پیر , 26 اگست 2019

سعودی لڑکی راہف القانون کو کینیڈا نے پناہ دے دی

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب سے فرار ہونے والی لڑکی کو کینیڈا نے پناہ دینے کا اعلان کردیا جس کے بعد وہ بنکاک ایئرپورٹ سے کینیڈا روانہ ہوگئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی شہری 18 راہف محمد القانون 7 جنوری کو کویت سے بنکاک پہنچی تھی جہاں اس نے ایئرپورٹ ہوٹل میں خود کو قید کردیا تھا۔ لڑکی کے مطابق ترکِ مذہب کے سبب اسے سعودی عرب میں موت کی سزا ہوسکتی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ پناہ گزین کا درجہ عموماً حکومتیں خود دیتی ہیں لیکن اگر کسی ملک کی حکومت پناہ گزین کا درجہ دینے پر راضی نہ ہو تو اقوام متحدہ خود متاثرہ شخص کو پناہ گزین کا درجہ دیتا ہے۔

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹرودو کا کہنا ہے کہ ’کینیڈا ہمیشہ انسانی حقوق اور دنیا بھر کی خواتین کے حقوق کےلیے کھڑا ہے، جیسے ہی اقوام متحدہ نے 18 سالہ راہف القانون کو پناہ دینے کی درخواست کی، ہم نے قبول کرلی۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس کینیڈین حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کےلیے کام کرنے والی متعدد خواتین کو قید کرنے پر سعودی عرب کے خلاف اظہار برہمی کیا گیا تھا، جس کے بعد سعودی عرب نے کینیڈا کے سفیر کو ملک بدر کرکے تجارتی و سفارت تعلقات منقطع کردئیے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے کینیڈین حکومت کے راہف القانون کو دوبارہ آباد کرنے کے اقدام کو خوب سراہا ہے۔

یاد رہے کہ تھائی لینڈ کے امیگریشن حکام کی جانب سے راہف القانون کو واپس جانے کا کہا گیا تو سعودی لڑکی نے خود کو ایئرپورٹ ہوٹل کے کمرے میں بند کرکے ٹویٹر پر #SaveRaHaf کی مہم شروع کردی تھی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ راہف القانون بنکاک سے آسٹریلیا جانا چاہتی تھی لیکن حکام کی جانب سے کویت واپس جانے کا کہا گیا جہاں اس کے والدین راہف کا انتظار کررہے تھے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی خاتون کے والد سعودی عرب کے شمالی صوبے کے علاقے السولیمی کے گورنر ہیں۔

راہف القانون نے کہا تھا کہ ’میں اسلام سے دستبردار ہوچکی ہوں جس کی سزا موت ہے، میری زندگی خطرے میں ہیں، مجھے میرے اہل خانہ کی جانب سے جان سے مارنے کا خطرہ ہے‘۔

واضح رہے کہ 8 جنوری کو اقوام متحدہ کی جانب سے 18 سالہ اہل خانہ سے فرار ہونے والی سعودی لڑکی راہف القانون کو قانونی طور پر پناہ گزین کا درجہ دیا گیا تھا۔یاد رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب سے فرار ہو کر تھائی لینڈ آنے والی 18 سالہ لڑکی کے والد اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے بنکاک پہنچے تھے تاہم اس نے اپنے اہل خانہ سے ملاقات کرنے سے انکار کردیا تھا۔

تھائی لینڈ امیگریشن چیف کے مطابق 18 سالہ راہف کے والد اور بھائی اس سے مل کر اسے گھر واپس جانے کے لیے آمادہ کرنا چاہتے ہیں تاہم اس سے قبل انہیں اقوام متحدہ کی اجازت لینی ہوگی۔

یہ بھی دیکھیں

ظلم و تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کا پہلا عالمی دن آج منایا جارہا ہے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بین الاقوامی برادری آج دنیا بھر میں مذہب اور عقیدے کی بنیاد …