بدھ , 16 جنوری 2019

سوشل میڈیا پر ہمارے اکاؤنٹس کا مرنے کے بعد کیا ہو گا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) روزانہ فیس بک سمیت دیگر سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے صارفین میں سے لگ بھگ 8 ہزار دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں جوکہ اوسطا فی گھنٹہ 428 صارف بنتے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر یہی گمان ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس کی انتظامیہ مرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس سے متعلق کوئی نا کوئی اقدام ضرور کرتی ہو گی۔

اس ضمن میں نہ صرف فیس بک بلکہ دیگر سوشل نیٹ ورکس بھی مرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس سے متعلق اقدامات کرتے ہیں، البتہ یہ اقدامات یکساں نہیں ہر نیٹ ورک کی اپنی پالیسی ہے۔ان اقدامات میں اکاؤنٹس کی بندش سمیت دیگر مختلف قسم کے اقدامات شامل ہیں۔

فیس بک
فیس بک میں ایک ایسا فیچر موجود ہے جو یہ بتاتا ہے کہ زیر نظر پیج کا مالک دنیا سے چلا گیا ہے، یہ نوٹ پیج کے اوپر والے حصے میں نمایاں ہوتا ہے، علاوہ ازیں فیس بک کی سیٹینگ میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ صارف اپنے کسی ایک جاننے والے شخص یا پھر رشتہ دار کو اپنی وفات کی صورت میں پیج چلانے یا پھر بند کرنے کے لیے نامزد کرسکتا ہے۔

مذکورہ شخص یا پھر رشتہ دار ’’لیگیسی کنٹکٹ‘‘ نامی فیچر کے ذریعے متوفی شخص کے پیج چلاسکتا ہے بشرطیکہ پیج کے اصل مالک نے دوران حیات اس شخص یا رشتہ دار کو نامزد کیا ہو۔البتہ اس سب کے لیے فیس بک کو صارف کی موت کے حوالے سے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔

انسٹاگرام
مرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس کے حوالے سے انسٹاگرام کے اقدامات فیس بک جیسے ہی ہیں، تاہم انسٹاگرام انتظامیہ صارف کے اہلخانہ، عزیز و اقارب اور دوستوں سے صارف کی موت کے حوالے سے شواہد مانگتی ہے جس میں ڈیتھ سرٹفکیٹ شامل ہے۔

ٹویٹر
مرنے والے صارفین کے اکاؤنٹس کے حوالے سے ٹویٹر کی پالیسی فیس بک اور انسٹاگرام سے مختلف ہیں، یہاں مرنے والے صارف کا اکاؤنٹ مکمل طور پر بند کردیا جاتا ہے، کسی بھی دوسرے شخص کو اکاؤنٹ چلانے کی اجازت نہیں۔البتہ ٹویٹر مرنے والے صارف کے اکاؤنٹ کو بند کرنے سے قبل موت کی تصدیق کرتا ہے، اس غرض کے لیے لازمی ہے کہ مرنے والے صارف کا قریبی شخص ٹویٹر کو اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ صارف کا ڈیتھ سرٹفکیٹ اپنے آئی ڈی کارڈ کی کاپی کے ساتھ ٹویٹر کو ارسال کرے۔

یہ بھی دیکھیں

پاکپتن دربار کیس:نواز شریف ایک اور مشکل میں پھنس گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکپتن دربار اراضی منتقلی کیس کی سماعت کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ...