منگل , 13 اپریل 2021

افواہیں اور سیاسی صورتحال

(عبدالرحمان منگریو)

یوں تو پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی نادیدہ افواہی قوتیں متحرک رہی ہیں جن کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام کے کلچر کو پنپنے کا موقع دینے کے بجائے ملکی اُمور میں آمرانہ طرز اختیار کرنے کے کلچر کو فروغ دینے کی سازشیں کرنا رہا۔

جن سازشوں کے نتائج کے طور پر ملکی قیام کے چند ماہ بعد ہی سرحد کی منتخب حکومت کا تختہ غیر جمہوری طریقے سے ختم کیے جانے اور وزیر اعلیٰ سندھ کی ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے تبدیلی وغیرہ جیسے شواہد موجود ہیں جب کہ بنگالی رہنما کو ملک کی سربراہی نہ دینے کے تنازعے کے پیچھے بھی انھی نادیدہ افواہی قوتوں کی سرگرمیاں کارفرما رہیں۔

تب افواہوں کے پیچھے متحرک رہنے والی نادیدہ افواہی قوتوں کے پاس صرف ایک ہی نکتہ ہوتا تھا کہ ’فلاں عمل سے ملک ٹوٹ جائے گا‘ ۔ پھر وقت نے ثابت کیا کہ اُس افواہی پروپیگنڈا کے نتیجے میں کیے گئے اقدامات ہی 1971ء میں ملک ٹوٹنے کا باعث بنے۔ تب سے اِن نادیدہ افواہی قوتوں نے اپنی پروپیگنڈا کا ہدف تبدیل کیا کہ ملک کو ’فلاں کی کرپشن تباہ کردے گی۔

اس پروپیگنڈا کے نتیجے میں 1985ء کی غیر جماعتی بنیادوں پر قائم نیم جمہوری حکومت سے لے کر 1988ء سے 1999ء تک جماعتی بنیادوں پر قائم ہونے والی 4منتخب جمہوری حکومتوں کی برطرفی کے اقدامات اوراحتساب کمیشن، نیب، عدالتی ، جے آئی ٹی و دیگر کمیشن طرز کی کارروائیوں سے راجا پرویز اشرف سے نواز شریف کو ہٹانے تک تسلسل نظر آتا ہے ۔اور اب سندھ حکومت کو ہٹانے کے حالیہ پروپیگنڈہ میں بھی وہی نادیدہ افواہی قوتیں مکمل طور پر فعال نظر آئیں ۔

لیکن اس تمام تر صورتحال اور اقدامات کے باوجود ملک میں کرپشن میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے بلکہ کرپشن اس قدر نت نئے روپ لے کر آشکار ہوتی رہی ہے کہ ملک کا کوئی بھی ادارہ اس سے پاک نظر نہیں آتا۔ خیبر تا خضدار اور کشمیر تا کراچی سارا ملک کرپشن کے سجے دسترخوان پر آرام سے اپنا حصہ نوش فرماتے نظر آتاہے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر کوئی ایک دوسرے پر یہی الزام لگاتے نظر آتا ہے کہ ’فلاں کرپشن میں ملوث ہے، ’فلاں امین و صادق نہیں اور بدعنوانی کی گنگا کے بیچ اُترے ہونے کے باوجود ہر ادارہ ، ہر طبقہ اور ہر جماعت ایک دوسرے کو بدعنوان قرار دے رہے ہیں ؛حالانکہ ’’اس حمام میں سبھی ننگے ہیں ‘‘۔

اسی روایتی طرز عمل کی پیروی میں موجودہ حکومت توخود اپنے ِ قیام سے قبل ہی بالواسطہ یا بلا واسطہ اُلجھنیں اور افواہیں پھیلا کرملکی استحکام کو داؤ پر لگاکراقتدار پر ٹِکنے کی اپنی راہ ہموار کرتی آئی ہے ۔ ’ملک آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا جارہا ہے‘ ، ’ملک گرے لسٹ میں آجائے گا‘ ، ’ملک ریڈ لسٹ میں آجائے گا‘ ، ’ملک میں پیسہ نہیں ہے ‘اورپھر پی ای سی کی چیئرمین شپ کو کے ٹو بناکر اُسے سَر کرنے کی مہم کے دوران پھیلائی گئی افواہیں ، اور اب سندھ حکومت کو گرانے کی افواہیں گردش میں ہیں ۔

حالانکہ ہر افواہ اور اُس کی بنیاد پر اپنی اختیار کردہ پالیسی سے پی ٹی آئی اپنی ’قائدانہ اسٹریٹجی کی حامل پالیسی ‘ کے مطابق یوٹرن لیتی رہی ہے ۔ لیکن اُن کی اِن نت نئی اُلجھنوں اور افواہوں کے باعث ملک مسائل کی ایک ایسی دلدل میں دھنستا جارہا ہے ، جہاں صرف پاتال کی گہرائی اور گھناؤنی تاریکی ہی ہماری منتظر ہے ۔

کیونکہ ان افواہوں سے جو ملک کو سیاسی ، سماجی اور معاشی طور پر نقصان پہنچتا ہے ۔ اُس کا تو کوئی ازالہ ہی نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ پاکستان میں سیاسی بالغ النظری کی ناپید صورتحال کا جوعالمی سطح پر شور ہے وہ بھی اسی افواہی ماحول کی وجہ سے ہے ۔ دوسری جانب ملکی معیشت و انڈیکس کاروبار کے عدم استحکام کی وجہ بھی یہی افواہیں ہیں جب کہ سماجی طور پر خلفشار پیدا ہونے میں بھی یہی افواہی ماحول اور نادیدہ افواہی قوتیں ملوث ہیں ۔

دیکھا جائے تو آج تک ہمارے ملک میں کوئی ایسا (Mechanism) مربوط نظام نہیں بن سکا ہے ، جس کے تحت اداروں کوایک دوسرے کے اُمور میں دخل اندازی سے باز رکھ کر اپنے اپنے اُمور تک محدود رکھا جاسکے ۔ حالانکہ ہر ادارہ اور تمام سیاسی جماعتیں آئین کی بالادستی کا راگ الاپتی رہتی ہیں ، لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ ایک طرف یہاں جب ،جس کا جی چاہتا ہے وہ آئین کو منسوخ کرکے LFOطرز کے اپنے قوانین لے آتا ہے ۔جب کہ دوسری جانب اُسی آئین کی چھتری تلے اداروں کی اختیارات پر کنٹرول کی رسہ کشی ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ یہ کیسا مکمل اور بالادست آئین ہے کہ جو اداروں کو آج تک اُن کے اختیارات نہیں سمجھا سکا۔ بلکہ 2درجن ترمیموں کے بعد بھی یہ مضبوط دستور نہیں بن سکا ہے ۔

اس سے یہی نظر آتا ہے کہ یا تو یہ آئین سرے سے غلط ہے یا پھر اس میں کوئی بنیادی کھوٹ ہے ۔ 1973ء کا آئین اور اُسی میں ہونے والی 18ویں ترمیم اس ضمن میں ایسی کوششیں ضرور تھیں، جنھیں درست سمت میں پیش قدمی کہا جاسکتا ہے لیکن انھیںانھیں منزل کی جانب جانیوالی سیڑھی کے پہلے ہی زینے پر دبوچ لیا گیا ؛73کے آئین کو دو مرتبہ منسوخ کرکے جب کہ 18ویں ترمیم کو اپنی روح کے مطابق لاگو ہونے سے روک کر ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آئین ملکی اُمور و جمہوری نظام سمیت اپنے خالق (بھٹو) کو بھی تحفظ نہ دے سکا ، تو وہ ملکی اکائیوں کو کیسے مضبوط کرسکتا تھا ؟

اسی وجہ سے آج تک ایک طرف اداروں کے مابین اختیارات کی یہ جنگ جاری ہے تو دوسری طرف جمہوریت کی بنیاد پارلیمانی نظام کو تو مداری کا’ بچہ جمہورہ‘بناکر رکھ دیا گیا ہے ، جو صرف مداری کی زبان بولتے ہوئے کبھی اِس کروٹ (وفاقی اُمور میں خانہ پچھاڑ کے لیے ) اُچھلتا رہتا ہے تو کبھی اُس کروٹ (صوبائی اُمور کو تہس نہس کرنے کے لیے ) پُھدکتا رہتا ہے ۔

اِن تمام باتوں کے درمیان میں اگر کسی چیز کو فروغ ملا ہے تو وہ ہے کرپشن ۔ جو ملکی بنیادوں میں دیمک بن کر اُسے اندر سے کھوکھلا کرچکی ہے اور اب وفاقی حکومت نے سندھ کی حکومتی جماعت (پی پی پی ) کی کرپشن کا علاج کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو ایک مرتبہ پھر افواہوں کی زد میں لاکھڑا کیا ہے ۔اِ ن افواہی ماحول سے پورا ہفتہ صوبہ سندھ کے تمام اُمور مفلوج رہے جب کہ اِ ن افواہوں سے نہ صرف صوبہ سندھ کا استحقاق مجروح ہوا ہے بلکہ ملک کے تمام جمہوری نظام کو پھر سڑک پر کھیلا جانے والا بندر تماشہ اور ’بچہ جمہورہ‘ بناکر رکھ دیا گیا ہے ۔

ایسا بھی نہیں کہ پی پی پی کی سندھ حکومت کوئی پارسا ہے اور وہ کرپشن میں ملوث نہیں ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی خانہ خراب ہے ۔ مگر گذشتہ کچھ عرصہ سے کرپشن کے خلاف صرف Targeted اور انتقامی طرز ِ عمل کے آپریشن کی وجہ سے اُلٹا پی پی پی دفاعی پوزیشن میں چلی گئی ہے ۔ایک طرف سندھ کی صوبائی حکومت کو گرانے کی افواہیں عروج پر تھیں تو اُس کے رد عمل میں وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کے سربراہوں کی معزولی کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں ۔ یعنی گذشتہ پورا ہفتہ ملک عام طور پراور بالخصوص صوبہ سندھ مفلوج بنارہا۔

دوسری جانب ملک میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے ادارے موجودہ نیب کے نظام پرتو بڑے پیمانے پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ نیب کی تشکیل سے لے کر نیب آرڈیننس اور کنٹرولڈ کارروائیوں کی روش نے بہت سے سوالات پیدا کیے ہیں ۔ اور اب تو عدالت میں بھی نیب کے طریقہ کار پر کیس زیر ِ سماعت ہے۔ اس ادارے کے غیر موثر ہونے کی ایک مثال گذشتہ ہفتے عالمی عدالت میں اس کے ہارنے والے مقدمے کی صورت میں سامنے آئی ہے ۔ جس میں یہ ثابت ہوا ہے کہ مشرف دور میں نیب نے براڈ شیٹ کمپنی کواس لیے ہائیر(Hire) کیا تھا کہ وہ ن لیگ اور پی پی پی کی ملکی کرپشن کے ساتھ ساتھ آف شور کمپنیوں اوراثاثوں کو ثابت کریں، لیکن کچھ بھی ثابت نہ ہوا اورنیب کو 8بلین روپے ادا کرنے پڑے۔ ملکی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا ۔

جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ملک میں موجود کرپشن کی انتہا کو کنٹرول کرنے میں مؤثر کردار نہیں رکھتا۔ اس لیے لازمی ہے کہ کرپشن کا ملکی سطح پر کوئی مؤثر اور مکمل علاج تلاش کیا جائے ، جو ملک میں یکساں اور متوازن اُصولوں پر بلاتفریق کارروائی کی بنیاد پر کام کرے ۔ ملک کے تمام اداروں کے اکاؤنٹس کو آڈٹ کے زمرے میں لایا جائے اور تمام اداروں کو اپنے بنیادی فرائض کی سرانجامی تک محدود رکھا جائے ۔ یہی ملک میں حقیقی تبدیلی ہوگی ، ورنہ تمام کام بندر کی طرح ایک دوسرے کے سروں سے جوئیں نکالنے کے کام کے مترادف سمجھے جائیں گے ۔

