منگل , 13 اپریل 2021

مرکزی جامع مسجد سرینگر کے منبر پر داعش کا پرچم

(رپورٹ: جے اے رضوی)

28 دسمبر 2018ء جمعۃ المبارک کے مقدس اور متبرک دن نماز جمعہ کے بعد مقبوضہ کشمیر کی تاریخی اور مرکزی جامع مسجد کے منبر پر کچھ شرپسند عناصر نے داعش کے پرچم لہرائے اور ساتھ ہی خلافت اسلامیہ کے نعرے بھی بلند کئے۔ مسجد میں موجود فرزندان توحید نے انہیں اس حرکت سے روکا اور بروقت منبر سے اتار دیا۔ واضح رہے کہ تاریخی جامع مسجد کشمیری مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادتگاہ اور رُشد و ہدایت کا سب سے اہم مرکز ہے۔ کچھ سر پھرے اور شرپسند عناصر نے جس غیر اسلامی اور غیر اخلاقی حرکت کا مذموم اور بدترین مظاہرہ کیا، اُس سے مسلمانان کشمیر میں شدید غم و غصہ پیدا ہوا۔ اس حرکت سے کشمیری مسلمانوں کے جذبات مجروح اور قلوب پاش پاش ہوئے۔ اس نازیبا حرکت کے خلاف جموں و کشمیر کی تمام دینی، ملی، سماجی اور سیاسی جماعتیں بیک زبان مجرمین کی مذمت کر رہی ہیں۔ اس شرمناک حرکت کے خلاف جو شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، وہ حق بجانب ہے کہ کس قدر دُکھ اور افسوس کی بات ہے کہ چند نقاب پوش نوجوان اللہ کے اس مقدس و محترم گھر کی عظمت و تقدس کی بے حرمتی پر اُتر آئے۔

اوقاف کمیٹی جامع مسجد سرینگر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام مسلمان جانتے ہیں کہ مسجد اللہ کا گھر ہے، شعائر اسلام ہے، مسلمانوں کی شناخت اور پہچان ہے۔ اسلام، مسلمان اور مسجد لازم و ملزوم ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کی توہین کرکے تمام اسلامی، ایمانی اور اخلاقی آداب و اقدار کو بالائے طاق رکھنے کی جو ناپاک کوشش شرپسند عناصر نے کی ہے، اُسے ہرگز معاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی مجرمانہ حرکت میں صرف اسلام دشمن، مسلمان دشمن اور تحریک دشمن افراد یا گروہ ہی ملوث ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے ہم سب واقف ہیں کہ تاریخی مرکزی جامع مسجد سرینگر مسلمانان کشمیر کی سب سے عظیم اور بڑی عبادتگاہ ہی نہیں ہے، بلکہ اسے کئی ایک پہلوؤں سے بھی اہمیت و عظمت کا مقام حاصل ہے۔

اوقاف کمیٹی کے بیان میں کہا گیا کہ مرکزی جامع مسجد سرینگر روزِ اول سے کشمیری مسلمانوں کی عقیدت اور روحانیت کا مرکز رہی ہے۔ 28 دسمبر کے اس افسوسناک و مجرمانہ سانحہ کے خلاف کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت کے علاوہ تمام دینی و سیاسی تنظیموں اور عوام الناس نے اس المیہ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے واضح لفظوں میں کہا کہ جو عناصر اس ناپاک حرکت میں ملوث ہیں یا جن سے دانستہ یا نادانستہ طور پر یہ مذموم حرکت سرزد ہوئی ہے، وہ اللہ تعالٰی کے غیظ و غضب سے بچنے کے لئے اپنی اصلاح کے لئے فوراً توبہ و استغفار کریں اور اس نازیبا غیر اسلامی حرکت کے ارتکاب پر مسلمانان کشمیر سے معافی مانگیں۔ علماء کرام نے کہا کہ خانہ خدا کے تقدس اور حرمت کی پامالی کسی بھی مسلمان کے فہم سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان تو دور کی بات باشعور انسان بھی ایسا نہیں کرسکتا ہے۔

