جمعہ , 22 مارچ 2019

کارگل کی جنگ، انٹیلیجنس کی ناکامی؛سابق کمانڈر کا اعتراف

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)انڈین فوج کے ایک سابق اعلی ترین کمانڈر نے کہا ہے کہ سنہ 1999 میں پاکستان فوج کی طرف سے کارگل کے علاقے میں در اندازی ملٹری انٹیلی جنس اور دوسرے خفیہ اداروں کی ایک بہت بڑی ناکامی تھی۔انڈین خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے اتوار کو بھوپال میں ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہی۔

انڈیا کی فوج کے جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مقصد کارگل میں پیش قدمی کر کے کشمیر کے مسئلہ کو عالمی طور پر اجاگر کرنا اور کارگل کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کو تبدیل کرنا تھا۔لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ مہندر پوری نے اس لڑائی کے دوران آپریشن وجے میں شامل آٹھویں ماونٹن ڈویژن کی کمان کی تھی۔

انھوں نےکہا کہ مئی 1999 کے آخری ہفتے میں بٹالک سیکٹر میں تھرڈ انفینٹری ڈوژن کو پاکستان فوج کی پیش قدمی کی اطلاع ملی۔ انھوں نے اس معرکے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بعد میں اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ پاکستانی فوج نے ایک وسیع علاقے میں پیش قدمی کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس پیش قدمی کا دفاعی مقصد سری نگر سے لیہ جانے والی سڑک کو بلاک کرنا تھا تاکہ سیاچین کا زمینی رابطہ منقطع کیا جا سکے۔جنرل مہندر نے کہا کہ اس پیش قدمی سے پاکستان کو انڈیا کی ریاست ہماچل پردیش میں دراندازوں کو بھیجنے کے لیے نئے راستے بھی مل سکتے تھے۔

آپریشن وجے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا انھیں سب سے پہلے دراس مشکوک سیکٹر میں ہائی وے ون ڈی کو محفوظ بنانے اور لائن آف کنٹرول کو اپنی جگہ پر بحال کرنے کا کام دیا گیا۔آپریشن وجے کی کامیابی کا سہراہ ان کے بقول انڈین فوج کے نوجوان افسروں کو جاتا ہے جنھوں نے بڑی بہادری سے اس آپریشن میں حصہ لیا۔

یہ بھی دیکھیں

برطانوی وزیراعظم کا عہدے سے مستعفی ہونے کا عندیہ

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم تھریسامے نے کہا کہ اگر بریگزٹ ...