لیکن اُس سے ہٹ کر ملک کو حقیقی معنوں میں استحکام بخشنے کے لیے ملک کے وفاق کے ساتھ ساتھ اُس کے بنیادی ستونوں (صوبوں) کی مضبوطی کے حامل حقیقی جمہوری وفاقی نظام کو مضبوط کرنے کا ایک نیا سمجھوتہ ہی ملکی مسائل کے دیرپا نتائج کا حامل واحد حل ہے ۔جس میںوفاق و صوبوںاور اداروںکے اختیارات کا تعین کرکے اُنہیں ایک دوسرے کے اُمور میں دخل اندازی سے باز رکھنے کا طریقہ کار موجود ہو۔ اُس سے ملک ہر لمحہ اُٹھنے والے افواہی طوفان کے خطرے سے بھی محفوظ بن جائے گااور ملک کی اُن دشمن نادیدہ افواہی قوتوں سے بھی ہمیشہ کے لیے جان چُھوٹ جائے گی ۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس ملک کی جمہوری جماعتیں ابھی تک ایسی قوت بھی نہیں بن سکی ہیں ،جو ملک کے انتظامی اُمور میں پیدا ہونیوالے بھونچال کو جمہوری محاذ پر حل کرسکیں ، بلکہ یہاں ہمیشہ تھرڈ ایمپائر پر منحصر کرنے کی روایت کو جاری و ساری رکھا گیا ہے ۔ اسی لیے غیر جمہوری قوتیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہیں ۔ اِ س سے بھی ملک میں افواہی بھونچال برپا رہتا ہے ۔ جس وجہ سے موجودہ پی ٹی آئی حکومت خود اِس افواہی بھونچال کی زد میں ہے کہ ’’یہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرسکے گی ‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔

پھر جب کسی ایک پر بجلی گرتی ہے تو اُسے ماضی کے تمام جمہوری رہنماؤں پر ہونیوالے مظالم یاد آتے ہیں ۔ خصوصاً اگر ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو ایک ن لیگ نظر آتی ہے جو خود ماضی میں پی پی پی کی حکومت جانے پر خوشیاں کرتی رہی لیکن پانامہ کیس کی لپیٹ میں آنے پروہ جونیجو سے بھٹو یہاں تک کہ جی ایم سید پر ہونیوالے مظالم کی داستانیں سناتے دکھائی دی۔ دوسری پی پی پی ہے جوپانامہ کیس میں ن لیگ کے خلاف جے آئی ٹی کے مطالبے کررہی تھی اُسے آج جے آئی ٹی زہر لگ رہی ہے ۔ پھر آج پی ٹی آئی جس طرح ماحول پر گھوڑے دوڑا رہی ہے،مستقبل میںوہ بھی پی پی پی اور ن لیگ کی مظلومیت کے لیے نوحہ خوانی کرتی نظر آئے گی ۔

دیکھا جائے تو موجودہ حکومت بنی تو تبدیلی اور نئے پاکستان کی نوید پر تھی مگر اس کا طریقہ کار بھی وہی پرانا ہے ۔ گذشتہ حکومتوں کی طرح اہم قومی نوعیت کے مسائل پارلیمنٹ سے دور رکھے جارہے ہیں بلکہ شاید اُن سے بھی بدترین صورتحال ہے کہ خود وزیر اعظم بھی کئی اُمور پر ناواقف نظر آتے ہیں ، مثلاً گیس کمپنیز کی جانب سے رسد اور طلب کے معاملات چھپانے کا واقعہ سامنے آیا ہے ۔

اس لیے یہ ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ پارلیمنٹ منتخب ادارہ ہے، پھر چاہے وہ قومی ہو یا صوبائی اسمبلی ۔ اس پر بادشاہی طرز اور غیر پارلیمانی طریقوں سے کیے گئے فیصلوں سے گُریز ہی اس ملک کی لڑکھڑاتی جمہوریت کو چلتے رہنے کا سبب بن سکے گی ،ورنہ جمہوریت سے موجودہ پارلیمانی بیساکھیاں چھیننے کی کوشش کہیں ملک و ملت ہی کونہ اپاہج بنادے ۔

شاید اسی لیے ملک کے سنجیدہ و محب وطن طبقے کو یہ فکر لاحق ہے کہ جانے کب ان نادیدہ افواہی قوتوں پر ہمارے ملک کی دیدہ انتظامی طاقتیں قابو پاسکیں گی اور ملک میں افواہوں کے بجائے انتظامی نتائج کی بنیاد پر اقدامات کا جمہوری طریقہ رائج ہوگا۔ لیکن اُنہیں یہ اُمید ضرور ہے کہ جس دن اس پر پیش قدمی ہوئی اُسی روز سے کرپشن گھَٹ جانے کے ساتھ ساتھ ملکی عدم استحکام کو بھی بریک لگ جائے گی۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …