ہفتہ , 17 اپریل 2021

اسرائیلی پابندیوں کے باوجود غزہ کی سبزیاں یورپی منڈیوں میں!

فلسطین کا علاقہ غزہ کی پٹی گذشتہ 12 سال سے قابض صہیونی ریاست کی طرف سے مسلط کردہ پابندیوں کا شکار ہے۔ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ فلسطینی اتھارٹی نے بھی غزہ کے مظلوم عوام کی مصیبتوں میں اضافہ کرنےمیں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ ابتر معاشی حالات کےباوجود غزہ کی پٹی کے عوام ایک ایسے بابرکت پیشے سے وابستہ جس نے بہت سے شہریوں کے گھروں‌کے چولہے جلائے رکھنے میں‌ مدد کی ہے۔

یہ زراعت کا شعبہ ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود غزہ کی پٹی میں زرعی اجناس بالخصوص سبزیاں غزہ سے باہر غرب اردن حتیٰ کہ یورپی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔غزہ کی سبزیوں سے عرب ممالک بھی استفادہ کر رہے ہیں۔ سبزیوں کی برآمدات اہلیان غزہ کے لیے ایک نعمت سے کم نہیں کیونکہ یہ سب کچھ اس زرخیر مٹی کی بدولت ہے جو سال کےچاروں موسموں میں انواع واقسام کی فصلیں، سبزیاں اور پھل کاشت کرنے کا ذریعہ ہے۔

ذریعہ خوراک
فلسطینی زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فصلوں اور سبزیوں کی بہتات وہاں کی زرخیز مٹی کی بدولت ہے۔ یہ مٹی مقامی آبادی کے لیے خوراک کا ذریعہ ہے۔یہاں پر جس طررح کے موسمی حالات ہوں مگر زمین کی زرخیزی انواع واقسام کے پھل پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کئی قیمتی پھل جن میں انانا پائن ایپل شامل ہیں عرب اور یورپی ملکوں کو بھی برآمد کیے جاتےہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر غزہ کی پٹی کے عوام کو زراعت کے شعبے میں مزید سہولیات دی جائیں تو وہ پورے خطے میں بہترین معیار اور صحت مند سبزیاں کاشت کرسکتے ہیں۔ غزہ کے پھلوں کی بھی اپنی ایک خاص پہچان ہے جو یورپ جیسے ملکوں کو بھی بھیجے جاتے ہیں۔

برآمدات کا حجم
غزہ میں وزارت زراعت کے ڈائریکٹر تحسین السقا نے”مرکزاطلاعات فلسطین” سےبات کرتے ہوئے کہا کہ سال 2017ء کے دوران غزہ کی زراعت کی برآمدات کا حجم 33 لاکھ 700 ٹن تھا۔ یہ سبزیاں اور دیگر زرعی اجناس غرب ارن، اسرائیل، عرب ممالک اور یورپی ملکوں کو برآمد کی گئیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک غزہ کی سبزیوں کی برآمدات کا حجم 36 ہزار ٹن سے تجاوز کرچکا ہے۔ توقع ہے کہ اختتام سال تک یہ ججم 40 لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں ایک درجن کے قریب سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ ان میں ٹماٹر، ککڑی، کھیرا، بند گولی، پھول گوبی اور آلو خاص طورپر شامل ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …