جمعرات , 21 مارچ 2019

پاکستانی پرچموں میں لپٹی لاشیں۔۔۔۔!

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

بھارت کے زیرکنٹرول مقبوضہ کشمیر میں جب بھی کوئی بھارتی فوج کی بربریت کا نشانہ بنتا ہے، اُس شہید کو پاکستانی پرچم کا کفن دے کر سپردِخاک کیا جاتا ہے۔ کشمریوں کی جانب سے پاکستانی پرچم کے کفن عالمی برادری کیلئے کھلا ریفرنڈم ہیں۔ یہ اِس بات کا اعلان ہے کہ بھارت سرکار نے تو ہمیں پاکستان کیساتھ شامل نہیں ہونے دیا مگر ہماری تدفین پاکستانی پرچم میں ہو رہی ہے۔ یہ تدفین اس بات کی دلیل ہے کہ ہم پاکستان "میں” دفن ہو رہے ہیں۔ بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو بھی کشمیر کے غیرتمند مسلمانوں نے مسترد کر دیا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جہاں عالمی برادری نے اِس اہم مسئلہ سے آنکھیں چرائی ہوئی ہیں وہیں ہماری حکومت بھی کشمیریوں کی اِس انداز میں مدد نہیں کر رہی جس کے وہ حقدار ہیں۔ بھارت سرکار اپنے عوام کی غربت دُور کرنے کے بجائے وسائل کشمیریوں کو رام کرنے کیلئے خرچ کر رہی ہے۔ بھارت کا اچھا خاصا بجٹ صرف اس پروپیگنڈے اور سازشوں پر خرچ ہو جاتا ہے کہ پاکستان کو کس طرح نقصان پہنچانا ہے۔ انڈیا سے میلوں دُور افغانستان میں جا کر بھارت کی سرمایہ کاری بھارتی پالیسی کیلئے بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بھارتی عوام کو اپنی حکومت سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ وہ بتائے افغانستان کیساتھ انڈیا کی نہ تو کوئی سرحد ملتی ہے اور نہ کوئی سڑک دونوں ملکوں کو باہم ملاتی ہے، پھر بھارتی عوام کے پیٹ کاٹ کر افغانستان پر کرم نوازی کیوں؟

بھارت افغانستان میں ڈیموں کی تعمیر میں مدد دے رہا ہے، وہاں یونیورسٹیوں کے قیام میں سرمایہ کاری کر رہا ہے بلکہ افغانستان پارلیمنٹ تک کی عمارت کی تعمیر میں بھارتی عوام کے خون پسینے کی کمائی لگا دی گئی۔ بھارتی سرکار نے ایک کثیر سرمائے سے قندھار میں افغان نیشنل ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی ہے اور کابل کے شہریوں کو سفر کو آسان سہولت دینے کیلئے ایک ہزار بسیں دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ جبکہ بھارت کے اپنے اندر شہری سائیکل رکشے چلا کر بھی زندگی کی گاڑی کو دھکا لگانے میں ناکام ہیں۔ غربت کا یہ عالم ہے کہ وہاں خودکشیوں کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ حقوق اور فصلوں کے مناسب دام نہ ملنے پر کسان اپنے اناج کو جلاتے دکھائی دیتے ہیں۔ آئے روز کسانوں کے مظاہرے بھی خبروں کی زینت بنتے رہتے ہیں، بھارت سرکار اپنے عوام کی تو سنتی نہیں اور افغانستان کیلئے آنکھیں اور دل بچھائے واری واری قربان جا رہی ہے۔ افغان صوبے ہیرات میں بھارت کے سرمائے سے ہی "سلمیٰ ڈیم” کی تعمیر مکمل ہوئی اس ڈیم پر مودی سرکار نے 30 کروڑ ڈالر پھونک ڈالے جبکہ انڈیا کے ہی انجینئروں نے مقامی انجینئروں کیساتھ مل کر اس منصوبے کو مکمل کیا۔

انڈیا کی اپنے عوام کا پیٹ کاٹ کر افغانستان میں سرمایہ کاری کے مقاصد کیا ہیں؟ اس سوال کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ انڈیا پاکستان کو پھلتا پُھولتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ جس دن سے پاکستان میں سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا ہے، بھارت کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ یہ تو بھلا ہو پاکستان کی دُور اندیش فوجی قیادت کا، کہ فوجی قیادت نے سی پیک منصوبے کی سکیورٹی کی ذمہ داری اپنے ذمہ لی ہے۔ اگر فوج یہ ٹاسک اپنے ذمہ نہ لیتی تو انڈیا اس منصوبے کو بھی ناکام بنا چکا ہوتا۔ اب افغانستان میں بھارت کی جانب سے کی جانیوالی سرمایہ کاری کا مقصد صرف اور صرف یہی ہے کہ پاکستان کو غیر مستحکم کیا جائے۔ بلوچستان میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات کا مقصد بھی پاکستان میں بدامنی پھیلانا تھا مگر وہاں سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے انڈیا کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا۔ جب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن گرفتار ہوا ہے، بلوچستان میں امن ہے اس کے باوجود افغانستان میں بھارت کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مذموم ہتھکنڈوں سے باز نہیں آیا۔ اسے جیسے ہی موقع ملے گا وہ پاکستان کو نقصان پہنچائے گا۔

ہندو کی فطرت یہی ہے کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام، انڈیا نے ایران کو بھی دوستی کی آڑ میں دغا دیا ہے، ایران سے تیل لیکر اسے ادائیگیوں کے معاملے میں ٹرخا دیا ہے کہ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے باعث وہ اسے براہ راست ادائیگیاں نہیں کر سکتا۔ ایران نے بھی اب بھارت کیساتھ مزید چلنے سے پہلے سو بار سوچنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ بھارت افغان عوام کو یہ باور کروانے میں مصروف ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی پاکستان کروا رہا ہے اور غیر مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔ جبکہ افغان عوام حقائق سے لاعلم نہیں، وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں افغانستان میں مداخلت افغان عوام کی آواز پر ہی کی تھی۔ جب روس افغانستان میں گھس آیا تھا تو افغان عوام نے ہی پاکستان سے مدد مانگی تھی، جسے پاکستان نے بھرپورانداز میں بہترین ہمسائے کا کردار نبھایا۔ اب بھارت، پاک افغان اسی تعلق کو خراب کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ مانا افغانستان میں بھارت کا اثرو رسوخ بہت زیادہ ہو چکا ہے اور پاکستانی سرحدی علاقوں میں قائم بھارتی قونصل خانے بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں لیکن افغانستان کے باشعور عوام یہ جانتے ہیں کہ پاکستان ان کا دشمن نہیں بلکہ دوست ہے جبکہ مکار ہندو کی یہ ظاہری دوستی مفاداتی ہے۔ جس دن انڈیا کے پاکستان کیساتھ اچھے تعلقات ہو گئے، انڈیا افغانیوں کو وہیں بے یارو مدد گار چھوڑ دے گا۔ کیوں کہ افغانستان میں خرچ ہونیوالا بھاری سرمایہ انڈیا کی اپنی معیشت پر بوجھ ہے۔ پھر افغانستان میں جاری انڈیا کے تمام فلاحی منصوبوں کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا۔

اس حوالے سے افغان حکام اور عوام کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنا ہوں گی۔ بھارتی سرکار کی چکنی چپڑی باتوں میں آنے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرنا ہوگا۔ کیوں کہ طالبان کی امریکہ کیساتھ جاری مذاکرات جلد ہی کسی نتیجہ پر پہنچنے والے ہیں۔ جس کے بعد امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد بھارت کا کابل میں کردار بھی ختم ہو جائے گا۔ بھارت افغانستان میں سرمایہ ضائع کرنے کی بجائے اپنے عوام کی بہبود پر خرچ کرے۔ غربت کی لکیر سے نیچے سسکتے بھارتیوں کی زندگیوں میں تبدیلی لائے، کشمریوں سمیت آزادی پسند تحریکوں کو ان کے حقوق دے، جس دن بھارت نے کشمیریوں کو آزادی دے دی اس دن سے ہی بھارت میں بہتری کا سفر شروع ہو جائے گا۔ بھارت آخر کب تک اپنے عوام کے حقوق غصب کر کے دوسرے ملکوں پر خرچ کرتا رہے گا اور آخر کب تک بھارت کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت سے محروم رکھے گا کیوں کہ بھارت کو صرف کشمیر ہی نہیں بلکہ خالصتان سمیت دیگر 60 سے زائد علیحدگی پسند تحریکوں کا بھی سامنا ہے۔ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی خواب دیکھنے کے بجائے اپنی سلامتی پر توجہ دے۔ مظلوموں پر ظلم بند کرے۔ مظلوموں کی آہیں تو عرش ہلا دیتی ہے، دہلی کا تخت کو چیز ہی کچھ نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

جو نواز شریف ، آصف زرداری کے نہ بنے ، وہ عمران کے بھی نہیں بنیں گے

(حامد میر) بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ پروین شاکر نے یہ ...