جمعہ , 23 اپریل 2021

نیا پاکستان بھی امریکہ کا ہدف ہوگا۔۔۔؟؟؟

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

جس طرح بچھو کی فطرت ڈنگ مارنا، سورج کی فطرت روشنی دینا، رات کی فطرت اندھیرا، چاند کی فطرت چاندنی، تعفن کی فطرت بدبو، گلاب کی فطرت خوشبو ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی کچھ ممالک اور کچھ لوگوں کی بھی فطرت ہوتی ہے۔ یہی فطرت ان کی پہچان بن جاتی ہے اور یہ فطرت عادت سے جنم لیتی ہے۔ کوئی بھی عادت پالی جائے تو اس کے مسلسل تکرار سے کچھ عرصے بعد وہ فطرت بن جاتی ہے۔ امریکہ ایسی ہی ایک بلا کا نام ہے، جس کی فطرت ہی دھوکہ ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اس نے کبھی بھی کسی کیساتھ وفا نہیں کی۔ امریکہ کے وائٹ ہاؤس میں بلیک صدر ہو یا وائٹ، کام وہی کرے گا جو امریکہ بہادر کی پالیسی ہوگی۔ کوئی صدر اگر پہلے سے طے شدہ معیاروں سے باہر نکلنے کی کوشش کرے گا تو اسے مکھن سے بال کی طرح وائٹ ہاؤس سے نکال باہر کیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ وہ امریکی صدر ہیں، جنہوں نے آتے ہی سب سے پہلا جو کام کیا، وہ مسلمانوں پر امریکہ کی زمین تنگ کرنا تھا۔ غیر قانونی تارکین وطن کی آڑ لے کر ٹرمپ نے امریکہ میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا۔ اس کے بعد اس کا اگلا ہدف مسلمان ممالک تھے، جن کے باشندوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔ پاکستان بھی ابتداء میں ٹرمپی اعتاب کا شکار ہوا، لیکن اب ڈونلڈ ترمپ نے پینترا بدل لیا ہے۔ اب ٹرمپ صاحب فرماتے ہیں کہ پاکستان کیساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ایک دم امریکی رویئے میں تبدیلی اس بات کی غماز ہے کہ امریکہ کو ابھی ہم سے مزید کام نکلوانا ہے۔ امریکہ نے روزِ اول سے پاکستان کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہے۔ ہم اس خوش فہمی کا شکار رہے ہیں کہ ہم نے امریکہ کو استعمال کر لیا، مگر ایسا نہیں، اگر ہمارا موقف درست ہوتا تو ہم 70 ہزار جانوں کی قربانی نہ دیتے۔ ہمارا پورا ملک "چھاؤنی” بن چکا ہے۔ ہر دفتر، سکول، کالج، بازار میں سکیورٹی ایسے الرٹ ہے جیسے ابھی حملہ ہونیوالا ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہے؟ یہ امریکی دوستی کا صلہ ہے، جو ہمیں ملا ہے۔

وہی امریکہ جو کل تک ہمیں آنکھیں دکھا رہا تھا، پاک فوج کو کرائے کی فوج قرار دے رہا تھا، اچانک کابینہ اجلاس میں ٹرمپ نے کہہ دیا پاکستان کیساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ امریکہ نے اس لئے رویہ تبدیل کر لیا ہے کہ اسے اب طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے ایک بار پھر ہماری ضرورت پڑ گئی ہے۔ خود کو دنیا کی سپر پاور سمجھنے کے زعم کا شکار امریکہ، افغانستان میں طالبان کا شافی علاج نہیں کر سکا اور چلا ہے دنیا پر حکمرانی کرنے۔ اب بھی افغانستان کا 70 فیصد علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ صرف کابل پر افغانستان میں امریکہ کی بنائی ہوئی "میڈ ان یو ایس اے” حکومت قائم ہے۔ اب افغانستان سے جان چھڑوانے کیلئے امریکہ کو ایک بار پھر ہماری ضرورت پڑ گئی ہے۔ پاکستانی حکومت کو اس حوالے سے اب کی بار سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ کل تک امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ ہم صرف اسی کے کاسہ لیس ہیں، اس کی امداد کے بغیر نہیں جی سکتے، مگر پاکستان میں نئی حکومت نے عالمی پالیسیوں کو بھی تبدیل ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کے در پر جھکنے کے بعد سعودی عرب، ایران، ترکی، یو اے ای، ملایشیاء اور چین جیسے دوستوں کیساتھ رابطے کئے ہیں۔

فرینڈز آف پاکستان کی جانب سے گرین سگنل ملنے پر امریکہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی ہیں۔ اُسے توقع نہیں تھی کہ پاکستان پالیسی تبدیل کر لے گا۔ عمران خان کی حکومت میں پاکستان بہتری کی جانب سے گامزن ہے۔ عمران خان اس وقت بگڑے معاملات کے سلجھاؤ میں مصروف ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام تک بہتری کے ثمرات نہیں پہنچ رہے، مگر عوام اس پر بھی صبر کا دامن تھامے ہوئے ہیں کہ چلو بہتری آئے گی تو سہی۔ عمران خان نے جہاں کرپٹ عناصر کیخلاف مہم شروع کر رکھی ہے، اس حوالے سے بھی عوامی حمایت وزیراعظم کیساتھ ہے، مگر خارجہ پالیسی پر حکومت کو خصوصی فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص امریکہ کیساتھ تعلقات کے حوالے سے حکومت کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا، ضیاء الحق سے لے کر پرویز مشرف تک ہر آمر نے امریکہ کے در پر سجدے کئے اور قوم اب تک ضیاء الحق کی کاشت کردہ فصل ہی کاٹ رہی ہے۔ امریکی ہدایت پر ہی طالبان بنائے گئے اور جب افغانستان میں روسی انخلاء کا مقصد پورا ہوگیا۔ امریکہ نے وہیں طالبان کو بھی بے یار و مدد گار چھوڑ دیا اور پاکستان کو بھی جھنڈی کروا دی۔ حتیٰ بابائے طالبان مولانا سمیع الحق کو بھی نہ بخشا گیا اور ان کو بھی ان کی رہائش گاہ پر قتل کروا دیا گیا۔ بعض لوگ مولانا سمیع الحق کے اس قتل کے تانے بانے بھی امریکہ سے ہی ملا رہے ہیں۔

مولانا سمیع الحق کے قتل کے حقائق کیا ہے، شائد ضیاء الحق کے قتل کی طرح یہ بھی منظرعام پر نہ آسکیں، کیونکہ ہماری بے بسی کا عالم یہ ہے کہ ہم ضیاء الحق سے لیکر مولانا سمیع الحق تک جتنے "حق” ہوگئے ہیں، ان کے قاتلوں کو جاننے کے باوجود ان کا نام نہیں لے سکتے۔ اب اگر امریکہ نے اپنا پینترا بدل لیا ہے، تو ہمیں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہوگا، کیونکہ پاکستان مزید کسی خانہ جنگی کا متحمل نہیں ہوسکتا، اب پاکستان کو مستحکم کرنے کا وقت ہے اور حکومت درست سمت میں جا رہی ہے۔ اس لئے یہ راستے میں آنیوالا امریکی سپیڈ بریکر سرے سے ہی ہٹا دیا جائے تو رفتار کی تیزی برقرار رہے گی اور اگر حکومت انہیں الجھنوں میں الجھ گئی تو پھر سوائے ندامت کے ہاتھ ملنے کے ہمارے حصے کچھ نہیں آئے گا۔

کہتے ہیں تقدیر صرف ایک بار دروازے پر دستک دیتی ہے۔ کوئی جاگ جائے تو وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور اگر سویا رہے تو نصیب سو جاتے ہیں۔ امریکہ سے جان چھڑوانے کیلئے نئی حکومت نے جو پالیسی اختیار کی ہے، اسی پر کاربند رہے تو یہ تقدیر کی کرم نوازی ہوگی اور اسی میں ملک کی بہتری اور ترقی کا راز مضمر ہے۔ اگر ہم نے تقدیر کی اس دستک کو نظرانداز کر دیا اور ایک بار پھر امریکی جھانسے میں آگئے تو پھر ہمیں ایک اور جنگ کا سامنا کرنا پڑ جائے گا جو دہشتگردی کیخلاف نام نہاد جنگ ہم پہلے بھگت چکے ہیں۔ نئی حکومت کو امریکہ سے ہوشیار رہنا ہوگا۔ جبکہ فرینڈز آف پاکستان کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ مزید تیز کیا جائے اور تمام مسلم ممالک کیساتھ بہتر انداز میں معاملات آگے بڑھائے جائیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …