بدھ , 24 اپریل 2019

کس دھمکی سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں:ترکی

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ اتوار کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شام سے امریکی فوج کا انخلا شروع ہو گیا ہے اور اگر ترکی نے کردوں کو نشانہ بنایا تو امریکہ ترکی کو اقتصادی طور پر تباہ کر دے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ بچے کچھے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کو فضا سے نشانہ بنایا جائے گا اور بیس میل طویل ایک ‘سیف زون’ یا محفوظ علاقہ بنایا جائے گا۔

ان کی یہ ٹویٹ بظاہر ان پر کی جانے والی اس تنقید کے رد عمل میں کی گئی جس میں کہا جا رہا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا سے خطے میں امریکی اتحادیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔صدر ٹرمپ نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی کہ کس طرح امریکہ ترکی کی معیشت کو تباہ کر سکتا ہے تاہم ان کے اپنے مشیر بھی اس پر بظاہر حیران دکھائی دیے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جو ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں ان سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ ترکی کی معیشت کو کس طرح تباہ کیا جا سکتا ہے تو انھوں نے کہا یہ تو آپ کو صدر سے پوچھنا پڑے گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ‘ہم نے کئی جگہوں پر اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں وہ شاید اس ہی کی بات کررہے ہوں گے۔’دریں اثنا ترکی کے وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی دھمکی کو اپنے امریکی ناقدوں کے لیے ایک جواب قرار دیا۔

کیا امریکہ ترکی کی معیشت کو تباہ کر سکتا ہے؟
ترک وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کی دھمکیوں کو مستر کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ یہ کئی بار کہہ چکے ہیں وہ کس دھمکی سے ڈرنے یا خوف زدہ ہونے والے نہیں ہیں۔’انھوں نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی نوعیت کے اس طرح کے معاملات پر سوشل میڈیا یا ٹوئٹر پر بات نہیں کی جاتی۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں امریکی کی طرف سے ترکی پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیاں ناکام ہو گئی تھیں۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے گزشتہ اگست میں ایک امریکی عیسی راہب کی گرفتاری پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد امریکہ نے ترکی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس سے ترکی کی کرنسی لرا پر شدید منفی اثرا ہو تھا اور چند ماہ بعد اس راہب کو رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی دوران ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے ترجمان ابراہیم کلن نے کہا ہے کہ ترکی امید کرتا ہے کہ امریکہ سٹریٹجک پاٹنرشپ کی پاسداری کرے گا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گرد نہ آپ کہ اتحادی ہو سکتے ہیں نہ شراکت دار۔

کیا وہ شام میں کردجنگجوؤں کو بچانے کے لیے کوئی معاہدہ کریں گے؟
اس ہفتے کے اختتام پر صدر ٹرمپ کی ٹوئٹ پر دھمکی سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ انھوں نے اپنے ترک ہم منصب سے فون پر بات کی ہے اور وہ اس بارے میں خاصے پر امید ہیں کہ شام میں کرد جنگجوؤں کو بچانے کے لیے میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے گا۔انھوں نے کہا جو جنگجو اتنے برس تک امریکی فوج کے ہمراہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے رہے ہیں ان کو حق بنتا ہے کہ انھیں بچایا جائے۔

صدر اردوگان نے کرد واے پی جی ملیشیا کی امریکی کی طرف سے حمایت پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ انھیں (کرد جنگجوؤں) کچل کر رکھ دیں گے۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی ایک محفوظ علاقہ بنانے کا مخالف نہیں ہے لیکن وہ ان باغیوں کو نشانہ بنانے کی بات کر رہا ہے جو شام کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔

شام میں کتنی امریکی فوج موجود ہے؟
شام کے شمالی علاقے میں تقریباً دو ہزآر امریکی فوجی تعینات ہیں۔شام میں امریکے کی بری فوج سنہ دو ہزآر پندرہ میں بھیجی گئی تھی جب اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ وائے پی جی کے جنگجوؤں کو تربیت دینے کے لیے کچھ فوجی بھیجے گئے ہیں۔اس کے بعد شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور اس علاقے میں امریکی فوج کے کئی اڈے، تربیتی مراکز اور ہوائی اڈے بنا لیے گئے ہیں۔.

یہ بھی دیکھیں

سعودی عرب اور امارات کا سوڈان کو 3 ارب ڈالر امداد دینے کا اعلان

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ایک مشترکہ بیان میں سوڈان کی …