پیر , 12 اپریل 2021

ہزاروں میل دور امریکی جنگیں

(تحریر: سرادر تنویر حیدر بلوچ)

ہم عمران خان کے یوٹرن کو ذہن میں رکھ کر مغالطوں کا شکار ہو رہے ہیں، جیسے یہ کہ امریکی صدر ٹرمپ کا نیا بیانیہ سامنے آیا ہے کہ وہ نئی پاکستانی قیادت سے جلد ملنے کے منتظر ہیں اور پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ افغان جنگ کے حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ ہم طالبان اور دوسرے لوگوں سے بات چیت کر رہے ہیں، امریکہ ہزاروں میل دور رہ کر ہی افغانستان میں کیوں لڑے؟ پاکستان اور روس کو بھی افغانستان میں مزید کردار ادا کرنا چاہئے۔ دلچسپ یہ ہے کہ دنیا میں امن قائم کرنے اور کیمونسٹ استبداد کیخلاف آزادی کے امریکی نعروں کے برعکس افغانستان میں روس کی مداخلت کو بھی درست قرار دیا۔ انڈیا خطے میں امریکہ کا دوسرا ساتھی ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ نریندر مودی نے افغانستان میں جتنے پیسوں میں لائبریری بنائی، امریکہ اتنے پیسے افغانستان میں 5گھنٹے میں خرچ کر دیتا ہے۔ لیکن انہوں نے ہمارے متعلق کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور دہرایا ہے کہ ماضی میں پاکستان ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا تھا، اس لئے پاکستان کو ایک اعشاریہ 3ارب ڈالر دینا بند کر دئیے، ایسے ملکوں کی امداد بند کر رہے ہیں‘ جو ہمیں کچھ نہیں دیتے۔

اسی سانس میں امریکی صدر نے ایک دفعہ پھر کہا ہے کہ اب وہ پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہش مند ہیں۔ یہ اس لیے حیرت و استعیجاب کا سبب ہے کہ گذشتہ سال انہوں نے جو موقف اپنایا تھا، یہ بیانات اس سے میل نہیں کھاتے۔ جیسے سال نو کے آغاز پر امریکی صدر کی جانب سے پاکستان سے دوبارہ تعلقات بہتر کرنے کی خواہش سے ایسا لگتا ہے کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھلنے کے آثار واضح ہو رہے ہیں۔ جہاں تک صدر ٹرمپ کے ان الزامات کا تعلق ہے کہ پاکستان ماضی میں ہمارے ساتھ ٹھیک طریقے سے نہیں چل رہا تھا، اس لئے پاکستان کو 1.3ارب ڈالر دینا بند کر دئیے اور ایسے ممالک کی امداد بند کر رہے ہیں، جو ہمیں کچھ نہیں دیتے تو اس پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ ونام ہے، یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں، صورتحال یہ ہے کہ امریکہ جس کو امداد کہہ رہا ہے، وہ زمانے اب گزر چکے،جب امریکہ، پاکستان کو امداد کے نام پر نقد رقم امریکی گندم، خشک دودھ اور بٹر آئل بطور امداد دیا کرتا تھا۔

یہ ایک امریکی تھی، جس کے ذریعے وہ ہزاروں میل جنگیں لڑتے رہے ہیں، حقیقت میں امداد نہیں ہوا کرتی تھی، بلکہ تب امریکہ کو پاکستان نے پشاور کے علاقے بڈھ بیر کے مقام پر ایک ہوائی اڈہ دیا تھا، جو امریکہ سابق سوویت یونین کیخلاف جاسوسی کیلئے استعمال کرتا تھا اور جہاں سے اڑ کر جانے والے جاسوس طیارے کو روس نے مار گرایا، اس کے پائلٹ پر مقدمہ چلایا تو خروشیف نے پشاور کے نقشے پر سرخ رنگ کا دائرہ لگا کر پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی بھی دی تھی اور حالیہ جس رقم کا تذکرہ صدر ٹرمپ نے کیا ہے، وہ بھی امداد نہیں، بلکہ افغان جنگ میں پاکستان کی خدمات، یعنی پاکستان کے اڈے، پاکستان کی شاہراہیں وغیرہ، استعمال کرنے اور خاص طور پر پاکستانی افواج اور عام لوگوں کی بے مثال قربانیوں کے عوض اور دیگر خدمات کا حقیر سا نذرانہ ہے، کیونکہ یہ رقم عظیم قربانیوں کا متبادل نہیں ہو سکتی، بلکہ جو نقصان پاکستان نے اٹھایا ہے، اس کا معاوضہ بھی کہیں زیادہ ہے، مگر یہ رقم روک کر امریکہ نے اپنی روایتی ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافی کا ثبوت دیا ہے، کیونکہ اس سے کہیں زیادہ رقم امریکہ کے ذمے بنتی ہے، جو ملک پیشگی رقم ادا کرنے کے باوجود ایف16 طیاروں کی فراہمی سے پاکستان کو محروم رکھے، بلکہ انہی طیاروں کو امریکہ ہی میں کھڑا کرکے ہینگرز کے کرائے بھی وصول کرے، اس کی اخلاقی کمزوری پر کیا تبصرہ کیا جائے۔

ٹرمپ کے موجودہ بیانات سے یہ اندازہ لگانا ابھی بھی ممکن نہیں کہ امریکی صدر کو اپنے نامناسب روئیے کا احساس ہوگیا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں دلچسپی رکھتا ہے، کہاں تک ٹھیک ہے۔ ممکن ہے یہ صرف موجودہ امریکی صدر کے لاابالی پن کا اظہار ہو، حقیقت اس کے خلاف ہو۔ البتہ امریکی صدر کے افغانستان پر روسی حملے کو جائز قرار دینے پر حیرت کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے اور جہاں تک بھارت پر طنز کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے بھی امریکہ کے منفی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، وہ پاکستان کو ہر طرف سے دباؤ میں لانے کیلئے بھارت کو جس طرح افغانستان میں اہم کردار دینے کی کوشش کرتا رہا ہے، اسے پاکستان کو کسی صورت نہیں بھولنا چاہیے۔ اب اگر صدر ٹرمپ نے اپنا بیانیہ بدلا، تو بھی ہمیں چوکنا رہنا ہوگا، عین ممکن ہے یہ امریکی مقتدر قوتوں کا فیصلہ نہ ہو، بلکہ محض ایک بیان ہی ہو۔ لیکن امریکی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہمارے بشمول مشرق وسطیٰ کے اسرائیل کی حمایت اور تائید کیلئے کئی یوٹرن بھی لیے ہیں اور ہزاروں میلوں پر پھیلی جنگوں کا جال بھی بچھایا ہے۔

امریکہ کی جنگیں دہائیوں پہ محیط ہیں، انکے مفادات پورے گلوب پر پھیلے ہیں، اسرائیل کو امریکی خارجہ پالیسی میں اہم نکتہ سمجھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کا بیان امریکی خارجہ پالیسی سے یوٹرن نہیں۔ البتہ پاکستان میں محب وطن حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ناجائز صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بانی پاکستان کی پالیسی اور اسلامی و اخلاقی اصولوں سے انحراف کے اشارے سامنے آ رہے ہیں، لیکن حکومت واضح تردید اور انکار نہیں کر رہی۔ افغانستان میں ہمیں دباؤ کا سامنا تھا، لیکن افغان امن عمل میں سعودی اور اماراتی کردار یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمیں مشرق وسطیٰ کے حالات سے جوڑ کر خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کرنے پر آمادہ کیا جا رہا ہے، سوائے اس کے حکومت کے پاس اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے متعلق واضح طور اعلان کرنے میں ہچکچاہٹ کی کوئی وجہ نہیں ہو سکتی، بجائے اس کے اسرائیلی شہریوں کا پاکستان میں سیاحت کے مواقع فراہم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ حقانی گروپ کا بازو مروڑ کر امریکہ کے سامنے بٹھانے اور صدر ٹرمپ کے بیان پر بغلیں بجانے کی بجائے، پاکستان کی نظریاتی بنیاد سے انحراف کرنے کی بجائے ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پہ قائم رہنا چاہیے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …