منگل , 20 اپریل 2021

کیا قیادت کا خلا پیدا ہورہا ہے؟

(محمود شام)

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے

کاں لگڑاں نوں مارن لگے، چڑیاں جرے ڈھائے

گھوڑے چگن اوڑیاں تے گدوں خوید پوائے

اپنیاں وچ الفت ناہیں کی چاچے، کی تائے

پیو پتراں اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے

سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، چوٹھے کول بہائے

اگلے ہو کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش بچھائے

بھوریاں والے راجے کیتے، راجیاں بھیک منگائے

بْلھیا! حکم حضوروں آیا، تس نوں کون ہٹائے

بلّھے شاہ (1757ء)

’’مسلمانوں میں کسی قسم کا اتحاد موجود نہیں ہے۔ وہ فرقوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ خود غرضی اور نفسا نفسی نے فرد کو ایک معاشرے سے الگ کر دیا ہے۔ فرد کی زندگی بے مقصد ہو چکی ہے۔ عدم تحفظ کے احساس نے سارے معاشرے کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔ ہر چیز ہر فعل اور ہر قدم بے یقینی کے جذبے پیدا کر رہا ہے۔ سفاکی اور بے اصولی نے تدبر اور اصولوں کی سچائیوں کو بے معنی بنا دیا ہے۔ وفاداری کا لفظ بے حرمت ہو چکا ہے‘‘۔

(شاہ عالم ثانی آفتاب۔ 1759ء تحقیق ڈاکٹر خاور جمیل)

آج اتوار ہے۔ آپ فرصت سے ہوں گے اور سمجھ ہی رہے ہوں گے کہ میں خود کو اور آپ کو 260سال پیچھے کیوں لے جا رہا ہوں۔ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ ڈھائی سو سال پہلے کی باتیں نہیں، یہ تو آج کی باتیں ہیں۔ وہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ کوّے عقابوں کو مار رہے ہیں۔ چڑیاں شاہین گرا رہی ہیں۔ گھوڑے کچرا کنڈیوں میں چر رہے ہیں۔ گدھے سبزہ زاروں میں عیش کر رہے ہیں۔ اپنوں میں محبت نہیں رہی۔ باپ بیٹوں میں اتفاق نہیں ہے۔ مائیں بیٹیوں کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔ صادق دھکے کھا رہے ہیں۔ جھوٹے مسند نشیں ہیں۔ اگلی صفوں والے کنگال ہو چکے ہیں۔ پچھلی صفوں والے قالینوں پر بیٹھے ہیں۔

بالکل صحیح! ہر طرف یہی مناظر ہیں۔ کیا وقت ہم پر ٹھہر گیا ہے۔ ڈھائی سو سال سے کیا ہم وہیں کھڑے ہیں۔ سرکاری خزانہ لوٹنے کی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں۔ دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے کہ دن رات خون پسینہ ایک کرنے والوں کی کمائی کس کس طریقے سے ہضم کی گئی۔ انہوں نے امانت دیانت اور صداقت کا یہی سبق پڑھا تھا۔ کیا قیادت کے مظاہر یہی ہوتے ہیں۔

بہت دور سے ایک فون آتا ہے۔ میاں نواز شریف کو تو پہلے ہی منظر سے ہٹا دیا گیا ہے، اب آصف زرداری کو بھی جیل بھیجنے کی تیاری ہے۔ کیا اس طرح قیادت کا خلا نہیں پیدا ہو جائے گا۔

میں سوچ رہا ہوں، ہم بھی کیسی قوم ہیں۔ اپنا سرمایہ اپنا اثاثہ لوٹنے والوں کو ہم اپنا قائد سمجھتے ہیں۔ جتنے سال یہ حکمران رہے، ہماری قیادت کرتے رہے، خزانے میں اضافہ ہوا یا خالی ہوتا رہا؟ ہم ان چند خاندانوں کو ہی اپنا رہبر، اپنا قائد سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ تو وہی مغلیہ دَور والے مناظر ہیں کہ ملک لٹ رہا تھا۔ طوائف الملوکی تھی۔ مگر ہمارے آبائو اجداد یہی سمجھتے تھے کہ بادشاہ کے ولی عہد کو ہی حکومت میں آنا چاہئے۔ دنیا اس وقت جمہوریت کے تجربے کر رہی تھی، یونیورسٹیاں تعمیر کر رہی تھی، ہم صرف مقبرے بنا رہے تھے، قلعے تعمیر کر رہے تھے۔ محلّات کھڑے کر رہے تھے۔ اب بھی ہم نئی قیادتیں تلاش کرنے کی بجائے پھر بلاول ہائوسوں، رائیونڈ اسٹیٹ اور بنی گالہ کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا کہ میری نسل یا ہم سے ذرا سینئر، جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے سرگرم رہنمائوں کی قیادت دیکھی، جنہیں ان قائدین کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے، ان کی جدوجہد دیکھنے کا شرف حاصل ہوا، جو سرکاری خزانے سے ایک پائی لینا بھی جرم سمجھتے تھے، آج ان لوگوں پر کیا گزرتی ہو گی جب وہ آج کے بزعم خود رہنمائوں کے بلند بانگ دعوے سنتے ہوں گے۔ سرکاری بنگلوں میں، سرکاری مہنگی گاڑیوں میں، سرکاری پیٹرول، سرکاری خرچ پر چارٹرڈ طیاروں میں سفر کرتے رہنمائوں کی آنیاں جانیاں دیکھتے ہوں گے۔

وقت کا تقاضا تو بہت ہی سیدھا سادا ہے۔ عام پاکستانیوں کی زندگی آسان کی جائے۔ ضرورت کی اشیاء سستی ہوں۔ ٹرانسپورٹ آرام دہ اور ارزاں، ہر فرد کا تحفظ، عزت، روزگار، مملکت کی ذمہ داری ہو۔ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ یہ بہت ہی عام سی ریاست کی بات ہے۔ ’ریاست مدینہ‘ تو بہت دور کی بات ہے۔ کہاں وہ عظیم دَور، کہاں ہم جیسے گناہ گار۔ جو ان منتخب ہستیوں کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہیں۔ قیادت کیا ہوتی ہے۔

ایک مثالی قیادت کے درجے تک انسان کیسے پہنچتا ہے۔
قیادت بھی ایک عشق ہے۔ جس کی ابتدا اور انتہا یہ ہوتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ جو قائد قوم سے عشق کی توقع رکھتا ہے، اسے قوم کو اعتماد کی اس منزل پر لے جانا چاہئے جب وہ سمجھے کہ اپنے آپ کو اس کے سپرد کرنے میں مکمل تحفظ ہے۔ حال بھی محفوظ ہے، مستقبل کو بھی کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ایسے قائد کے شب و روز کتنے شفاف ہونے چاہئیں۔ اس کی اولاد، اس کے ساتھی کتنے دیانت دار ہونے چاہئیں۔ انہیں احساس ہونا چاہئے کہ ہم تاریخ کے کس دَور سے گزر رہے ہیں۔ جن بحرانوں اور چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پہلی قومیں ان سے کیسے نبرد آزما ہوتی رہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں قیادتیں کتابوں کی دکانوں پر نظر آتی تھیں۔ تاریخ میں زندہ رہنے کی خواہش رکھنے والے تاریخ کے اوراق میں گم رہتے تھے۔ دینی مدارس، اسکول، یونیورسٹیاں، ملکی اور بین الاقوامی، ان کی تربیت کرتی تھیں۔ ہر ایک کو طویل جدوجہد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جیل میں جاتے تھے حق گوئی کے جرم میں۔ جتنے حقیقی عوامی رہنما تھے وہ کبھی ضمانت پر رہا ہونے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ ان کا اصرار یہ ہوتا تھا کہ یہ مقدمہ اور الزامات جھوٹے ہیں انہیں واپس لو تب ہم جیل سے باہر آئیں گے۔

قیادت اپنی پالیسیوں، تقریروں، منشوروں، مضامین سے قوم کو بتاتی ہے کہ وہ قوم کو کس سمت میں لے جانا چاہتی ہے۔ ایک قائد کو قوم کی مجموعی طور پر قیادت کرنا ہوتی ہے۔ داخلی اور عالمی مسائل کا ادراک ہونا چاہئے۔ پاکستان ایک عظیم مملکت ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے جو جغرافیائی مقام دیا ہے وہ دنیا کی قیادت کے لیے ہے۔ کشکول اٹھائے پھرنے کے لیے نہیں ہے۔ قدرت نے ہمیں سونا، گیس، تیل، تانبا، زرخیز زمینیں، دریا، سمندر سب کچھ دیا ہوا ہے۔ ایسے خطّے تو تاریخ میں بادشاہوں، حکمرانوں کے لیے بہت پُرکشش رہے ہیں۔ ان خطّوں نے ہی نامور علماء، مورخ، صوفیا پیدا کیے ہیں۔ جنہوں نے دلوں پر راج کیا ہے۔ ایسی اہم سر زمین، بے حساب قدرتی وسائل، پھر آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی، ایسے میں تو قیادت اور آسان ہو جاتی ہے۔

قوم کو طے کرنا ہو گا کہ ہمیں کس سمت جانا ہے۔ آئندہ پندرہ بیس برس کا روڈ میپ علاقائی اور عالمی تناظر میں کیا ہے۔ قوم سے مراد صرف پارلیمنٹ نہیں، دینی مدارس، یونیورسٹیاں، تاجر، صنعتکار، طلبا و طالبات، مزدور کسان سب ہیں، ٹھیکیدار نہیں۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …