اتوار , 17 فروری 2019

افغانستان میں امریکی امن منصوبہ، اہداف اور درپیش چیلنجز

(تحریر: جمال الدین غیاثی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کم ترین اخراجات اور انسانی قوت کے ذریعے سیاسی اہداف آگے بڑھانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اور اپنی صدارت کے آغاز سے لے کر آج تک اسی پالیسی پر زور دیا ہے۔ عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا، شام سے امریکی فوجیوں کی وطن واپسی کا اعلان اور آخرکار افغانستان سے بھی فوج واپس بلانے کا فیصلہ اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ اور دیگر امریکی سیاست دان جو سوچتے تھے کہ چند محدود سالوں میں ہی افغانستان میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتے ہیں اور اس ملک میں اپنے اشاروں پر چلنے والی حکومت برسراقتدار لا سکتے ہیں جنگ کے طول پکڑنے سے بہت ناخوش ہیں لہذا اب اپنی سابقہ پالیسی میں تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اپنی پالیسی تبدیل کر کے اور مذاکرات کا راستہ اپنا کر افغانستان میں مطلوبہ سیاسی اہداف حاصل کر سکتا ہے؟

اس سوال کا جواب دینے اور امریکہ کی جانب سے فوجی راہ حل کی جگہ سیاسی راہ حل اختیار کرنے کی وجہ معلوم کرنے کیلئے سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ امریکہ اس سیاسی راہ حل سے کیا مطلوبہ اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکی حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر وہ سیاسی طریقہ کار سے عزت مندانہ انداز میں افغانستان سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ایک طرف افغانستان میں ہونے والے اخراجات سے جان چھڑا کر انہیں عرب ممالک کے ذمے لگا دیں گے اور دوسری طرف اس ملک میں اپنا سیاسی اثرورسوخ جاری رکھیں گے۔ دوسری طرف امریکہ نئی پالیسی کے تحت افغانستان میں فوجی اڈے بھی برقرار رکھ سکے گا اور خطے میں اپنی جاسوسی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے ایران، چین اور روس جیسے ممالک پر نظر بھی رکھ سکے گا۔ امریکی حکام یہ یقین بھی حاصل کر سکتے ہیں کہ آئندہ افغان حکومت مغربی پالیسیوں کی حامی ہو گی۔

امریکہ کی نئی پالیسی کے دیگر اہداف میں عالمی سطح پر اپنے حریف ممالک جیسے چین، روس اور ایران کا افغانستان میں اثرورسوخ کم کرنا ہے۔ وہ یہ اہداف اپنے اتحادی ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی افغان مذاکرات میں موجودگی اور انہیں طالبان کے ساتھ قرار دے کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ البتہ یہ امریکہ کے نئے اہداف نہیں ہیں۔ امریکہ نے 2001ء میں افغانستان پر فوجی جارحیت کے بعد سے ہی ان اہداف کے حصول کی کوشش شروع کر دی تھی اور اب تک اس راستے میں اپنے 2500 فوجی قربان بھی کر چکا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ یہ اہداف حاصل کرنے میں ذرہ برابر کامیاب نہیں ہوا۔ اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ماضی کی ناکامیوں اور تجربات کی روشنی میں فوجی راہ حل کی جگہ سیاسی راہ حل اختیار کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ افغانستان میں امریکی امن منصوبہ ان اہداف کے حصول کیلئے بنایا گیا ہے۔

قیام امن، افغانستان کی قومی ضرورت
افغانستان گذشتہ چالیس سال سے جنگ اور بدامنی کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس ملک کے تمام سیاسی، سماجی، ثقافتی اور اقتصادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں اور عوام جنگ سے تھک کر پرسکون اور پرامن زندگی کی تلاش میں ہے۔ امن، افغانستان کی فوری قومی ضرورت بن چکا ہے لیکن بعض بیرونی قوتیں اور ملکی سیاستدان حالات کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام پر اپنی مرضی ٹھونسنا چاہتے ہیں۔ افغان عوام ماضی کی جانب پلٹنا نہیں چاہتے اور امن کے نام پر ماضی کے تجربات دہرانا پسند نہیں کرتے۔ افغانستان کا موجودہ آئین، انسانی حقوق، شہری آزادیوں، سیاسی گروہوں اور جماعتوں کی آزادی، میڈیا کی آزادی، مدینہ فاضلہ، تعلیم اور تعلیمی اداروں کی ترقی، خواتین کے حقوق، الیکشن وغیرہ افغان عوام کی طویل جدوجہد، ہزاروں شہداء، زخمیوں اور کئی کروڑ مہاجرین کے ثمرات ہیں۔ یہ امتیازات کسی ملک نے افغانستان کو عطا نہیں کئے بلکہ خود عوام نے اپنی جدوجہد سے انہیں حاصل کیا ہے۔ دوسری طرف طالبان خاص قسم کے سیاسی اور مذہبی نظریات کا حامل گروہ ہے جو ان ثمرات سے ہم آہنگی نہیں رکھتا۔

امریکی اہداف قیام امن سے مناسبت نہیں رکھتے
افغانستان کیلئے امریکی امن منصوبے کی راہ میں درپیش سب سے پہلی رکاوٹ اور چیلنج خود امریکہ کے اہداف ہیں۔ اس وقت افغان عوام امریکی اہداف اور طریقہ کار سے بہت اچھی طرح واقف ہو چکے ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکہ ایک مخصوص ہدف کی خاطر افغانستان میں موجود ہے اور یہ ہدف پائیدار امن کے حصول پر مبنی افغان عوام کی آرزووں سے واضح تضاد رکھتا ہے۔ امریکی امن منصوبے کو درپیش دوسرا بڑا چیلنج وہ تضاد ہے جو افغان عوام کے مطالبات اور طالبانی نظام حکومت میں پایا جاتا ہے۔ قبائلی طرز پر استوار طالبان کے سیاسی نظام میں انسانی حقوق، الیکشن، میڈیا کی آزادی اور خواتین کے حقوق کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ طالبان آزادی، جمہوریت اور الیکشن کو مغربی محصول قرار دیتے ہیں اور عوام کے ارادہ اور خواہش کی بجائے ان کیلئے اپنے گروپ کے لیڈر کا ارادہ اور خواہش مقدم ہے۔

اگرچہ افغان عوام کی نظر میں موجودہ حکومت ایک نالائق، کمزور اور کرپٹ حکومت ہے لیکن اگر عوام کو موجودہ حکومت اور طالبان میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حق دیا جائے تو وہ موجودہ حکومت کو ترجیح دیں گے۔ موجودہ حکومت عوامی ووٹ کی بنیاد پر تشکیل پائی ہے اور اسے عوامی مینڈیٹ حاصل ہے۔ طالبان نے ابوظہبی میں افغان حکومت کے وفد سے ملاقات کرنے سے انکار کر کے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات اور امن پر عقیدہ نہیں رکھتے اور ان کا مقصد صرف افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہے۔ شاید طالبان امریکہ کے فوجی انخلا کے بعد موجودہ حکومت کی سرنگونی کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ طالبان کا حتمی مقصد افغانستان میں ایک ایسی حکومت کی تشکیل ہے جس کی بنیاد شدت پسندانہ مذہبی نظریات پر استوار ہو اور ایسی صورت میں افغانستان پر دوبارہ ایک آمرانہ نظام حکومت حکمفرما ہو جائے گا۔

امریکی امن منصوبے پر افغان حکومت کا ردعمل
افغان حکومت نے امریکہ کے اس نئے منصوبے کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان کے امور کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمائے خلیل زاد نے بھی افغان حکومت سے اس امن منصوبے میں شامل ہونے اور آئندہ انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جسے افغان حکام مسترد کر چکے ہیں۔ افغانستان میں انتخابات کیلئے امیدواروں کی رجسٹریشن کا کام جاری ہے۔ دوسری طرف افغان صدر اشرف غنی نے حکومتی عہدے داروں میں تبدیلی کرتے ہوئے اسداللہ خالد کو نیا وزیر دفاع اور امراللہ صالح کو نیا وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔ ان کے اس اقدام کے دو مقصد بیان کئے جا رہے ہیں: ایک تو ان افراد کی شہرت اور اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے آئندہ انتخابات کو بھرپور انداز میں منعقد کرنا ہے۔ دوسرا ہدف ایک طرح سے نئے امریکی منصوبے کی مخالفت کا اظہار اور طالبان سے ڈیل نہ کرنے کا فیصلہ ہے۔

صالح اور خالد سابقہ افغان صدر حامد کرزئی کے دور میں بھی فوجی اور سکیورٹی ذمہ داریاں ادا کر چکے ہیں لہذا انہیں ان شعبوں اچھا تجربہ حاصل ہے۔ مزید برآں، یہ دونوں افراد طالبان کے شدید دشمن کے طور پر جانے جاتے ہیں لہذا ان دو اہم عہدوں پر ایسے افراد کی تعیناتی کا نتیجہ طالبان سے جنگ کی شدت میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اشرف غنی نے اپنے اس اقدام کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ وہ محض امریکہ سے مذاکرات کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ افغانستان سے متعلق امریکی امن منصوبے کی ایک اور بڑی مشکل یہ ہے کہ اس میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور علاقائی طاقتوں کو بالکل نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ روس، ایران، بھارت اور چین افغانستان کے پڑوس میں چار موثر عالمی اور علاقائی کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں۔ ان ممالک کا افغانستان میں اثرورسوخ کسی حوالے سے بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے کم نہیں ہے۔

امریکہ کی جانب سے افغانستان کیلئے پیش کردہ امن منصوبے میں ان چار ممالک کا کوئی کردار نظر نہیں آتا جبکہ یہ ممالک افغانستان میں ہر قسم کے سیاسی عمل میں موثر کردار نبھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہذا افغانستان میں قیام امن کیلئے پیش کردہ امریکی منصوبہ بہت زیادہ رکاوٹوں اور مشکلات کا شکار ہے اور اگر موجودہ طریقہ کار تبدیل نہ کیا گیا تو یقیناً اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ جیسا کہ گذشتہ 18 برس کے دوران امریکہ کے سارے منصوبے اور پالیسیاں ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شروع ہونے والا یہ سیاسی عمل بھی بے نتیجہ ختم ہو جائے گا۔ یہ بات صحیح ہے کہ قیام امن افغانستان کی قومی خواہش ہے لیکن ہر ایسا منصوبہ جس میں عوامی مفادات کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہو اور عوام کی چالیس سالہ جدوجہد کے ثمرات پس پشت ڈال دیے گئے ہوں ہر گز نیتجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...