منگل , 13 اپریل 2021

افغانستان میں ہندوستانی سرمایہ کاری اور خطے کا مستقبل

(تحریر: سید اسد عباس)

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے اور نیٹو افواج کے افغانستان میں داخلے کے وقت سے ہی ہندوستان کی افغانستان میں دلچسپیوں میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ہندوستان نے نیٹو افواج کو طالبان حکومت کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلیجنس اور تزویراتی مدد دی، جس کے سبب ہندوستان اور امریکا نیز اسرائیل کی قربتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ سرد جنگ کے سوویت اتحادی نے گذشتہ ایک دہائی میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ متعدد تجارتی، عسکری، سائنسی، تکنیکی معاہدے کیے ہیں۔ اگرچہ روس کے ساتھ اب بھی اس کے تجارتی اور عسکری معاہدے موجود ہیں، تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے بھارت روس کے علاوہ دیگر عالمی طاقتوں سے بھی اپنی قربتیں بڑھا رہا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات نئے نہیں ہیں۔ ابتداء میں تو ہندوستان نے اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہ کیا، تاہم ساٹھ کی دہائی میں دونوں ریاستوں کی سیکورٹی ایجنسیوں کے مابین روابط قائم ہوئے، جو بڑھتے بڑھتے اب ریاستی سطح پر آچکے ہیں۔ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ میزائل، ٹینک، آبدوز ٹیکنالوجی میں لاکھوں ڈالر کے معاہدے کیے ہیں، زرعی اور تعلیم کے شعبے میں بھی دونوں ممالک کے مابین روابط روز افزوں بڑھ رہے ہیں۔ یہی حال امریکہ بھارت تعلقات کا ہے۔

عالمی امور پر نظر رکھنے والے قارئین اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ کسی بھی خطے میں براہ راست مداخلت کے بجائے وہاں پراکسی کو جنم دیتے ہیں، تاکہ وہ ملک، گروہ یا حکومت اس خطے میں ان کے مفادات کی نگہبانی کرسکے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس اہم تزویراتی اور تجارتی خطے میں امریکہ اور اسرائیل کی نظر انتخاب اب بھارت پر ٹھہر گئی ہے۔ اس کی ایک وجہ تو خود بھارت کا امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کے لیے متوقع منڈی ہونا ہے، دوسری وجہ بھارت کا خطے کی مختلف ریاستوں بالخصوص چین کے حوالے سے موقف ہے۔ بھارت خطے کی وہ واحد ریاست ہے، جس کے چین کے ساتھ روابط زیادہ دوستانہ نہیں ہیں، بلکہ اکثر معاملات میں ان دونوں ممالک کی پالیسیز ایک دوسرے سے متصادم نظر آتی ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ چین اور روس کی خطے میں بڑھتی ہوئی فعالیتوں نیز ان ممالک کے عالمی منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لئے امریکا کے لیے بھارت سے بہتر کوئی ملک نہیں ہے، جو خطے میں اس کے مفادات کا تحفظ کر سکے۔ بھارت کا مفاد بھی مغربی ممالک کے تعاون اور مدد سے خطے میں موجود طاقتوں کے مقابلے میں ایک قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آنا ہے۔ اسی سبب ہم نے دیکھا کہ نیٹو فورسز کی افغانستان میں آمد کے وقت سے ہی امریکا اور نیٹو فورسز کا انحصار بھارت پر زیادہ ہوگیا۔ اس سلسلے میں بھارت کو سرمایہ کاری کے مواقع اور سہولیات مہیا کی گئیں۔ اگر ہم افغانستان میں بھارتی سرمایہ کاری اور منصوبوں کو دیکھیں تو اس کا حجم گذشتہ نصف صدی کی بلند ترین سطح پر موجود ہے۔

طالبان حکومت کے زوال کے ساتھ ہی نیٹو افواج کی مدد سے ہندوستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے منصوبوں لیے امداد کا آغاز کیا۔ کابل میں قائم ہندوستانی سفارتخانے اور سفارتی عملے کو 2002ء میں وسعت دی گئی۔ کابل میں قائم سفارت خانے کے علاوہ افغانستان کے مختلف شہروں منجملہ مزار شریف، ہرات، قندھار اور جلال آباد میں اقتصادی کونسل خانے قائم کیے گئے۔ ایک سابق افغان سفیر کے مطابق ہندوستان خطے کا واحد ملک ہے، جس نے افغانستان کی تعمیر نو میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے، اس کے علاوہ اس نے افغانستان کو اب تک 750 ملین ڈالر کی امداد مہیا کی ہے۔

ہندوستان افغانستان میں انفراسٹکچر، تعلیم، صحت، توانائی نیز تربیت کے شعبوں میں کام کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں اب تک اس نے افغانستان میں دو سو سے زائد تعلیمی ادارے تعمیر کیے ہیں۔ ہندوستان ایک ہزار سے زائد افغان طلبہ کو اعلی تعلیم کے لیے سکالر شپ مہیا کر رہا ہے، اسی طرح سولہ سو سے زائد طلبہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغان حکومت کے کئی ایک اہم راہنما ہندوستانی یونیورسٹیوں سے فارح التحصیل ہیں۔ جن میں حامد کرزائی، عبد اللہ عبداللہ اور موجودہ صدر بھی شامل ہیں۔ 2011ء میں ہندوستان نے افغانستان کو اڑھائی لاکھ ٹن گندم مہیا کی تھا۔ ہرات کا سلمہ ڈیم جسے فرینڈشپ ڈیم بھی کہتے ہیں، انڈیا کی مدد سے بنایا گیا۔ اس بند کی تعمیر میں تیس کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، جس میں دونوں ممالک کے پندرہ سو انجینیئروں نے مل کر کام کیا تھا۔

اسی طرح ہندوستان نے قندھار میں افغان نیشنل ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی اور کابل میں سفر کو آسان بنانے کے لیے ایک ہزار بسیں دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ افغانستان کے پاکستان پر انحصار کو کم کرنے کے لیے ہندوستان کے ادارے نے افغانستان کے دور دراز علاقوں میں ایک سڑک تعمیر کی ہے، جس سے افغانستان کی چاہ بہار تک رسائی آسان ہوگئی ہے۔ ہندوستانی ادارے افغان بیوروکریسی، پولیس اور اداروں کو تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں، ایک اندازے کے مطابق اب تک ہندوستان افغانستان میں دس بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرچکا ہے۔ جس میں نیٹو افواج کے نکل جانے کے بعد اضافے کا امکان ہے۔ ہندوستان افغانستان میں سٹیل انڈسٹری اور دیگر اہم معدنی شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ کسی بھی ریاست کا دوسری ریاست سے تعلق اور تجارتی رابطہ ہر دو ریاست کا بنیادی حق ہے، جس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے، تاہم ہندوستان کا افغانستان میں اثر و رسوخ ہندوستان اور پاکستان کے معروضی حالات کی روشنی میں پاکستان کے لیے تشویشناک ہے، جس کے پس منظر سے ہم سب آگاہ ہیں۔

تقسیم برصغیر پاک و ہند کے وقت سے ہندوستانی ریاست کا پاکستان کے ساتھ رویہ کسی سے پنہاں نہیں ہے۔ یہ دونوں نیوکلیائی ممالک گذشتہ نصف صدی میں ایک دوسرے سے بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں، سرحد پر ہلکی پھلکی جھڑپوں کا سلسلہ آئے روز کا معمول ہے، ایسی صورت میں بھارت سرکار کا مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ مغربی سرحد کی جانب سے بھی پاکستان پر ہجوم اور اقتصادی نیز آبی شعبوں میں پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے اقدامات ظاہراً بھارت افغان تعلقات کی بنیاد ہیں، جو اس خطے کو وقتی تعمیر و ترقی کے روپ میں ایک گہری کشمکش کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ اس صورتحال میں خطے کے اہم ممالک بالخصوص چین، روس، ایران اور پاکستان کو سفارتی ذرائع سے ایسے احتیاطی اقدامات ضرور اٹھانا چاہیئں، جس سے خطے کے حالات اس جانب نہ جاسکیں، جہاں امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی پراکسی یعنی بھارت کے ذریعے لے جانا چاہتے ہیں، کیونکہ خطے میں حقیقی امن ہی ان تمام ممالک کا مشترکہ مفاد ہے۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …