جمعہ , 23 اپریل 2021

تعمیری ابہام کی پالیسی کیا ہے؟Policy of constructive ambiguity

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسینجر نے مشہور کتاب والڈآڈرمیں کچھ نئی اصطلاحات کا استعمال کیا ہے اور اسی طرح خارجہ پالیسی کے ادارے بھی بہت سی اصطلاحات کا استعمال کرتے ہیں .انہی اصطلاحات میں سے’’ تخلیقی بحران‘‘ اور’’ تعمیری ابہام کی پالیسی‘‘ جیسی اصطلاحات ہیں

اس سے پہلے ہم تخلیقی بحران کے بارے میں گفتگو کرچکے ہیں کہ کیسے کسی ملک یا معاشرے میں مصنوعی بحران پیدا کرکے وہاں پر سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے لئے گرونڈ ہموار کیا جاتا ہے ،یہاں تک کہ اس بحران کو ایجاد کرنے کے لئے ہزاروں اور لاکھوں انسان ہی کیوں ہ مر جائیں یا دربدر کی ٹھوکریں کھائیں اس کی تازہ مثال شام ،لیبیا اور عراق ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ ان نئی نئی اصطلاحات کا مقصد مشرق وسطی کے زخیزخطے کو نئے خطوط اور شکل و صورت reshapeدینا تھا ۔

نئے مشرق وسطی کی تخلیق کی سوچ گرچہ عملی شکل اختیار نہ کرسکی لیکن اس کے لئے مرتب کی جانب والی پالیسیز اور ان پالیسی کی عکاس اصطلاحات آج زبان زد عام ہیں جیسے دُہری پکڑ Dual containmentتخلیقی بحران اور تعمیری ابہام کی پالیسی ۔۔۔۔

تعمیری ابہام کی پالیسی اس وقت اختیار کی جاتی ہے کہ جب دنیا کو یہ باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ کسی کے بھی حامی نہیں ہیں یا پھر سب کے ساتھ ہیں ۔یا پھر اپنے اصل پلان اور موقف کو پوشیدہ رکھتے ہوئے دنیا کو یہ یقین دلانا ہوتا ہے کہ وہ ایسا کوئی پلان نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ ان کا موقف ہے ۔

جیسے بہت سے ممالک شدت پسندوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن رسمی طور پر ہمیشہ ایک قسم کا ابہام موجود رہتا ہے کہ ان کی اصل پالیسی کیا ہے ۔
دو متحارب گروہوں میں سے ہر ایک یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ فلاں ملک اس کا حامی ہے یا مخالف نہیں ہے ۔

مشرق وسطی کے مختلف بحران ہمیں تعمیری ابہام کی پالیسی کو سمجھانے کا بہترین میدان فراہم کرتے ہیں قطر اور دیگر خلیجی ممالک کے درمیان تنازعہ میں امریکی و دیگر ممالک کی پالیسی اب تک تعمیری ابہام کو لئے ہوئےہے ۔

عراق و شام میں موجود شدت پسندی کیخلاف جنگ میں ترکی سمیت بہت سے ممالک اسی پالیسی کو فالو کررہے ہیں ۔کُردوں کاایشو ہو یا پھر افغانستان میں شدت پسندی کا خاتمہ ہمیں یہی پالیسی دیکھائی دیتی ہے ۔
حتی اب اس انداز کو بہت سے سیاسی رہنما اپنے ممالک کی داخلہ پالیسی کے لئے بھی اختیار کرنے لگے ہیں ۔

جیسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ملک میں ایسی تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ پر اعتماد بحال ہو لیکن اس تبدیلی کی تفصیلات کبھی واضح نہیں کی گئیں اور تجزیہ کار اس کے صرف تجزیے ہی کرتے رہے ۔

یہاں تک سیکوریٹی کونسل نے بہت سی ایسی قراردادیں پاس کیں ہیں کہ جس میں اسی تعمیری ابہام کو بروئے کار لایا گیا اور شفافیت و وضاحت سے کنارہ کشی کی گئی ہے۔
فلسطینی اسرائیلی تنازعے کی بہت سی قراردادوں میں اس تعمیری ابہام کو بہت اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے ہمارے خیال میں تعمیری ابہام کی پالیسی کا استعمال بہت سے مسائل میں اس انداز کی کیا جاتا ہے کہ اسے منافقت اور دوہری پالیسی کہا جاسکتا ہے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …