ ہوا تو سورج بادلوں کی اوٹ سے نکلنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ہنگو روڈ کوہاٹ پر اِکا دُکا گاڑیاں چل رہی تھیں، گورنمنٹ سکول ابراہیم زئی ہنگو کے لان میں ملیشیا شلوار قمیض اور کالی ٹوپی پہنے بچے سکول میں جمع ہو رہے تھے۔

اعتزازحسن، شاہ زیب الحسن اور زاہد علی سکول میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ اعتزازحسن کی نظر26سال کے نوجوان پر پڑی جو چادر اوڑھے مشکوک انداز میں سکول کی طرف بڑھ رہا تھا جس کا ایک ہاتھ چادر سے باہر تھا اور دوسرے ہاتھ سے اس نے چادر کے اندر کسی چیز کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ ننھے اعتزاز حسن نے جو پچھلےپندرہ سال میں دہشت گردی کے ماحول میں بڑا ہوا تھا اور چھٹی جماعت کا طالب علم تھا فوراً خطرے کو بھانپ لیا، اس نے ایک طرف اپنے سکول کی طرف نظر دوڑائی‘ اظہر سکول اسمبلی کو لیڈ کرنے کے لئے تیار تھا، نوازش، منتظر، ۔۔۔ علی، علی حیدر اور محمد حسین ۔۔۔ پاک سر زمین شاد باد پڑھنے کی تیاری کر رہے تھے جبکہ علی اور حیدر‘ علامہ اقبال کی نظم ’’لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری‘‘ کی ریہرسل کر رہے تھے، دوسری جانب وہ مشکوک نوجوان تیزی سے سکول کی جانب بڑھ رہا تھا۔ ایک طرف اعتزاز حسن کے ساتھیوں کا ہجوم تھا جو سکول میں مستقبل کے سہانے خواب سجائے سکول کے صحن میں جمع تھے اور دوسری طرف اعتزاز حسن ایک کٹھن مرحلے سے دوچار تھا‘ اسے فیصلہ کرنا تھا کہ اپنی جان بچائے یا سکول کے بیسیوں ساتھیوں کی۔ علی حیدر کی آواز میں اقبال کی نظم اعتزازحسن کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی ’’زندگی شمع کی صورت ہو خُدایا میری‘‘ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ننھا اعتزازحسن مشکوک نوجوان سے لپٹ گیا۔ قنبر عباس ابھی دُکان میں چیزیں ترتیب ہی دے رہا تھا، پروین بیگم نے تو ابھی بچے کے ناشتے کے برتن بھی نہ سنبھالے تھے کہ یکایک دھماکہ ہوا اور اعتزاز کی زندگی کا چراغ بجھ گیا، کلاس میں آخری بینچ پر بیٹھنے والا اعتزاز آج سب پر بازی لے گیا۔ ہنگو کی فضا میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی.

’’زندگی ہو میری پروانے کی صورت یا رب‘
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب۔‘‘

اعتزاز حسن خود تو شمع کی مانندجل گیا ۔ننھے اعتزازحسن کا جسم جب ہوا میں اُچھلاتو اُس کی آنکھیں اپنے ہم مکتبوں کی طرف اُٹھیں ان میں چمک تھی جو کہہ رہی تھیں کہ میں نے اپنا آج تمہارے کل کے لئے قربان کر دیا۔ننھے اعتزازحسن نے اپنی عمر اور اپنے قد سے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔

اعتزاز تم زندہ ہو اور زندہ رہو گے کیونکہ خدا کا وعدہ پتلی شہید کبھی نہیں مرتے

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …