ہفتہ , 17 اپریل 2021

ریاض بھی ممکنہ طور پر دمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولےگا،برطانوی روزنامہ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے ایک مشہور روزنامےنے اپنے ادارے میں لکھا ہے کہ آج پوری دنیا شامی صدر بشارالاسد کا استقبال کررہی ہے اس لئے ریاض بھی ممکنہ طورپردمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولےگا۔

ڈٰیلی ٹائمز نے لکھا کہ آج پوری دنیا شامی صدر بشارالاسد کا استقبال کررہی ہے اس لئے ریاض بھی ممکنہ طورپردمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولےگا۔روزنامہ نے لکھا کہ دو یا تین برس قبل اس بات کا تصور بھی ناممکن تھا کہ عرب حکومتیں دمشق حکومت کےساتھ اپنے سفارتی تعلقات بحال کریں گی۔

روزنامہ نے لکھا کہ برطانیہ بھی شام کے تئیں اپنا مؤقف بدلنے پر مجبور ہوا ہے اور وزیر خارجہ جریمی ہنٹ کےبشارالاسد سے متعلق حالیہ بیان سے اس بات کابخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔

روزنامہ نےشام میں بحران کے آغاز کے بعد عرب لیگ میں شام کی رکنیت کو معطل کرنے اور اس ملک کے خلاف بین الاقوامی پابندیاں عائد کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ آج عرب حکومتیں جو بشارالاسد کی حکومت کو گرانے کی کوششوں میں پیش پیش تھیں دمشق کےساتھ آج تعلقات بحال کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔روزنامہ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ سعودی عرب جو بشارالاسد حکومت کا سب سے بڑا مخالف رہا ہے بہت جلد دمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولنے والا ہے۔

روزنامہ نے لکھا کہ عرب حکومت کی طرف سے دمشق حکومت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی کوششیں نہ صرف بشارالاسد بلکہ ان کے اتحادیوں کیلئے ایک اسٹریٹجک فتح ہے۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …