پیر , 12 اپریل 2021

سعودی وفد کا گوادر کا دورہ،آئل ریفائنری معاہدہ اگلے ماہ متوقع

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی وزیر پٹرولیم و توانائی شہزاد خالد بن عبدالعزیز الفالح کی سربراہی میں سعودی وفد نے گوادر کا دورہ کیا جس کا مقصد گوادر میں دنیا کی تیسرے بڑے آئل ریفائنری کے معاہدے کی تیاری اور منصوبے کیلئے مختص جگہ کا معائنہ کرنا تھا۔ دس ارب ڈالر کے اس معاہدے پر پاکستان اور سعودی عرب میں اگلے ماہ دستخط کئے جانے کا امکان ہے۔

سعودی وزیر پٹرولیم و توانائی شہزاد خالد بن عبدالعزیز خصوصی طیارے کے ذریعے ہفتے کو گوادر پہنچے۔ ایئر پورٹ پر پاکستان کے وزیر پٹرولیم غلام سرور خان ، وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ علی زیدی ، بلوچستان کے وزیر اطلاعات ظہور احمد بلیدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ اسکول کےبچوں نے سعودی مہمانوں کو گلدستہ پیش کیا۔ سات رکنی سعودی وفد میں سعودی توانائی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بھی موجود تھے۔

انہوں نے آئل ریفائنری کیلئے مختص جگہ اور گوادر کی بندرگاہ کا بھی دورہ کیا۔ گوادر بندرگاہ کے فری زون بزنس کمپلکس میں سعودی وفد کو گوادر میں سرمایہ کاری کے مختلف مواقعوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس بریفنگ میں چینی حکام بھی شریک تھے۔ سعودی وفد نے گوادر میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہارکیا۔ اس موقع پر وفاقی ایڈیشنل سیکرٹری پٹرولیم نے وفد کو بتایا کہ پاکستان یومیہ چھ کروڑ سے زائد بیرل تیل برآمد کررہا ہے، پاکستان میں ایگریکلچر میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، دوسرے شعبوں میں بھی سعودی عرب کا تعاون آنے والے دنوں میں سنگ میل ثابت ہوگاـ

اس موقع پر سعودی شہزادہ و وزیر پٹرولیم اور انرجی خالد بن عبدالعزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ پرانے تعلقات ہیں، جن کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں، سعودی بادشاہ کی خواہش پر آیا ہوں انکی دلچسپی ہے کہ پاکستان پرامن اور ترقی یافتہ ملک بن جائے ، کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کیلئے امن سب سے زیادہ ضروری ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان امن کے اہم ستون ہیں اورپاکستان سعودی ایک دوسرے کے دل کے قریب ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں ـ

سعودی وزیر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف پٹرولیم بلکہ دوسرے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے پاکستان سعودی اور خطے کے لوگوں کیلئے گوادر پورٹ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، سی پیک کے بعد اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سعودی عرب قلیل عرصے میں بہت سے پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرکے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا ـ اُنکا کہنا تھا کہ آئیدہ سعودی عرب پاکستان سے چاول درآمد کریگا ـ گوادر میں مچھلیوں کی نگہداشت کیلئے وسیع پیمانے پر سردخانہ بنائے جائینگے جبکہ پٹرولیم کی برآمدات کیلئے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔

وفاقی وزیر پٹرولیم غلام سرور کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ آئل ریفائنری کے معاہدے پرباقاعدہ دستخط ہونے سے سعودی عرب سی پیک کا حصہ بن جائیگا، سعودی عرب کے سی پیک میں شمولیت سے سی پیک کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا جس سے گوادر سمیت خطے کی ترقی کی راہیں ہموار ہونگی۔

اس موقع پرچائینہ اوورسیزپورٹ ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمین زنگ باؤ ژونگ کا کہنا تھا کہ ہم گوادر میں پرامن اور دوستانہ ماحول میں آزادانہ طور پر کام کررہے ہیں، وفاق صوبے سمیت مقامی افراد کا مکمل تعاون اور حمایت حاصل ہے، ڈیپ سی پورٹ گوادر سمیت خطے کا تابناک مستقبل ہے ـ چین کی کئی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں ۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے مہمان وفد کو گوادر پورٹ جبکہ گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل سجاد حسین نے گوادر ماسٹر پلان اور سی پیک سے متعلق بریفنگ دی۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کےاکتوبر میں سعودی عرب کےدورے کےبعد سعودی حکام کی گوادر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے۔ تین ماہ کے دوران اعلیٰ سعودی حکام گوادر کے دو دورے کرچکے ہیں ۔ گوادر روانگی سے قبل وزیر پیٹرولیم چوہدری غلام سرور خان نے کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگومیں کہنا تھا کہ سعودی وزیر پٹرولیم گوادرمیں آئل ریفائنری کے مجوزہ سائٹ کا دورہ کرنے آرہے ہیں ۔ گوادرمیں جلد اسٹیٹ آف آرٹ ریفائنری بنائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی وزیر پیٹرولیم کے بعد آئندہ ماہ سعودی ولی عہد شاہ سلمان کا بھی دورہ گوادر متوقع ہے۔ سعودی ولی عہد کے دورے کے موقع پر مجوزہ تیل ریفائنری کے سمجھوتے پر دستخط بھی متوقع ہیں جس کے بعد بہت جلد بلوچستان میں ایک جدید آئل ریفائنری کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ چین کو گوادر میں سعودی عرب کی آمد پر کوئی خدشہ نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ بلوچستان حکومت کو بھی اس بارے میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورے کے موقع پر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان میں 15ارب ڈالر تک کی تاریخی سرمایہ کاری کا اعلان متوقع ہے۔ ان منصوبوں کے تحت گوادر میں دس ارب ڈالر کی لاگت سے آئل ریفائنری اور پٹروکیمیکل کمپلیکس کی تعمیر کی جائے گی۔ یہ منصوبے سی پیک کا حصہ ہوں گے۔سعودی عرب کے تعاون سے گوادر میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی آئل ریفائنری سے پاکستان اور چین سمیت وسط ایشیائی ممالک کے تیل کی ضروریات کو پورا کیا جائے گا ۔ اس آئل ریفائنری میں ابتدائی طور پر یومیہ دو لاکھ پچاس ہزار بیرل ریفائن کرنے کی صلاحیت ہوگی۔ آئل ریفائنری سے گوادر سے چین تک درآمد شدہ تیل بجھوایا جائیگا۔ یہ تیل خلیجی ممالک سے درآمد کیا ہوگا اور گوادر آئل سٹی میں ذخیرہ کیا جائیگا۔ گوادر آئل ریفائنری چین تک تیل پہنچانے کا مختصر ترین راستہ ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …