بدھ , 21 اپریل 2021

پناہ کی خواہشمند سعودی لڑکی کو تھائی لینڈ میں عارضی قیام کی اجازت

بنکاک (مانیٹرنگ ڈیسک)تھائی لینڈ کی عدالت سے ڈی پورٹ نہ کیے جانے کی استدعا مسترد ہونے کے باوجود آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند سعودی لڑکی کو وقتی طور پر تھائی لینڈ میں قیام کی اجازت دے دی گئی ہے۔

18 سالہ رحاف محمد القنون کو گزشتہ روز نامکمل دستاویزات کے سبب بنکاک ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا اور انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ’اگر انہیں آسٹریلیا میں سیاسی پناہ نہ ملی تو انہیں اپنے ہی اہلخانہ سے جان کا خطرہ لاحق ہے‘۔تھائی لینڈ کی امیگریشن پولیس کے سربراہ نے کہا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند لڑکی کو کچھ وقت کے لیے تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

میجر جنرل سراچاتے ہکپارن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی 18سالہ لڑکی کی درخواست کا جائزہ لے گی اور انہی کی جانب سے تحفظ فراہم کیے جانے پر انہیں تھائی لینڈ میں داخلے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی ایجنسی کو رحاف کے کیس کا جائزہ لینے میں کم از کم پانچ سے ساتھ 7دن لگیں گے۔تھائی حکام کی جانب سے اقوام متحدہ کی ٹیم کو رحاف سے ملنے کی اجزت دیے جانے کے بعد امیگریشن پولیس کے سربراہ نے اس بات کا اعلان کیا۔

لڑکی کو بنکاک ایئرپورٹ کے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اپنا کمرہ پہلے ہی چھوڑ چکی ہیں اور ان کی موجودہ رہائش گاہ کے مقام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کی ایجنسی کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ رحاف کو عالمی سطح کا تحفظ درکار ہے اور ہم ان کی صورتحال کا فوری حل نکالیں گے اور اسی وجہ سے ہم نے ان کی رہائش گاہ کے مقام کو خفیہ رکھا ہے۔

امیگریشن پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ رحاف محمد القنون کے والد پیر کی رات تھائی لینڈ پہنچ رہے ہیں اور ان سے ملاقات کے بعد حکام فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے اور یہ دیکھنا ہو گا کہ لڑکی اپنے والد کے ساتھ جانے پر رضامند ہوتی ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں پناہ کی خواہشمند نوجوان لڑکی کو اس کی خواہشات کے برعکس کہیں نہیں بھیجا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رحاف کو تھائی لینڈ سے ڈی پورٹ کرنے کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیم کے وکیل نیڈتھسیری برگ مین نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی لیکن بنکاک کی کرمنل کورٹ نے ان کی استدعا کو مسترد کردیا تھا۔

وکیل نے بتایا کہ عدالت نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کردی تھی کہ ان کے پاس موجود ثبوت ناکافی ہیں ۔اس کے بعد رحاف کو واپس کویت بھیجنا تھا لیکن کویت ایئرویز کی فلائٹ ان کے بغیر ہی روانہ ہو گئی تھی۔

رحاف محمد القنون کون ہیں؟
18 سالہ رحاف محمد القنون اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کویت کی سیاحت پر تھیں جہاں سے وہ بنکاک کے راستے آسٹریلیا جانے کی کوشش میں گرفتار ہوئیں۔اپنے اہلخانہ کی جانب سے قتل کیے جانے کے خطرے سے دوچار رحاف نے کہا تھا کہ ’میں نے مذہب سے متعلق کچھ باتیں کیں اور مجھے خوف ہے کہ سعودی عرب واپس بھیجنے کی صورت مجھے قتل کردیا جائے گا‘۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سفارتخانے نے ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا جس پر آسٹریلیا کا ویزا موجود ہے‘۔

نوجوان لڑکی نے اپنے اہلخانہ پر ذہنی و جسمانی ایذیت کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میرے اہل خانہ شدت پسند ہیں اور محض بال تراشنے پر 6 ماہ کے لیے کمرے میں بند کردیا‘۔سعودی لڑکی نے کہا کہ ’مجھے سو فیصد یقین ہے کہ جیسے ہی میں سعودی جیل سے باہر آؤں گی وہ لوگ مجھے قتل کردیں گے‘۔

امیگریشن حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رحاف شادی کی خواہش مند نہیں اور اسی لیے اپنے اہل خانہ سےراہ فرار اختیار کی اور اب انہیں سعودی عرب واپس جانے پر تحفظات ہیں‘۔

واضح رہے کہ اس طرح ایک واقعہ اپریل 2017 میں پیش آیا جب 24 سالہ ڈینا علی لسلوم نامی سعودی خاتون کو فلپائن میں روک لیا گیا تھا۔وہ بھی اپنے اہلخانہ سے فرار چاہتی تھیں تاہم انہیں سعودی عرب کے حوالے کردیا گیا تھا۔انہوں نے کینیڈا کے سیاح کا فون استعمال کرکے ویڈیو پیغام ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ ’ان کے اہلخانہ انہیں قتل کردیں گے‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …