ہفتہ , 17 اپریل 2021

اشرف نعالوۃ کی شہادت۔ جہاد فلسطین کی تابندہ روایت تازہ!

جمعرات کو اہل فلسطین کو علی الصبح ایک بار پھر صہیونی ریاست کی منظم دہشت گردی ، وحشت اور درندگی کی ایک تازہ خبر ملی جب بزدل قابض افواج نے ایک بہادر فلسطینی نوجوان کو بے دردی کے ساتھ گولیاں مار کر شہید کردیا۔شہید ہونے والے نوجوان اشرف نعالوۃ ہیں جنہوں‌نے دشمن کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور سینے میں گولی کھائی۔

اشرف کو اسرائیلی فوج مسلسل ڈیڑھ ماہ سے تلاش کررہی تھی۔ 7 اکتوبر کو انہوں نے شمالی غرب اردن میں برکان یہودی کالونی کے قریب ایک کارروائی میں دو صہیونی جھنم واصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایک کو شدید زخمی کردیا تھا۔ اس کے بعد وہ فرار ہوگئے تھے۔ صہیونی فوج نے انہیں تلاش کرنے کے لیے گھر چھوڑے نہ بازار، آبادیاں چھوڑیں نہ قبرستان۔ ہرجگہ انہیں تلاش کیا گیا۔

اشرف نعالوہ کی شہادت نے جہاں جہاد فلسطین کی تابندہ روایت کو ایک بار پھر تازہ کیا ہے وہیں صہیونی ریاست کی بزدلانہ دہشت گردی پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ شہید کے والدین اور کئی قریبی عزیز اس وقت صہیونی جلادوں کی حراست میں ہیں۔ سات اکتوبر 2018ء کو اشرف نعالوۃ بندوق اٹھا کر انتہائی راز داری کے ساتھ "برکان” نامی یہودی کالونی میں داخل ہوئے اور وہاں پر موجود یہودیوں پر فائرنگ کرکے دوکو وہیں ڈھیر کردیا جب ان کا ایک تیسرا ساتھی شدید زخمی ہو گیا۔

اس کے بعد وہ خود بہ حفاظت فرار ہوگئے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اشرف کی مسلسل تلاش میں ناکامی قابض فوج اور صہیونی ریاست کے انٹیلی جنس اداروں کے لیے باعث عار تھی کہ بعض اوقات کئی کئی سو صہیونی فوجی اس کی تلاش میں نکلتے۔ایک ایک ھر کی تلاشی لیتے۔ بچوں اور خواتین سے پوچھ گچھ کرتے مگراشرف کا کہیں پتا نہیں چلا۔

جمعرات کو اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے علی الصباح نابلس کے عسکر کیمپ میں داخل ہوئی اور ایک مقامی فلسطینی شہری کے گھر میں‌ گھس گئی۔ اشرف اسی گھر میں‌موجود تھا۔ اسرائیلی فوج نے اسے زندہ پکڑنے کی کوشش کی مگر اس نے زندگی پرشہادت کو ترجیح دی۔

طولکرم میں جدو جہد کی علامت
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر طولکرم کے ابو شیخہ قصبے میں مقامی نوجوان انہیں مزاحمت اور دشمن کے غاصبانہ قبضے کے خلاف جدو جہد کا "آئیکون” سمجھتے ہیں۔ سات اکتوبر کے بعد سے تیرہ دسمبر کی صبح تک صہیونی فوج اس علاقے میں موجود رہی اور بار تلاشی لی جاتی۔ فلسطینی شہریوں کے ساتھ جھڑپیں ہوتیں۔

شہر کے بچے بچے کی زبان پر اشرف نعالوۃ کا نام تھا۔ اشرف نعالوۃ کے خاندان پر بھی صہیونی ریاست کی طرف سے سخت دبائو تھا۔ ان کے خاندان کے بیشتر افراد کو بار بار گرفتار کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اب بھی ان کی ماں دامون عقوبت خانے میں پابند سلاسل ہیں جب کہ والد مجد جیل میں قید ہیں۔ شہید کے والد کو بیٹے کی شہادت کی اطلاع قید خانے میں دی گئی۔ وہ ایک ماہ سےمجد جیل میں قید ہیں جب کہ والدہ دامون جیل میں قید ہیں۔ انہیں بیٹے کی مزاحمتی کارروائی اور اس کےبعد بہ حفاظت فرار پر انتقامی کارروائی کے طورپر گرفتار کیا گیا۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے کوئی پتھر تک نہیں چھوڑا جس کی تلاشی نہ لی ہو۔ صہیونی فوج نے اشرف نعالوۃ کا کوئی دوست یا رشتہ دار نہیں چھوڑ جس سے بار بار پوچھ تاچھ نہ کی ہو۔

اشرف کے دادھیال اور ننھیال کے علاقے صہیونی فوج کی مسلسل غنڈہ گردی کا شکار رہے ہیں۔ ان کے والد اشرف، ولید ابو شیخہ نعالوۃ ، والدہ وفاء مہداوی، ایک ہمشیرہ ڈاکٹر فیروزہ، بھائی امجد اور کئی دوسرے قریبی عزیز صہیونی فوج کی بد معاشی کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …