بدھ , 21 اپریل 2021

سعودیہ کے بعد امارات کا مالی پیکیج

(ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ)

گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی ڈویلپمنٹ فنڈ نے پاکستان کو 6.2ارب ڈالر کا مالی پیکیج فراہم کرنے کا اعلان کیا جس میں 3.2ارب ڈالر تیل کی ادھار سپلائی اور 3ارب ڈالر اسٹیٹ بینک اکائونٹ میں کیش جمع کرانا شامل ہے۔ اس طرح پاکستان کو 7.9ارب ڈالر کا تیل اور گیس سعودی عرب اور امارات سے مل سکے گا جو ہماری تیل کی امپورٹ کا 60فیصد ہے۔ اس سے پہلے سعودی عرب نے 3ارب ڈالر پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کیلئے دینے کا اعلان کیا تھا جس میں سے ایک ایک ارب ڈالر کی دو قسطیں نومبر اور دسمبر میں اسٹیٹ بینک میں منتقل کی جا چکی ہیں جبکہ بقایا ایک ارب ڈالر جنوری میں منتقل کرنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب جنوری 2019ء سے 3ارب ڈالر کے 3سال کے قرضے پر تیل فراہم کرے گا۔ دوست ممالک کے مالی پیکیجز سے ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم ہوئے ہیں اور 14دسمبر 2018ء کو اسٹیٹ بینک کے ذخائر 8ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے ڈپازٹ ملا کر 14ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ سعودی اور اماراتی پیکیج سے مالی اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل کمی کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر مستحکم رکھنے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ حکومت کو آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج کے مذاکرات میں مدد ملے گی جبکہ چین کی طرف سے بھی پاکستان کو آئندہ دنوں میں 2ارب ڈالر کا اسٹیٹ بینک میں سافٹ ڈپازٹ رکھنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم کی ایڈوائزری کونسل کے ممبر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اب آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر کا بیل آئوٹ پیکیج لینے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان انٹرنیشنل کیپٹل مارکیٹ میں ایک ارب ڈالر تک کے سکوک، یورو بانڈ بھی جاری کر سکتا ہے لیکن میرے نزدیک پاکستان کا آئی ایم ایف سے بیل آئوٹ پیکیج لینا ناگزیر ہے کیونکہ آئی ایم ایف پیکیج دیگر مالی اداروں کیلئے ایک طرح کی کلین چٹ (NOC) ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ ادارے پاکستان کو مالی مدد کرتے ہیں اور پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ برقرار رہتی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کفایت شعاری اور معاشی پالیسیوں کی مدد سے امپورٹ میں کمی، ایکسپورٹ اور ترسیلاتِ زر میں اضافہ، بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے ڈالر بانڈز کا اجرا جیسے اقدامات کرے تاکہ مالی اور تجارتی خسارے میں کمی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ ابوظہبی ڈویلپمنٹ فنڈ نے پاکستان میں توانائی، صحت، تعلیم اور سڑکوں کے 8ترقیاتی منصوبوں میں 1.5ارب درہم کی سرمایہ کاری کی ہے اور 931ملین درہم گرانٹس دی ہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے تعلقات میں بہتری کا سہرا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو جاتا ہے جس میں میرے دوست پاکستان میں سعودی عرب کے تعینات سفیر نواف بن سعید المالکی کا بھی کردار ہے جو سفیر بننے سے پہلے پاکستان میں سعودی عرب کے ملٹری اتاشی تعینات تھے، جس کی وجہ سے ان کے جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے قریبی مراسم ہیں۔ گزشتہ دنوں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی میری بیٹی کی شادی میں شرکت کیلئے خصوصی طور پر کراچی آئے تھے۔

