پیر , 22 جولائی 2019

شام سے امریکی افواج کے انخلا کا فیصلہ اور خطے کی بدلتی صورتحال(2)

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس)

گذشتہ سے پیوستہ
شام سے امریکی فوجی انخلا کے بارے کوئی حتمی رائے دینے سے پہلے امریکہ کے اندر اور امریکی اتحادیوں کے ردعمل کا مختصر جا‏ئزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ شام میں داعش کو شکست دینے کے بعد وہاں سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر ملکی اور غیر ملکی حلقوں حتی امریکہ کے اتحادی ملکوں نے منفی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ داخلی سطح پر ٹرمپ کے فیصلے پر ہونے والی زیادہ تر تنقید اس سبب سے تھی کہ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کو مطمئن رکھنے کی غرض سے واشنگٹن کے علاقائی عہد و پیمان کی پابندی نہیں کی ہے، ساتھ ہی یہ کہ ناقدین کا خیال ہے کہ شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے ساتھ ہی اس ملک میں روس، ایران اور اس کے اتحادیوں کی پوزیشن مضبوط ہونے کا راستہ ہموار ہوگیا ہے اور اس کے بالمقابل واشنگٹن کے علاقائی اتحادیوں خاص طور پر اسرائیل کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ آلاباما یونیورسٹی کے پروفیسر نادر انتصار کے بقول امریکہ کا یہ فیصلہ یا بہتر طور پر کہیں کہ ٹرمپ کا فیصلہ موجودہ دور میں مکمل طور پر خلاف توقع تھا، جس سے امریکہ کی خارجہ پالیسی کے ڈھانچے کو دھچکا لگا ہے۔

امریکی حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار کے بقول ٹرمپ نے یہ فیصلہ ایسے میں کیا ہے کہ صرف چند ہفتے قبل ہی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے سینیئر حکام کو یہ مشن سونپا تھا کہ وہ امریکی اتحادیوں کو اطمینان دلائیں کہ جب تک ایران شام سے خارج نہیں ہوتا، امریکی فورسز شام میں تعینات رہیں گی۔ ان کے بقول ٹرمپ کے اس فیصلے کے اعلان نے امریکی اتحادیوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور شمالی شام میں تعینات کرد ملیشیا کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا ہے کہ ایسا ہو جائے گا۔ امریکہ کی داخلی پالیسی کے میدان میں، امریکہ کے ممتاز سینیٹروں کی جانب سے بہت زیادہ ردعمل سامنے آیا ہے۔ پارٹی کی سطح پر بھی ٹرمپ کے اس فیصلے کی ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز نے وسیع مخالفت کی ہے، کیونکہ دونوں پارٹیوں کا ماننا ہے کہ داعش، عراق اور شام میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ اقدام داعش دہشت گردوں کے مزید مضبوط ہونے کا باعث بنے گا۔

اس سلسلے میں امریکہ کے ممتاز سینیٹر لینڈسی گراہم کا نام لیا جا سکتا ہے، انہوں نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے ٹرمپ کے فیصلے کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے، جو امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما کی پالیسیوں کے مشابہ ہے۔ گراہم نے اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہ داعش کو شام، عراق اور افغانستان میں شکست نہیں ہوئی ہے، علاقے میں ان کے بقول ایران پر لگام لگانے کے حوالے سے ٹرمپ کے موقف کو صحیح بتایا، لیکن ساتھ ہی شام سے امریکی فوج کے انخلا کو ٹرمپ کے توسط سے ایک غلط اور نادرست اقدام قرار دیا۔ گراہم نے اسی طرح امریکی سینیٹ میں ایک قرارداد پیش کرنے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا کہ جس میں ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شام سے امریکی فوجیوں کو باہر نکالنے کے اپنے فیصلے کو تبدیل کریں۔ سینیٹ کے سینیئر سینیٹر مارکو روبیو نے کہا ہے کہ شام سے امریکہ کے فوجیوں کا فوری اور مکمل انخلا ایک بڑی غلطی ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ اس کے باوجود کچھ ردعمل تنقید آمیز نہیں تھے، جیسا کہ سینیٹر رنڈپال نے ٹرمپ کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں ٹرمپ کے توسط سے کامیابی کی خبر اور جنگ سے اپنے فوجیوں کے نکالے جانے کے اعلان سے خوش ہوں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل نے شام سے امریکی فوج کے نکالے جانے کے ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں ان کے ریپبلیکنز حامیوں کے درمیان اندروںی سطح پر شورش کے آغاز کے بارے میں خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کا صدارت کی کرسی پر باقی رہنا اب خطرے میں پڑگیا ہے۔ سیاسی ماہر والٹر راسل میڈ Walter Russell Mead کے بقول شام اور افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ سیاسی لحاظ سے خطرناک ہے اور اس سے انتہا پسند ریپبلیکنز سیاسی تنہائی کا شکار ہوجائیں گے۔ کانگریس کے علاوہ امریکی حکومت کے سینیئر اراکین نے بھی ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کو نادرست اور غلط بتایا ہے۔ ٹرمپ کے فیصلے پر ایک حکومتی کارندے کا سب سے اہم ردعمل جو سامنے آیا، وہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا تھا۔ میٹس نے جمعرات بیس دسمبر کو یعنی ٹرمپ کی جانب سے شام سے امریکی فوج کے انخلا کا فیصلہ سنائے جانے کے اعلان کے ایک دن بعد یہ اعلان کرکے امریکہ کے سیاسی ڈھانچے کو حیرت زدہ کر دیا کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

میٹس نے اس سے قبل کہا تھا کہ جب تک شام میں صورتحال مستحکم نہیں ہوتی، امریکہ اور اس کے اتحادی اس ملک سے نہیں نکلیں گے۔ ان کے نقطہ نگاہ سے امریکہ کی طاقت امریکی اتحادیوں کے طاقتور چینل سے وابستہ ہے۔ میٹس کے بقول اپنی ایک حیثیت اور پوزیشن کے باوجود، ایک ٹھوس اور مستحکم اتحاد کی حفاظت اور اتحادیوں کا احترام کئے بغیر اپنا موثر کردار ادا نہیں کرسکتے ہیں۔ امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران جب تک شام کی سرزمین پر فعالیت کر رہا ہے، ہم اس وقت تک اس ملک سے نہیں نکلیں گے۔ امریکہ کے موجودہ وزیر خارجہ مائیک پامپیئو نے بھی اس وقت کہ جب وہ امریکی سی آئی اے کے سربراہ تھے، شام سے امریکی فوج کے انخلا کی مخالفت کی تھی۔ امریکہ کے سینیئر سینیٹر لینڈسی گراہم نے ایک تقریر میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا یہ خیال ہے کہ ابھی شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے لئے مناسب وقت نہیں ہے۔ وزیر خارجہ مائیک پامپیئو کا بھی خیال ہے کہ شام کی میدانی صورتحال کے پیش نظر اس ملک سے امریکی فوجیوں کو باہر نکالا جانا مناسب نہیں ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ٹرمپ نے آخر یہ فیصلہ کیسے لیا۔

ناقدین کے نقطہ نگاہ سے مجموعی طور پر شام سے امریکی فوجیوں کو نکالنے کے لئے ٹرمپ کا فیصلہ ایک مکمل پسپائی ہے کہ جو کسی تحقیق و جائزے اور ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھے بغیر کیا گیا ہے اور اسی بنا پر واشنگٹن اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شام سے امریکی فوج کے انخلا کے سلسلے میں ٹرمپ کے فیصلے پر امریکہ کے قریبی اتحادیوں نے بھی منفی ردعمل ظاہر کیا ہے اور جرمنی، فرانس، برطانیہ اور اسرائیل نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ شام سے امریکی فوجیوں کے نکل جانے سے سب سے بڑی شکست اسرائیل کی ہوگی۔ اسرائیل کی اپوزیشن لیڈر زیپی لیونی نے کہا ہے کہ امریکہ شام سے اپنی فوج کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے نکال رہا ہے کہ وہ شام میں صرف داعش کی وجہ سے موجود تھا، جبکہ اس نے شام میں ایران کی بھرپور موجودگی کو نطر انداز کر دیا، یہ چیز اسرائیل کے لئے خطرناک ہے اور ساتھ ہی ایک سیاسی و سکیورٹی شکست کے مترادف ہے کہ جو نتن یاہو کے نام درج ہوئی۔

