بدھ , 16 جنوری 2019

سپریم کورٹ کا اصغرخان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان عملدرآمد کیس بند نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور سیکریٹری دفاع سے جواب طلب کرلیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے نے کیس کی فائل بند کرنے کی استدعا کی ہے لیکن ہم کیسے عدالتی حکم کو ختم کردیں، اس معاملے کی مزید تحقیقات کروائیں گے۔

چیف جسٹس نے اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجا سے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالت کی معاونت کریں، اس کیس کو کیسے آگے بڑھایا جائے، ایک عدالتی فیصلہ آیا اور اب عملدرآمد کے وقت ایسا ہورہا ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ کچھ افراد کو اس معاملے سے علیحدہ کرنے کی تجویز دی تھی اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ہاں میں نے رقم تقسیم کی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کے بعد پھر کیا رہ جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصغر خان کی کوشش کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، کیس بند کرنے کے معاملے میں اصغر خان کے اہل خانہ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، اگر ایف آئی اے کے پاس اختیارات نہیں تو دوسرے ادارے سے تحقیقات کروالیتے ہیں۔

سماعت کے دوران انہوں نے ریمارکس دیے کہ جب فیصلہ آیا تو میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چودہدری سے ملا اور کہا کہ اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے کہ اب عدالت کچھ نہ کرے تو یہی کافی ہے۔اس پر سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اصغر خان اور آسیہ بی بی کیس کے دونوں فیصلے تاریخ ساز ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’فوج کے ملوث افراد کے خلاف فوجی عدالت ٹرائل کر رہی ہے جبکہ سول لوگوں کے خلاف الگ ٹرائل ہورہا ہے، الگ الگ تحقیقات سے کیسے حتمی نتیجے تک پہنچیں گے‘۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ کابینہ نے کہا تھا کہ ان کا ٹرائل فوجی عدالت کرے گی، ہمیں نہیں پتہ ملٹری والے کیا کارروائی کر رہے ہیں کیوں نہ ان سے بھی رپورٹ طلب کرلیں، ایسا نہ سمجھیں کہ فوج والے عدالتی دائرہ اختیار سے باہر ہیں، میں بطور چیف جسٹس ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ سب ہمارے اختیار میں ہے، کیوں نا سیکریٹری دفاع کو طلب کرلیں‘۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ وہ ایف آئی اے کی طرف سے اخذ کیے گئے نتائج اور وجوہات سے مطمئن نہیں ہیں۔بعد ازاں عدالت نے اصغر خان کے قانونی ورثا کی طرف سے دائر درخواست پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع کو بھی نوٹس جاری کردیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سیکریٹری دفاع بتائیں کہ جن افسران کا معاملہ ان کو بھیجا گیا تھا اس کی تحقیقات کہاں تک پہنچیں، اس معاملے پر ایک ہفتے میں جواب جمع کروایا جائے۔

جس کے بعد عدالت نے اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کردی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اصغر خان کے لواحقین نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی انکوائری ختم نہیں ہونی چاہئے۔

اہل خانہ کی جانب سے وکیل سلمان اکرم راجا کے توسط سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ ’ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری ختم کرنے کی سفارش کو مسترد کرتے ہیں، اصغر خان کا خاندان کیس کا حتمی انجام چاہتا ہے‘۔انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ’کیس کے ٹرائل کے بعد سامنے آنے والا نتیجہ پاکستان کے عوام کے سامنے رکھا جائے‘۔

اس سے قبل 31 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کی جانب سے اصغر خان کیس بند کرنے کی سفارش پر درخواست گزار کے قانونی ورثا سے جواب طلب کیا تھا۔

خیال رہے کہ 29 دسمبر کو ایف آئی اے نے سپریم کورٹ سے اصغر خان عمل درآمد کیس کی فائل بند کرنے کی درخواست کی تھی۔اس سے قبل اس کیس میں عدالت کی جانب سے وزارتِ دفاع کو کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کرکے ایک ماہ کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

اصغر خان کیس — اب تک کیا ہوا!
سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس 1996 میں دائر ہوا، مقدمے کی رو سے اس وقت کے صدر غلام اسحٰق خان کی ہدایت پر ایوان صدر میں 1990 کے انتخابات کے لیے الیکشن سیل بنایا گیا، جس میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی شامل تھے۔

مقدمے میں کہا گیا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو کو شکست دینے کے لیے آئی ایس آئی کے سیاسی ونگ نے مبینہ طور پر مہران بینک کے یونس حبیب کے ذریعے سیاستدانوں میں 14 کروڑ روپے تقسیم کیے، جس سے عوام کو شفاف انتخابات اور حق رائے دہی سے محروم رکھ کر حلف کی رو گردانی کی گئی۔

بعد ازاں 16 سال بعد عدالت نے 2012 میں مذکورہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریٹائر جرنیلوں اسلم بیگ، اسد درانی اور مہران بینک کے سربراہ یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور رقم وصول کرنے والے سیاستدانوں کے خلاف ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

اس ضمن میں تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ اس وقت کے صدر، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا، 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کی گئی جبکہ اسلم بیگ اور اسد درانی غیر قانونی سرگرمیوں میں شریک ہوئے، ان کا یہ عمل انفرادی فعل تھا، اداروں کا نہیں۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ خفیہ اداروں کا کام الیکشن سیل بنانا نہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے، صدر مملکت ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، صدر حلف سے وفا نہ کرے تو آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے، ایوان صدر میں کوئی سیل ہے تو فوری بند کیا جائے۔

عدالت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اس کیس میں کافی ثبوث جمع کیے گئے، لہٰذا ایف آئی اے فنڈز وصول کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کے لیے مقدمات کی تیاری کرے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی روشنی میں ایف آئی اے کی جانب سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل غالب بندیشہ، ڈاکٹر عثمان انور، قدرت اللہ مروت اور نجف مرزا شامل تھے۔اس تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے تقریباً ایک سال بعد 2013 کے اختتام پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔

اپنی تحقیقات کے دوران 2015 تک ایف آئی اے کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف، ایئر مارشل (ر) اصغر خان، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی، مہران بینک کے مالک یونس حبیب، ایڈووکیٹ یوسف میمن اور معروف صحافی الطاف حسین قریشی کے بیان ریکارڈ کیے گئے تھے۔

اس ضمن میں فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس میں عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں جو رواں سال 6 مئی کومسترد کر دی گئیں تھیں۔

بعد ازاں 9 جون کو اصغر خان عملدرآمد کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کرایا تھا، جس میں انہوں نے 1990 کی انتخابی مہم کے لیے 35 لاکھ روپے لینے کے الزام کو مسترد کردیا تھا۔

انہوں نے کہا ہے کہ1990 کی انتخابی مہم کے لیے اسد درانی یا ان کے کسی نمائندے سے کوئی رقم نہیں لی اور نہ ہی کبھی یونس حبیب سے 35 لاکھ یا 25 لاکھ روپے وصول کیے۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ ان الزامات سے متعلق 14 اکتوبر 2015 کو اپنا بیان ایف آئی اے کو ریکارڈ کروا چکا ہوں۔اس کے علاوہ اصغر خان کیس میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے اپنی جماعت پر عائد الزامات کے حوالے سے اپنا بیان حلفی جمع کرادیا تھا۔

سراج الحق نے بھی 1990 کے انتخابی مہم کے لیے آئی ایس آئی سے رقم لینے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے بیان حلفی میں کہا تھا کہ جماعت اسلامی 2007 میں رضاکارانہ طور پر عدالتی کارروائی کا حصہ بنی،ہم نے آئی ایس آئی سے کوئی رقم وصول نہیں کی، ہم کسی بھی فورم یا کمیشن میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اپوزیشن کا واک آؤٹ، این آر او اور نیب کیسز سے بچنے کے ہتھکنڈے ہیں: وزیراعظم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے اپوزیشن کو صرف واک آؤٹ کرنے کا ...