اتوار , 17 فروری 2019

حماد اہل بیت شہید محسن نقوی

(تحریر : انجم رضا)

اردو ادب کے قادرالکلام شا عر حماد اہل بیت شہید محسن نقوی کا آج یوم شہادت ہے، شہید محسن نقوی کو حماد اہل بیت کا لقب خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی اعلی اللہ مقامہ نے عطا کیا تھا۔شہید محسن نقوی کا شمار اردو کے خوش گو شعرا میں ہوتا ہے ان کے شعری مجموعوں میں بندقبا، ردائے خواب، برگ صحرا، موج ادراک، ریزہ حرف، عذاب دید، طلوع اشک، رخت شب، فرات فکر، خیمہ جاں اور میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی شامل ہے۔ 1994ءمیں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔

محسن نقوی5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔ ان کا نام والدین نے غلام عباس رکھا جسے بعد میں انہوں نے خود تبدیل کر کے غلام عباس محسن نقوی رکھ لیا۔ گورنمٹ کالج ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد شہید محسن نقوی نے ایم اردو جامعہ پنجاب سے کیااور کم و بیش اسی زمانے میں ان کی شاعری اور ذاکری کا آغاز ہو۔ محسن نقوی کی شاعری کا مجموعہ کلیات محسن نقوی کے نام سے موجود ہے۔انہوں نے اپنی زندگی میں 11 کتب تحریر کیں اور ہر شاعری کی کتاب میں موضوع سخن انسانیت اور معاشرے میں موجود تلخ حقیقتوں پر مبنی رہا۔ان کی تصانیف میں عذابِ دید ،خیمہءِ جاں، برگِ صحرا، بندِ قبا،موجِ ادراک ،طلُوعِ اشک ،فُراتِ فکر ،ریزہ ریزہ حرف ،رختِ شب، ردائے خواب، اور حقِ اِیلیا شامل ہیں۔ 1994 میں محسن نقوی کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔15جنوری 1996ء کو محسن نقوی لاہور میں فرقہ پرست تکفیری دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ۔ وہ ڈیرہ غازی خان میں آسودہ خاک ہیں

شہیدمحسن نقوی جس دور میں شاعری کرتے تھے وہ ایک بدترین آمر ضیاالحق کا دور تھا چنانچہ ہر بڑے شاعر کی طرح ان کی شاعری میں بھی حاکم وقت کے خلاف مزاحمتی رنگ موجود رہا۔محسن نقوی کا قصور شاید یہ تھا کہ انہوں نے جب لکھنا شروع کیا تو ملکی تاریخ کا بد ترین آمر ضیاالحق اس وقت برسر اقتدار تھا اور ملک میں فرقہ وارانہ انتہاءپسندی کے بیج بو رہا تھا۔ زندگی کے تمام شعبوں کی طرح علم و ادب میں بھی ضیا الحق اور اس کے حواری اپنے من پسند افراد بٹھا چکے تھے۔چنانچہ ادیبوں اور شاعروں کے پاس سوائے وصل و فراق کا ذکر کرنے یا پھر ادبی آمروں کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہ تھا۔لیکن محسن نقوی کا شمار ان افراد میں ہوتا تھا جو حسین کے قافلے میں شریک تھے اور یزید کے ہاتھوں پر بیعت کرنے سے موت کو ترجیح دیتے تھے۔ محسن نقوی نے ہمیشہ نقادوں اور ادبی اجارہ داروں کے بنائے گئے خود ساختہ قوانین کو ماننے سے انکار کیا اور نتیجتاََ محسن نقوی جیسے عظیم شاعر کو اس کے اصل مقام اور قد کاٹھ سے ہمیشہ چھوٹا ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔خود احمد فراز بھی محسن نقوی کے مداحوں میں سے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ محسن نقوی ایک بہت بڑا شاعر ہے، جسے تعصب کی عینک لگا کر چھوٹا ظاہر کیا جاتا ہے۔

شہیدمحسن نقوی ایک اعلی پائے کے مقرر اور خطیبکے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔اور وہ اپنے انداز خطابت اور مرثیوں سے ایک رقت آمیز ماحول طاری کر دیتے تھے۔

شہیدمحسن نقوی کو 15 جنوری 1996 کے دن اقبال ٹاؤن لاہور میں گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا گیا۔ محسن نقوی کو مارنے والے یہ بات بھول گئے کہ اہل قلم اپنے الفاظ اور سوچ کے سہارے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ محسن نقوی آج بھی اپنی شاعری کی صورت میں ہم میں موجود ہیں اور اس امر کا ثبوت بھی کہ امن و محبت کے نام لیواوں کو نفرت یا جہالت کے اندھیرے کبھی بھی نہیں مٹا سکتے۔ البتہ ادبی دنیا کی بے حسی ۔ محسن نقوی کو کم سے کم ان کی برسی پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اکیڈمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ان کی یاد میں ایک مشاعرے کا بندوبست ضرور ہونا چاہیے۔ زندہ معاشرے اپنے ادیبوں فنکاروں اور ہیروز کو خراج عقیدت پیش کر کے ان کے تخلیقی کاموں کو تا ابد حیات رکھتے ہیں۔

میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہوگا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی!!!!
محسن نقوی

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...