بدھ , 23 جون 2021

شام میں ناکامی کا اٹل فیصلہ

(حصہ دوم)

زمینی صورتحال
دو اہم علاقوں اور بعض علاقوں کے کچھ حصوں کو چھوڑ کر اس وقت شام کی سرکارکا پورے ملک پر عملی کنٹرول موجود ہے ۔ادلب کے قریب کا علاقہ ہو یا پھر حلب کے شمالی حصے کا مضافاتی علاقہ دونوں حصوں کے ترکی کے قریب ہونے کے سبب یہاں موجود زیادہ تر شدت پسند گروپوں میں ترکی کا اثر رسوخ موجود ہے

ان علاقوں میں ہیۃ التحریر الشام نامی شد ت پسند گروپ کنٹرول رکھتا ہے ،اس گروہ نے زنگی اور الاحرار الشام نامی گروہوں کو ماربھگانے کے بعد ان علاقوں میں اپنا کنٹرول جمایا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ ترک افواج اور اس گروہ کے درمیان ایک قسم کا تعاون موجود ہے ،بعض زرائع کے مطابق اس گروہ کی جانب سے مقامی آبادی کے ساتھ قدرے بہتر رویے اور بعض سرویسز نے بھی انہیں یہاں پاووں گاڑنے میں مدد فراہم کی ہے ۔

دوسرا اہم علاقہ مشرقی فرات کا علاقہ ہے کہ جہاں کُرد اور امریکی افواج کا کنٹرول ہے باجود اس کے کہ یہ علاقہ عرب اقوام پر مشتمل ہے لیکن یہاں کرد عسکریت پسند امریکی جارح افواج کی مدد سے اپنا کنٹرول رکھتے ہیں ۔

ترکی افواج بھی اس سرحدی علاقے میں اپنی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ جنہیں کردوں کے کنٹرول پر اعتراض ہے یہاں موجود کرد تنظیم پی وائی ڈی کے عسکریت پسند ترک مخالف پی کے کے کی ہی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے ۔

دلچسب بات یہ ہے کہ پی کے کے کو امریکہ بھی دہشتگرد تنظیم کے طور پر ڈکلیر کرچکا ہے لیکن یہاں اسی دہشتگرد تنظیم کے ساتھ نہ صرف تعاون جاری رکھے ہوئےہے بلکہ ان کی سرپرستی کررہا ہے ۔

امریکی انخلا کے بعد اگر ترک افواج شام اس علاقے میں داخل ہوجاتیں ہیں تو اس کا مطلب صرف اس علاقے پرکنٹرول نہیں ہوگا بلکہ جسرالشغور سے لیکر باب الھوی تک کا علاقہ ان کے کنٹرول میں چلاجائے گا کہ جو ایک بڑا اور اہم علاقہ ہے ۔

دو اہم نکات
الف:امریکی انخلاکے بعد کردوں کی مزید موجودگی یہاں ممکن نہیں اور نہ ہی کرد شام کی سرکاری افواج کے ساتھ تصادم چاہتے ہیں جو پہلے سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اس علاقے کو خالی کرنا چاہتے ہیں۔

بولٹن سے لیکر پیمپیو تک کے دوروں کا ایک مقصد جہاں ایک جانب ترکی کو کسی اقدام سے باز رکھنا تھا وہیں پر اپنے ناکام اتحادیوں کی اس آخری خواہش کا احترام بھی تھا کہ ترک افواج کو شام میں گھسنے نہ دیا جائے ۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شام میں ترک افواج کی موجود گی نہیں چاہتے اور ترکی کیخلاف ان کی حکمت عملی میں کردعسکریت پسند ایک اہم پوزیشن رکھتے ہیں ۔

وہ ترکی میں موجود سیاسی اسلام کے ماڈل کو اپنے لئے سخت خطرہ سمجھتے ہیں جو اخوان المسلون کی ایک جدید شکل ہے جبکہ ہیتہ التحریر الشام اپنے کنٹرول کے علاقے میں افغان طالبان کی طرز حکومت کا رویہ رکھتے ہیں جنہیں ترکی سے ڈکٹیشن ملتی ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ بولٹن کی جانب سے امریکی انخلا کے عمل میں سست روی اور ٹائم فریم کی بات کی گئی جبکہ طے یہ تھا کہ جس قدر جلدی ممکن ہو شام سے جان چھڑائی جائے ،جہاں ان کی افواج سوائے بجٹ پر بوجھ بڑھانے کے کوئی کردار نہیں رکھتیں ۔ان علاقوں کے علاوہ کچھ اور چھوٹے علاقے ہیں کہ جن کی بازگشت زیادہ میڈیا میں دیکھائی نہیں دیتی لیکن جلد ہی شائد ہیڈلائنز کی پوزیشن سنبھال لیں

دیر الزور کے ایک چھوٹے سے حصے میں داعش دہشتگرد موجود ہیں جبکہ اسی طرح التنف میں امریکی اور برطانوی افواج کے کچھ اڑے موجود ہیں ۔درعا کے علاقے میں کچھ انتہائی چھوٹے حصے ہیں جہاں بعض دہشتگرد گروپس موجود ہیں ۔

چند نکات
الف:یہ بات واضح ہے کہ شام سمیت مشرق وسطی میں امریکیوں سمیت تمام جارح قوتوں کے لئے زمینی تنگ ہوچکی ہے اور ان کے لئے عافیت اسی میں ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو شام سے اپنی باقی عسکری بساط کو لپیٹ لیں اور اس کا انہیں بھی پوری طرح ادراک ہے ۔

لیکن امریکہ میں بہت سوں کو اس انخلا پر اعتراض ہے جو سمجھتے ہیں کہ اس سے روس کا اثر ورسو خ مزید بڑھے گا ،بعض کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں امریکی اتحادیوں میں موجود مایوسی میں اضافہ ہوگا اور وہ دیگر قوتوں کے قریب چلے جاینگے جبکہ خطے میں موجود امریکی اتحادی اسے اپنے ساتھ امریکی روائتی بے وفائی سے تعبیر کرنے لگے ہیں ۔۔ امریکہ میں بہت سے ہیں جو ٹرمپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ’’ سب سے پہلے امریکہ‘‘ دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہرقسم کے حالات میں بنائے رکھنے سے ہی ممکن ہوگا ۔۔۔

ہم اس موضوع پر آنے والے مضامین میں کھل کر بات کرینگے کہ چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کیخلاف خطے میں امریکی کوششوں کے تناظر میںٹرمپ آخرکیوں تنہا اس ایشو میں ایک قسم کی ہٹ دھرمی دیکھارہا ہے ۔

یہاں صرف اس بنیادی نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنی تمام جنگیں ہار چکاہے لہذا مزید فوجی مداخلت یا موجودگی قومی بجٹ میں بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں ۔صرف چند اتحادیوں کی خواہشات کی تکمیل کے لئے امریکہ مزید لاحاصل جنگیں نہیں لڑسکتا ۔

ب:توکیا شام سمیت یہ خطہ امن کے گیت گا ئے گا ؟ہماری دعا، خواہش اور آرزو یہی رہے گی کہ یہاں کے انسان امن کے گیت گائیں اور سکون کی زندگی جئیں لیکن ابھی پوری طرح امن کے لئے انہیں بہت سی مزید قربانیاں دینے کی ضرورت ہے ۔

ج:اسرائیل کی جانب سے دمشق پر وقفے وقفے سے جاری فضائی جارحیت کی اصل کہا نی کیا ہے اور ایس 300دفاعی سسٹم کی عملی کاروائی دیکھائی کیوں نہیں دے رہی ہے ؟کیا شام ڈیفیس کے علاوہ اٹیک کا خیال بھی رکھتا ہے ؟اور کیا اس وقت خطے کی موجود صورتحال میں ایسا کرنا ایک مثبت قدم کہلائے گا ؟قارئین کے زہنوں میں موجود ایسے بہت سے سوالات کے جوابات ٹیکنکلی انداز سے آنے والے مضامین میں تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

واضح رہے کہ ہماری کوشش ہے کہ رجز خوانیوں اور سب اچھا ہے یا سب بُرا ہے جیسی تکراری باتوں کے بجائے ٹیکنکلی طور پر ایشوزپر گفتگو کی جائے تاکہ قارئین کی تجزیاتی حس میں اضافہ ہو ۔

ہمارا یقین ،’’تلقین اور ڈکٹیشن ‘‘سے زیادہ’’ تجزیہ اور کھنکھالنے والی زہنیت‘‘ کی ترویج ہے لہذا بعض اوقات چبتے سوالات اور سلگتے و پنہاں موضوعات کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر نشاندہی کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے تو بعض اوقات مد مقابل اور مخالف کی زہنیت کو اس کے انداز سے سمجھنے ،پرکھنے اور بیان کرنا بھی ضروری ہے ۔

لہذا ہم نازک مزاج ،نرگیسی طبیعت کے قارئین سے معرزت خواہ ہیں جن کی طبع پر بعض چیزیں گراں بھی گذر سکتی ہیں ۔اس کے علاوہ قارئین اپنی رائے کا مکمل حق رکھتے ہیں جو پیج پر کیمنٹس کی شکل میں بیان کرسکتے ہیں ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

غلیل سے میزائل تک، فلسطین بدل رہا ہے

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس پچھلے گیارہ دن سے جاری جنگ کے خاتمے کا اعلان کر …