اتوار , 16 جون 2019

مہنگائی دانشور نہیں ہوتی!

(تحریر: طاہر یاسین طاہر)

باراں کی طرح لطف و کرم عام کئے جا
آیا ہے جو دنیا میں تو کچھ نام کئے جا

حضرت آتش کا یہ شعر حکمران طبقے کے شاید ہی کسی ذی فہم نے بھی پڑھا ہو، مگر نادانستگی میں ہی سہی، وہ اس شعر کی تفیسر بننے کو بے تاب نظر آتے ہیں۔ وہ لطف و کرم ضرور کرتے ہیں مگر اپنے ہمجولیوں پر، اپنے ہی طبقے پر اور اپنے ہی نظر نوازوں پر۔ تین چار نہیں گذشتہ سات عشروں کی تاریخ یہی ہے۔ اگرچہ چند سال مستثنیات کے بھی ہیں، جب عام آدمی کو پاسپورٹ کا حق ملا، ووٹ ڈالنے کا حق ملا اور سب سے بڑھ کر اسے ملک سے باہر جانے کی "آزادی” ملی۔ یہ سب مگر دیرپا علاج نہیں، جز وقتی "کارروائیاں” تھیں، جو عوامی بہائو کا رخ دائیں بائیں کر دیتی تھیں۔ عام آدمی آج بھی جزوقتی علاج کے سہارے زندگی کی ڈور سے سانسوں کا رشتہ قائم کیے ہوئے ہے۔ عام مزدور کو انسان کی بنیادی ترین ضروریات بھی کم کم میسر ہیں۔ عام آدمی کی ماہوار تنخواہ آج بھی سرکاری سطح پر کوئی 16000 کے لگ بھگ ہے، یہ اگر 20000 ببھی ہو جائے تو کیا؟ کیا اتنی قلیل تنخواہ میں عام آدمی گذر بسر کرسکے گا؟ چار آدمیوں کے چھوٹے خاندان کے لیے بھی کم از کم ماہوار تنخواہ ایک تولہ سونے کے برابر ہو تو گزر بسر ممکن ہے۔ آشکار حقیقتوں کے باوجود جب گذشتہ و موجودہ حکمران اپنے دل میں چھپے غریبوں کے درد کا ذکر "لحن ِدائودی” سے کرتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے۔

زندگی کو جس بلندی سے حکمران طبقہ دیکھ رہا ہوتا ہے، وہاں سے تو انھیں احساس ہی نہیں ہوسکتا کہ اگر کسی غریب کا بیٹا یا بیٹی عام موسمی بخار کا بھی شکار ہو جائے تو اسے دوا اور دو وقت کی روٹی میں توازن لانے کے لیے کتنے سرمایہ داروں کے گھروں کا چکر کاٹنا پڑتا ہے؟ عام آدمی آج بھی اسی تکلیف میں ہے، جو اسے آج سے بیس برس قبل تھی، بلکہ اب تو تکلیف بڑھی ہے اور مسائل بھی زیادہ ہوئے ہیں۔ کالم کا سبب ایک بیان بنا اور بیان بڑا حیرت افروز ہے۔ ایسا طلسمی کلام کوئی دانشور ماہر معاشیات و سیاسیات ہی کرسکتا ہے، جس سے امید اور ہمدردی کی جھلک محسوس ہوتی ہو۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ "گیس اور بجلی کی قیمتوں میں امیر طبقے کے لیے اضافہ کیا گیا اور معاشرے کے غریب افراد اس سے محفوظ ہیں۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت کے ابتدائی 5 ماہ میں مہنگائی نے 11.2 فیصد کی شرح کو چھو لیا تھا اور 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کی اسی عرصے میں مہنگائی میں 4 فیصد اضافہ ہوا، لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ابتدائی 5 ماہ میں مہنگائی میں صرف 0.4 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ وزیر خزانہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے اور درآمدات میں کمی کے باعث ملک کا تجارتی خسارہ 2 ارب ڈالر ماہانہ سے کم ہو کر ایک ارب ڈالر ماہانہ رہ گیا ہے۔

یہ اعداد و شمار کا کھیل ہے، اس گتھی کو کوئی ماہرِ معاشیات ہی اعداد و شمار کے الٹ پھیر سے سلجھا سکتا ہے، عام اخبار نویس معاشی گورکھ دھندے میں پڑنے کے بجائے براہ راست عام آدمی کی زندگی کا مطالعہ کرتا ہے اور اس سے نتائج اخذ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پیٹرول مہنگا ہوگا تو کیا اس سے صرف امیر آدمی ہی متاثر ہوگا یا عام آدمی بھی؟ اگر دو چار روپے پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو میری دانست میں کروڑ روپے کی گاڑی میں گھومنے والے کو فرق نہیں پڑے گا، مگر عام آدمی اس فرق سے براہ راست متاثر ہوگا۔ عام موٹر سائیکل والا جس نے قسطوں پر موٹر سائیکل لی ہوئی ہے۔ پیٹرول مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، جس کا براہ راست متاثر عام آدمی ہے یعنی غریب آدمی۔ وزیر خزانہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مہنگائی کا اثر غریب آدمی پر نہیں پڑا؟ کیا چینی، سبزی، آلو، پیاز، انڈے، دالیں وغیرہ جب مہنگی ہوئی ہیں تو اس کا متاثر امیر آدمی ہے یا غریب آدمی؟ امیر آدمی تو مہنگائی سے بھی اپنے بزنس نیٹ کے تحت اسی غریب آدمی پر حملہ آور ہوتا ہے، جس کے بارے وزیر خزانہ نے کہا کہ غریب آدمی کو مہنگائی سے فرق نہیں پڑا۔

گذشتگان بھی یہی کہا کرتے تھے کہ مہنگائی زیادہ نہیں، مگر ان میں سے کبھی کسی نے براہ راست یہ نہیں کہا تھا کہ مہنگائی صرف امیروں کے لیے ہے، غریبوں کے لیے نہیں۔ بہت سادہ سوال یہ ہے کہ بجلی اور گیس کا بل بھجوانے کا کوئی ایسا سسٹم ابھی تک متعارف ہوا، جو امیر اور غریب میں فرق روا رکھے ہوئے ہو؟ کیا منڈی کے رحجانات میں ایسی میکانکی تبدیلی کی گئی، جس سے امیر آدمی کو اشیاء مہنگی اور غریب کو سستی ملیں؟ اگر جان بچانے والی ادویات مہنگی ہوئی ہیں تو ہر دو طبقات کے لیے ہوئی ہیں، کیونکہ جان دونوں طبقات کو عزیز ہے۔ یہ جو آج حکومت نے جان بچانے والی ادوایات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فی صد اضافہ کیا اور اسے فوری نافذ العمل بھی قرار دیا، کیا اس کا اثر غریب آدمی پر نہیں پڑے گا؟

اعداد و شمار کا کھیل اور چیز ہے، سامنے جو حالات پیش آتے ہیں، ان کا جبر اور چیز ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے فی کس آمدنی کا کھیل۔ کسی دن اس کھیل کی پیچیدگیوں اور خوش گمانیوں پر بھی کالم آرائی کروں گا۔ سادہ بات یہ ہے کہ اس وقت مہنگائی سے براہ راست جو متاثر ہوا، وہ عام آدمی ہے، امیر طبقہ کو مہنگائی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ اس طبقہ کا بزنس نیٹ اس قدر وسیع ہے کہ وہ تھوڑی بہت مہنگائی کو بڑی مہارت سے غریب آدمی کے کندھے پر شفٹ کر دیتا ہے۔ مہنگائی کی نہ تو آنکھیں ہوتی ہیں، نہ اس میں احساس ِ مروت، نہ یہ دانشور ہوتی اور نہ ہی اسے اعداد و شمار کے کھیل کی سمجھ ہے۔ یہ صرف قاتل ہوتی ہے، بے مروت ہوتی ہے اور غریب کش ہوتی ہے۔ حقائق کو جان کر اگر حکمرانی کی جائے تو اس سیاسی و سماجی آگاہی کے سماج اور سیاست پر دیرپا اور مثبت اثرات پڑیں گے، بہ صورتِ دیگر ایک ہیجان تو موجود ہے، جو دن بہ دن گہرا ہوتا چلا جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

گرفتاریاں۔۔ حکومت اور نیب پر الزام کیوں؟

(مصدق گھمن) پہلا سوال‘ کیا یہ آصف علی زرداری کیخلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کا مقدمہ …