اتوار , 17 فروری 2019

عوامی مقامات پر وائی فائی استعمال کرتے ہوئے چند اہم باتوں کی احتیاط کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اس وقت موبائل فون ہر شخص کی ضرورت ہے اور اس کے استعمال کے لیے ہر کوئی انٹرنیٹ کا استعمال کرنا چاہتا ہے، گھر۔ دفتر، کافی شاپ یا بس اسٹینڈ، ہر ذی نفس موبائل فون کے زریعے دنیا کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے، عموما کاروباری افراد اس مقصد کے لئے موبائل ںیٹ ورک کا فراہم کردہ موبائل ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، جب کہ ملازمت پیشہ افراد اور طلبا اس سلسلے میں جگہ جگہ وائی فائی ڈھونڈتے ہیں۔

طلبا اور ملازمت پیشہ افراد کے علاوہ بھی باقی افراد کو کسی وقت ایمرجنسی میں کسی عوامی مقام کا فراہم کردہ وائی فائی کنیکشن استعمال کرنا پڑ جاتا ہے، کوئی ارجنٹ میل کرنی ہو، بیلنس ختم ہونے پر کسی سماجی ایپلیکیشن کے ذریعے کسی سے رابطہ کرنا ہو یا کوئی بھی آن لائن سرگرمی جاری رکھنی ہو، اس مقصد کے لیے ہر شخص کسی بھی مقام پر پہنچ کر وائی فائی سگنل تلاش کرتا ہے۔

کچھ لوگ عادتا بھی محدود موبائل ڈیٹا ہونے کی وجہ سے وائی فائی کنیکیشن ڈھونڈتے پھرتے ہیں اور عوام کی اکثیریت اس حوالے سے کسی احتیاط کی قائل نہیں، حالانکہ ان مقامات پروائی فائی استعمال کرتے ہوئے ممکنہ طور پر چند احتیاطیں ضرور کرنی چاہئیں، جو درج زیل ہیں۔

اپنے وائی فائی کنیکشن کی توثیق کروائیں
اپنے وائی فائی کنیکشن کو اپنی حفاظت کے خیال سے سب سے پہلے توثیق کروائیں، اس بات کی مکمل تصدیق کریں کہ آپ کا وائی فائی کنیکشن جو معلومات مانگ رہا ہے وہ مناسب ہیں، اور ہر ممکن کوشش کے طور پر مشتبہ کنیکشن سے خودکار نظام کے تحت منسلک ہونے سے پرہیز کریں۔

اپنی زاتی معلومات دینے سے اجتناب کریں
کسی عوامی مقام پر وائی فائی استعمال کرتے ہوئے کسی بھی مقصد کے تحت اپنی زاتی معلومات کو شئیر نا کریں، جیسے کہ پاسورڈ، اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات، اپنی ای میل، یا اپنی ایسی زاتی معلومات جن سے آپ کے آن لائن اکاؤنٹس تک رسائی ممکن ہو، ہر ممکن احتیاط کریں کہ ایسی معلومات متعلقہ وائی فائی سسٹم آپ کی اجازت کے بغیر استعمال میں لا سکتا ہے اور ان کی ترسیل بھی ممکن بنا سکتا ہے۔

ڈیٹا شئیر کرنے والی ایپلیکیشنز سے اجتناب کریں
ڈیٹا شئیر کرنے والی ایپلیکیشنز کو کنٹرول کریں یا ان کا ڈیٹا شئیرنگ سسٹم بند کر دیں، کیونکہ مختلف جرائم پیشہ سرکٹ اور شخصیات ایسے مقامات کے وائی فائی کواستعمال کرتے ہوئے افراد کی معلومات حاصل کرتے ہیں، اس لیے جس حد تک بن پڑے ایسی کسی بھی ایپلیکیشن کو استعمال کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

ان باتوں پرعمل کرنے سے آپ اپنے موبائل فون، اپنی ذات اور اپنے متعلق معلومات کو محفوظ بنا سکیں گے اور کوئی مشتبہ شخص یا ادارہ آپ کی ان ذاتی نوعیت کی معلومات سے کھیل نہیں سکے گا۔

یہ بھی دیکھیں

بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو کا ہندو مذہب سے اختلاف کا اظہار

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے ہندو مذہب سے ...