اس موقع پر میں جنرل قمر جاوید باجوہ کے تہنیتی پیغام، سابق صدر ممنون حسین، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، جنرل (ر) احسان الحق، خورشید شاہ، آغا سراج درانی، نثار کھوڑو، منظور وسان، افتخار علی شیروانی، ایس ایم منیر، سراج تیلی، ڈاکٹر عاصم حسین، سراج الدین عزیز، ترکی، ایران، بحرین، جاپان، تھائی لینڈ کے قونصل جنرلز اور دیگر معزز مہمانوں کی شرکت پر اُن کا شکر گزار ہوں۔ میں فیڈریشن کی جانب سے پاک یو اے ای جوائنٹ بزنس کونسل کا گزشتہ ایک دہائی سے چیئرمین ہوں اور متعدد بار پاک یو اے ای کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں دونوں ممالک کے وزیر خارجہ کے ساتھ شرکت کی ہے اور میں نے گزشتہ حکومت میں پاک یو اے ای تعلقات میں سرد مہری محسوس کی۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل کے چند اثاثوں کی ملکیت پی ٹی سی ایل کو منتقل نہ کرنے پر انہوں نے نجکاری کے بقایا 8سو ارب ڈالر کی ادائیگی روک رکھی ہے۔ اسی دوران بھارت نے متحدہ عرب امارات میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے لہٰذا یہ خوش آئند بات ہے کہ سعودی عرب کے توسط سے پاک امارات تعلقات دوبارہ بحال ہوئے ہیں۔ مشرف کے دورِ حکومت میں یو اے ای پاکستان میں سب سے بڑا سرمایہ کار ملک تھا۔ امارات کے ابوظہبی گروپ جس کے چیئرمین شیخ نیہان بن مبارک النہیان ہیں جو پاکستان کے ایک اچھے دوست ہیں اور پاکستانیوں کو سپورٹ کرتے ہیں، نے پاکستان میں مختلف منصوبوں میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ خلیجی ممالک میں یو اے ای پاکستانی ورکرز کو ملازمتیں دینے کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ اس لحاظ سے خطے میں یو اے ای پاکستان کیلئے نہایت اہم ملک ہے۔

قطر کو 2022ء کے عالمی فیفا کپ کی میزبانی دی گئی ہے جو قطر کیلئے بڑے اعزاز کی بات ہے اور جس کیلئے قطری حکومت جوش و خروش سے انتظامات میں مشغول ہے۔ جنرل باجوہ نے گزشتہ دنوں امیر قطر سے قطر میں ملاقات کی۔ قطر چاہتا ہے کہ پاکستان فیفا کپ کے سیکورٹی کے انتظامات میں مدد کرے جو پاکستان کیلئے بھی ایک اعزاز ہے کیونکہ پوری دنیا میں پاکستانی افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ دیگر ممالک افغانستان، عراق، یمن اور شام اب تک دہشت گردی کی آگ کی لپیٹ میں ہیں۔ قطر پاکستان کو بڑی مقدار میں ایل این جی گیس سپلائی کرتا ہے اور پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ قطر ایل این جی کی ادائیگیوں کیلئے ادھار کی سہولت دے۔ اس کے علاوہ جنرل باجوہ نے چین، ایران، ترکی، مصر اور افغانستان کے دوروں میں اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئی۔ بھارت کے ساتھ کرتار پور بارڈر کھولنے میں بھی جنرل باجوہ کی کاوشیں شامل ہیں۔

پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر میں نے 2017-18ء میں 7کالم تحریر کئے جس میں پاکستان کے ناقابل برداشت قرضے، مختلف ادوار میں بیرونی قرضوں کا موازنہ، پرانے قرضوں کی ادائیگی کیلئے نئے قرضے، آئی ایم ایف سے قرض ناگزیر اور قرضوں پر قرضے کے عنوان سے کالم شامل ہیں۔ رواں مالی سال 5ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں، 18ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ، 35ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ اور گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے پیش نظر معیشت دانوں کا خیال ہے کہ ہمیں 31ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے جس کیلئے نئی حکومت کو 12ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکیج کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا ہے۔ مجھے امید ہے کہ دوست ممالک کی مالی امداد سے ہم نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھ سکیں گے بلکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے ہمیں تقریباً ایک سال کا ریلیف مل جائیگا، جس سے ہم ملکی ایکسپورٹس، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے اور لوٹی ہوئی دولت وطن واپس لاکر اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو برقرار رکھ سکیں گے۔بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …