منگل , 13 اپریل 2021

"الیاس کنعان ” ننھا منھا فلسطینی آرٹسٹ!

فلسطینی قوم کو قدرت نے ایسے زرخیز دماغوں سے نوازا ہے جس کا اظہار کم عمر بچوں کی بے پناہ دماغی صلاحیتوں اور ان کی ہنرمندی سے کیا جاسکتا ہے۔اس رپورٹ میں مرکز اطلاعات فلسطین نے اپنے قارئین کو ایک ننھے منھے فلسطینی آرٹسٹ کے بارے میں بتانے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شائقین اور زائرین کی توجہ حاصل کرنے والا یہ ننھا منھا فلسطینی ‘الیاس کنعان’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی ہنرمندی کے مداحوں کی تعداد اب لاکھوں میں ہوچکی ہے۔ بیروت میں ننھے الیاس کنعان نے اپنے ہاتھوں سے تیار کردہ پینٹنگز کی نمائش کی۔ وہ یکے بعد دیگر اپنی پینٹنگز اٹھاتا اور زائرین کو دکھاتا۔ اس نمائش میں بچے کی حسن کار کردگی اور پینٹنگز نے الیاس کنعان کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے رنگوں سے کھیلنے والے بچے کے طور پر جانا جانے لگا۔

الیاس کعنان نے اس وقت پینٹنگز بنانا شروع کیا جب اس کی عمر تین سال تھی اور وہ اب سات سال کا ہوچکا ہے۔ وہ لبنان کے جنوبی شہر صیدا میں رہائش پذیر ہے اور پینٹنگز اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ کم عمری میں اس کے ہاتھوں سے بنائی گئی پینٹنگز نے کافی شہرت حاصل کی ہے۔

الیاس کنعان کے اہل خانہ اور دیگر اقارب کاکہنا ہے کہ جب انہوں‌ نے محسوس کیا کہ بچہ بلا کا ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ کا بھی شوقین ہے۔ وہ پینٹگنز بنانے اور فائن آرٹ کا کام کرنے کا نہ صرف شوقین ہے بلکہ اس میں‌ اس فن کی بے پناہ صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔

الیاس کنعان کے بڑے بھائی محمد نے ‘العودہ’ نیوز نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیاس نے تین سال کی عمر میں مختلف چیزوں کے خاکے بنانا شروع کردیے تھے۔ یوں اس نے چار سال قبل یہ کام شروع کیا۔ محمد نے بتایا کہ ایک بار ہم صیدا اپنی امی سے ملنے گئے تو وہاں پر الیاس فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی ایک تصویر کو غور سے دیکھنے کے بعد ان کی تصویر پینٹ کر رہا تھا۔وہ انتہائی باریکی کے ساتھ یاسر عرفات کے چہرے کے خدو خال کو دیکھتا اور قلم سے کاغذ پر ان کا نقش اتارتا ہے۔

جب اسے ایک مقامی پرائمری اسکول میں داخل کیا گیا تو اس وقت اس کی عمر پانچ سال تھی۔ اس وقت تک الیاس اپنے آس پاس اپنی پینٹنگز کی بدولت شہرت حاصل کرچکا تھا۔ جب اسکول میں اس کے اساتذہ نے بچے کی ہنرمندی کا ملکہ دیکھا تو اس کے اساتذہ بالخصوص فائن آرٹس کی ایک معلمہ نے اس کی بہت مدد کی۔

الیاس کنعان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کم سن ہونے کے باوجود الیاس کنعان دنیا کی مشہور شخصیات، اور مشہور مقامات اور دن کے مختلف اوقاف، مناظر اور مظاہر فطرت کو اپنی ہنرمندی کے ذریعے خاکوں کی شکل دیتا ہے۔

چند روز قبل لبنان کے پناہ گزین کیمپ میں ایک فلسطینی بچہ علاج کی سہولت نہ ملنے کے باعث دم توڑ گیا۔ جب ٹی وی چینل پر یہ خبر نشرہوئی تو الیاس نے قلم اور کاغذ اٹھائے اور بے سروسامانی کے عالم میں لقمہ اجل ہونے والے بچے محمد وھبی کا خانہ بنانا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے دست ہنرسے ان مناظر کو بھی نقوش کی شکل دینے کی کوشش کی ہے جو فلسطینی قوم کی اجتماعی محرومی کی عکاسی کرتے ہیں۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …