اتوار , 16 جون 2019

چین کیلئے جاسوسی کے شبے میں ‘ہواوے’ کے اعلیٰ افسر پولینڈ میں گرفتار

پولینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) پولینڈ نے چینی ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی ‘ہواوے’ کے اعلیٰ افسر اور ان کے ہمراہ ایک پولش شہری کو چین کے لیے جاسوسی کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق پولش اسپیشل سروسز کے ترجمان اسٹینیسلو زیرن نے بتایا کہ ’دونوں افراد کو چین کے لیے جاسوسی اور پولینڈ کو نقصان پہنچانے کے شبے میں 8 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا‘۔

ترجمان نے چینی شخص کا نام ویجنگ ڈبلیو اور پولش شخص کا نام پیوٹر ڈی بتایا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں افراد کے اپارٹمنٹ اور دفاتر کی تلاشی بھی لی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ ’پولش شہری کئی ریاستی اداروں میں ملازمت بھی کرچکا ہے۔

پولش پریس ایجنسی کے مطابق اس حوالے سے پولینڈ اسپیشل سروسز کے ڈپٹی سربراہ نے بتایا کہ ’انفارمیشن سیکٹر میں مقبول ایک پولش شخص کو بھی چینی شہری کے ساتھ مل کر جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا‘۔انہوں نے بتایا کہ ’گرفتار چینی شہری ایک کاروباری شخص ہیں اور ایک اہم ٹیلی کام کمپنی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں‘۔

جاسوسی کے الزام میں گرفتار چینی شخص کو پولینڈ کے مقامی میڈیا کی جانب سے ‘ہواوے’ کی پولش شاخ کا ڈائریکٹر قرار دیا جارہا ہے۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’وہ اپنے شہری کی گرفتاری پر ’شدید تشویش‘ کا شکار ہیں‘۔

دوسری جانب ہواوے نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ ’وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں، اس پر کام کر رہے ہیں اور اس پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے‘۔پولش میڈیا کے مطابق پیوٹر ڈی پولینڈ کی کاؤنٹر انٹیلی جنس سروس ‘اے بی ڈبیلو’ کے سابق ایجنٹ تھے اور اب فرانسیسی موبائل فون کمپنی ‘اورنج پولسکا’ کی پولش برانچ میں سائبر سیکیورٹی کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

اورنج پولسکا کے ترجمان واجسیچ جابکینککی کے ترجمان نے بتایا کہ اے بی ڈبلیو کے افسران ہمارے ایک ملازم کا سامان لے کر گئے تھے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں نہیں معلوم کہ قبضے میں لیا گیا سامان ان کے کام سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں‘۔

خیال رہے کہ دسمبر میں جمہوریہ چیک کی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے ہواوے اور ان کی ساتھی کمپنی ‘زیڈ ٹی ای’ کے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کے استعمال سے متعلق خبردار کرتے ہوئے اسے ریاستی سیکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔اس سے قبل ہواوے کی چیف فنانشل آفیسر مینگ وانژو کو کینیڈا کے شہر وانکوور میں یکم دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مینگ وانژو کو امریکا کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر امریکا کے ساتھ دھوکا دہی کے الزامات عائد ہیں، جو ثابت ہونے کی صورت میں انہیں 30 سال قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

چین نے مینگ وانژو کی گرفتاری کو ’انتہائی گھناؤنا‘ قدم قرار دیتے ہوئے کینیڈا کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہیں فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔بعد ازاں کینیڈا کے شہر وان کوور کی عدالت نے مینگ وانژو کو 75 لاکھ ڈالر کے عوض ضمانت پر رہا کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کے خلاف امریکی دعوی بے بنیاد ہے،جرمنی اور کویت

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک)جرمنی کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے اس فلمی دعوے کو مسترد کردیا …