پیر , 22 جولائی 2019

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت دسمبر کے مہینے میں 12 برس کی بلند ترین سطح پر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان آٹو موبائل مینوفیکچررز ایشوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر میں گاڑیوں کی فروخت 12 سال میں بلند ترین سطح پر دیکھی گئی۔نومبر کے مہینے میں گاڑیوں کی فروخت 15،334 سے 16،141 تک بڑھ گئی تھی۔

گاڑیوں کی حالیہ فروخت عوام کے عمومی مزاج کے برخلاف ہے، کیونکہ عموما لوگ کوشش کرتے ہیں کہ سال کے آخری مہینوں میں گاڑی فروخت نا کریں، بلکہ جب نئی گاڑیاں مارکیٹ میں آ جائیں تب ماڈل بدلنے کے لیے گاڑی کو فروخت کیا جائے۔گزشتہ سال کے دسمبر میں گاڑیوں کی فروخت ایک فیصد تک بڑھی ہے، جب کہ پچھلے برس ایسا نہیں تھا۔

معاشی سال 2019 کے پہلے نصف میں باوجود روپے کی قدر میں کمی کے، گاڑیوں کے بنانے والوں کی طرف سے بار بار بڑھائے جانے والی قیمتوں اور نان فائلر ٹیکس پئیرز کو ٹیکس گوشواروں میں لانے کے باوجود کاروں کی فروخت پچھلے معاشی سال کے اسی عرصہ کے 103،432 یونٹس سے بڑھ کر 104،038 یونٹ رہی۔

گاڑیاں فروخت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پچھلے 6 ماہ کے دوران بہت سارے لوگوں نے اپنا معاشی اسٹیٹس نان فائلر سے فائلر میں بدلا ہے۔دسمبر کے مہینے میں سب سے زیادہ سوزوکی گاڑیوں کی فروخت دیکھی گئی، جو کہ پہلے کے مقابلے میں 38 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔

جب کہ سال بھر کے دورانیے میں یہ اضافہ صرف 2 فیصد تھا، جو دسمبر 2017 میں 11،448 تھا جب کہ دسمبر 2018 میں 11، 732 رہا۔سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافہ کلٹس اور راوی کا رہا، کلٹس کا اضافہ 32 فیصد اور راوی کا 13 فیصد تھا۔سوزوکی کلٹس کے یونٹ 10،757 سے 16،082 تک بڑھے جب کہ ویگن آر کے یونٹ 9،501 سے بڑھ کر 14،141 کی تعداد میں فروخت ہوئے۔

انڈس موٹرز کی کارکردگی کافی صحت مندانہ رہی، جس کی ہائی لکس کار کی فروخت 84 فیصد اور کرولا کی فروخت 10 فیصد تک بڑھی، جب کہ فارچونر گاڑی کی فروخت 33 فیصد تک بڑھی۔

دسمبر 2018 میں سب سے کم فروخت ہونے والی گاڑیاں بی آر وی، سٹی اور سوک رہیں، بی ار وی کی فروخت 50 فیصد اور سٹی اور سوک 19 فیصد تک کم ہوئیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ جنوری کے مہینے میں یہ کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔

حالیہ معاشی سال ٹریکٹر انڈسٹری کے لیے مندی کا رجحان لے کر آیا، فیاٹ اور میسی فرگوسن پچھلے سال کے 12،061 اور 20، 154 کے مقابلے میں 8،155 اور 16، 110 تک رہے۔

ٹو وہیلر میں دیکھا جائے تو ہنڈا کے یونٹ 545،018 سے گر کر 543،864 تک پہنچے جب کہ یاماہا اور سوزوکی کے یونٹس کی فروخت بڑھی ہے۔ سوزوکی کے یونٹ 10،442 سے بڑھ کر 11،864 کی تعداد میں فروخت ہوئے جب کہ یاماہا کے 10،354 سے بڑھ کر 12،947 تک چلے گئے۔پاکستان میں دوسرے بڑے موٹر سائیکل سیلر یونائیٹڈ آٹو موٹر بائیک کے یونٹس کی فروخت بھی 198،246 سے بڑھ کر 203،308 تک پہنچی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران نے امریکا سے مذاکرات کی پیشکش کو ایک بار پھر مسترد کردیا

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے مذاکرات کی پیشکش کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی …