بدھ , 14 اپریل 2021

چین حراستی کیمپ سے 2 ہزار قازک افراد کو چھوڑنے پر آمادہ

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے حراستی کیمپ میں سے 2 ہزار سے زائد قازک اقلیتوں سے ان کی چینی شہریت ’چھین‘ کر ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اس حوالے سے دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق چین کے پڑوسی ملک قازکستان کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ ’چین 2 ہزار سے زائد قازک شہریوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہو گیا‘۔

خیال رہے کہ چین کے دور افتادہ مغربی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں بیجنگ کو عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔چین نے سنکیانگ صوبے میں اسلام کی تعلیمات اور یوغور زبان پر سخت پابندیاں عائد کردی ہیں، جس سے متعلق چین کا مؤقف ہے کہ ان سے سنکیانگ میں رہائش پذیر غریب افراد کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔

عالمی میڈیا کے مطابق سنکیانگ میں یوغور، قازک سمیت دیگر مسلم اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراستی کیمپوں میں قید کیا گیا۔واضح رہے کہ قازکستان چین کا تجارتی شراکت دار ہے اور قازکستان کے میڈیا نے مذکورہ مسئلے کو اجاگر کرنے میں پیشہ وارانہ غفلت برتی۔

وزیر خارجہ کے پریس آفس نے قازکس میڈیا رپورٹ کی تصدیق کی کہ چین نے 2 ہزار قازک کو چھوڑنے پر آمادگی کا اظہار کردیا۔تاہم اس حوالے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ’کن لوگوں کو چھوڑا جائے گا اور کیوں؟‘

پریس آفس کی ای میل کے مطابق چین کے حراستی کیمپ سے قازکستان آنے والے لوگ نئی شہریت کے لیے اپنے قوائد جمع کرائیں گے۔دوسری جانب چین کے وزارت خارجہ نے مذکورہ پیش رفت پر تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

خیال رہے کہ چین کے صوبے سنکیانگ کے حراستی کیمپ میں قید لوگوں کے ہزاروں لواحقین نے اپنے پیاروں کی آزادی کے لیے خطوط لکھنا اور میڈیا کانفرنس میں شرکت کرنا شروع کردیا ہے تاکہ عالمی توجہ کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہو سکے۔

قازک نژاد چینی باشندوں نے سنکیانگ میں انتہائی مشکلات کے پیش نظر تجارت اور بچوں کی تعلیم کے لیے چین کو خیرباد کہنا شروع کردیا ہے۔قازک ایڈوکیسی گروپ ’آتاجرت‘ کے سربراہ سریقزن بلاش نے بتایا کہ ’انہیں حکام کی جانب سے اپنی سماجی خدمات محدود رکھنے کی دھکمیاں مل رہی ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’وسطیٰ ایشیا کے لیے چینی حکام انتہائی خطرناک ہیں‘۔

یہ بھی دیکھیں

ایران و چین معاہدے پر امریکہ چراغ پا

امریکی صدر نے ایران اور چین کے 25 سالہ معاہدے پر سخت تشویش کا اظہار …