واشنگٹن کے یورپی اتحادیوں نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام پر بہت زیادہ تنقید کی ہے۔ جرمن حکومت نے اس سلسلے میں فیصلے کے لئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ امریکی صدر کی جانب سے ہم آہنگی نہ کرنے پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ جرمن حکومت کے نائب ترجمان اولریک ڈیمر Ulrich Diemer نے ٹرمپ کے فیصلے سے برلین کو کوئی اطلاع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جرمن حکومت کا خیال ہے کہ داعش دہشت گردوں کا خطرہ بدستور موجود ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ برطانیہ کے نائب وزیر دفاع ٹوبیاس الووڈ Tobias Ellwood نے کہا ہے کہ شام میں داعش کی شکست کے سلسلے میں ٹرمپ کے نظریئے کا میں سخت مخالف ہوں۔ فرانس بھی کہ جس نے گذشتہ برسوں کے دوران نام نہاد داعش مخالف اتحاد کی کارروائیوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، ٹرمپ کے فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے۔ فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوج کو باہر نکالنے کے ٹرمپ کے فیصلے پر مجھے بہت زیادہ افسوس ہوا ہے۔ فرانس کے وزیر دفاع فلورانس پارلی نے بھی ٹرمپ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے انتہائی تباہ کن فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ شام میں ہمار مشن ابھی جاری ہے۔

دوسری جانب شام، ترکی اور روس کی حکومتیں، خوشی کے ساتھ ٹرمپ کے فیصلے پر عملدرآمد کی نظارہ گر ہیں۔ شام کی حکومت کے لئے امریکی فوج کا اس ملک سے انخلا ایک غاصب فوج کے انخلا کے مترادف ہے اور اس اقدام سے شام کی حکومت کو اس ملک کے تمام علاقوں منجملہ شمالی اور شمال مشرقی علاقوں پر مکمل تسلط کا موقع فراہم ہوگا۔ ترکی کا بھی خیال ہے کہ شام کے علاقے مشرقی فرات سے امریکی فوج کے نکل جانے سے اس علاقے میں مسلح کردوں کو، جو ان کے بقول "پی کے کے” کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، سرکوب کرنے کے لئے حالات سازگار ہوں گے۔ شام سے امریکی فوج کے نکل جانے سے روس کو اپنی فوجی اور سفارتی طاقت بڑھانے کا موقع ملے گا۔ ماسکو کے نقطہ نگاہ سے شام میں امریکی فوج کی موجودگی غیر قانونی ہے اور اسے ختم ہونا چاہیئے۔ روس کے سینیئر حکام نے شام سے امریکی فوج کے انخلا کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے کہا ہے کہ ہمیں شام میں امریکی فوج کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے اور اس کا وجود تو وہاں غیر قانونی ہے۔ مجھے واقعاً نہیں معلوم کہ امریکہ شام سے اپنے فوجیوں کو کیسے نکالے گا، اس لئے کہ امریکہ سترہ برسوں سے افغانستان میں موجود ہے اور امریکی حکام ہر سال یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے فوجیوں کو اس ملک سے نکال رہے ہیں، لیکن ابھی بھی وہ افغانستان میں موجود ہیں۔ ماسکو کے نقطہ نگاہ سے امریکہ کے علاقائی مفادات اور اہداف کے پیش نظر ایسا نہیں لگتا کہ یہ ملک ان مفادات اور اہداف سے چشم پوشی کرکے اچانک شام سے چلا جائے گا۔ اسی طرح ایران کا بھی خیال ہے کہ امریکہ نے داعش کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے بقول امریکہ نے ہرگز داعش سے جنگ نہیں کی اور شام میں اس کی موجودگی اس ملک کی قوم یا حکومت مخالفین کے حق میں نہیں رہی ہے۔

امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے استعفے کے بعد نام نہاد داعش مخالف بین الاقوامی اتحاد میں امریکی صدر کے خصوصی نمائندے برٹ مک گورک Brett McGurk نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بھی فروری 2019ء میں اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ ٹرمپ کے فیصلے پر ان دو سینیئر امریکی عہدیداروں کے استعفے کے بعد امکان ہے کہ مزید عہدیداران بھی اپنے استعفے دیں گے۔ جیمز میٹس نے اتوار تیئیس دسمبر کو واشنگٹن کے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں شام سے تمام امریکی فوجیوں کے نکل جانے کے فرمان پر دستخط کر دیئے تھے۔ ٹرمپ نے بارہا اپنے سیاسی مخالفین کو چیلنج سے دوچار کیا اور ان کو غصہ دلایا ہے، لیکن شام کے بارے میں ان کا فیصلہ ان کے اتحادیوں کو بھی ان سے دور کر دے گا، ایسے اتحادی کہ جنہیں وہ ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہے گا۔ اس وقت شام سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں ٹرمپ کے حقیقی اہداف اور عزائم کے سلسلے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض علامتوں سے ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ ممکن ہے کہ اپنے داخلی حامیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نمائشی طور پر علاقے میں فوج کی تعیناتی میں تبدیلی لائیں۔

امریکی فوج کا گذشتہ سال ہی شام سے نکل جانا طے پایا تھا، لیکن سعودی حکومت کی درخواست پر اور اس کی جانب سے چار ارب ڈالر کی رقم دینے کے بعد یہ انخلا کا عمل التوا میں پڑگیا تھا۔ اسرائیل اور سعودی عرب شام سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر سخت ناراض ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے بقول اسرائیل کو امریکہ کے دیگر علاقائی اتحادیوں سے زیادہ شام سے امریکی فوج کے انخلا کا نقصان پہنچے گا، کیونکہ شام کا بحران حقیقت میں مزاحمت کو نابود کرنے اور غاصب اسرائیلی حکومت کو سکیورٹی فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا تھا، لیکن دہشت گرد گروہوں کی شکست اور شام سے امریکی فوج کے انخلا سے یہ سازش شکست سے دوچار ہو رہی ہے، جس سے مقاومت و استقامت کا بلاک پہلے سے زیادہ طاقتور ہوگا۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ٹرمپ پر شام سے فوجی انخلا کے حوالے سے شدید دباؤ ہے، لیکن دوسری طرف حقا‏ئق اس بات کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ کا شام میں موثر کردار آخری سانسیں لے رہا ہے۔ اس بے یقینی کے عالم میں امریکہ کی فوجی موجودگی فائدہ سے زیادہ نقصان دہ ہے، لہذا اس میں تاخیر تو ہوسکتی ہے منسوخی نہیں۔ اس کی ایک دلیل حال ہی میں امریکہ کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ شام سے انخلا کا عمل تیس دن سے ایک سو بیس دن کر دیا جائے۔ امریکی وزیر خارجہ کے خطے کے حالیہ دورہ جات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، البتہ اس سے ہرگز یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ امریکہ خطے اور شام میں اپنے مفادات سے دستبردار ہو رہا ہے بلکہ اس نے پینترا بدل کر پھر وار ضرور کرنا ہے، کیونکہ وہ اپنے لاڈلے یعنی اسرائیل کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔

یہ بھی دیکھیں

روٹی مہنگی غم سستے

(افشاں ملک) گندم بحران اورمہنگی روٹی کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا ہے …