مرکزی جامع مسجد کے تقدس کی پامالی کے خلاف سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ مولانا عبدالطیف الکندی، آغا سید حسن موسوی، انجمن علماء و ائمہ مساجد کشمیر کے سربراہ اور دارالعلوم شیری بارہمول کے مہتمم نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جموں و کشمیر جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلٰی ڈاکٹر عبدالطیف الکندی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مساجد عبادات کے لئے مخصوص ہیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کسی بھی مسلمان کو مسجد میں کوئی عبادت اس طرح سے انجام دینے کی اجازت نہیں کہ جس سے دوسرے مسلمانوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے پرچم مسجد کے منبر پر لہرانا سراسر اسلامی تعلیمات کے مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامع مسجد یا کشمیر کی کسی بھی مسجد میں نازیبا و غیر اسلامی حرکت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کے تقدس کو پامال کرنے والوں کے خلاف کشمیری مسلمانوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلٰی نے قوم سے ان حساس مسائل کو سمجھنے اور اپنے مقدسات کی آپ حفاظت کے لئے تیار رہنے کی بھی تلقین کی، تاکہ شرپسند عناصر اپنے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم کی سربلندی اتحاد امت میں ہی مضمر ہے۔

درایں اثنا مرکزی جامع مسجد سرینگر میں تکفیری عناصر کے ہاتھوں توہین منبر کے واقعہ کے تناظر میں متحدہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے ’’یوم تقدس‘‘ منایا گیا۔منبر پر داعش کے پرچم لہرانے کے بعد میرواعظ عمر فاروق نےمنبر رسول (ص) کی صفائی بھی کی۔ سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ علماء تشیع و علماء تسنن کی بڑی تعداد نے اجتماع میں شرکت کی۔ یوم تقدس منانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن نے کہا کہ اسلامی مقدسات کی حرمت اور تقدس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو ہمہ جہت مفہوم کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مقدسات کی توہین فعل حرام اور قابل تعزیر جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مقدسات کی توہین کے زمرے میں مساجد و منبر کے ساتھ ساتھ دینی شخضیات اسلامی مسالک اور اہل مسالک کے عقائد اور دینی رسومات بھی شامل ہیں، جن کی توہین نہ صرف فعل حرام بلکہ مسلمانوں کی وحدت و اخوت کو پارہ پارہ کرنا اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے کی کڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف توہین منبر کا ہی نہیں بلکہ جامع مسجد میں بار بار داعش کے جھنڈے لہرانے کے واقعات بھی ایک لمحہ فکریہ ہیں۔

ادھر جموں و کشمیر انجمن علماء و ائمہ مساجد کے امیر حافظ عبدالرحمن اشرفی مہتمم دارالعلوم سید المرسلین چوگام قاضی گنڈ کولگام نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں سانحہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے گھر میں شرپسند عناصر کی طرف سے منبر کی بے حرمتی نے ملت اسلامیہ کشمیر کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ جمعیت علماء کشمیر کے سیکرٹری مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی نے کہا کہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے اور اللہ کے گھروں کے تقدس کو پامال کرنے کی سازش کرنا صرف اور صرف اسلام دشمنوں اور اسلام کو بدنام کرنے والوں کا کام ہوسکتا ہے۔ مولانا شیخ عبدالقیوم قاسمی نے کہا کہ ایسی حرکتیں ناقابل برداشت ہیں اور یہ اسلام دشمن عناصر یا اسلام کو بدنام کرنے کی غرض سے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا سوچا سمجھا منصوبہ ہوسکتا ہے۔

اس دوران جموں و کشمیر پیروان ولایت کے سربراہ مولانا سبط محمد شبیر قمی نے اسلام ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد و منبر کا تقدس بحال رکھنا اور اس کا محافظ بننا بلالحاظ مسلک و ملت ہر ایک فرد پر لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدسات بالخصوص منبر و مسجد کی بے حرمتی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ استعماری چالوں اور جابرانہ نظام کا توڑ کرنے کے لئے آپسی اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ادھر حزب المجاہدین کے عسکری کمانڈر ریاض نائیکو نے جامع مسجد میں داعش کے پرچم لہرانے کی مذمت کی اور کہا کہ یہ بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی ہے۔ اپنے ایک آڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ بھارت ہماری مقدس تحریک کا رخ موڑنے کی سازشوں میں سرگرم ہے اور ہماری تحریک آزادی کو عالمی سطح پر بدنام کرنی کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ ریاض نائیکو نے کہا کہ داعش کے پرچم لہرانا ہماری تحریک کی مخالفت ہے اور شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک آزادی کا عالمی تکفیری دہشتگرد تنظیم داعش سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے علماء کرام ملت کو متحد کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسے عناصر معاشرے کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …