منگل , 20 اپریل 2021

شام سے امریکی انخلاء، بشارد کیلئے تالیاں بجائیں گے؟

(تحریر و ترتیب: عمران خان)

امریکہ نے شام سے انخلاء کا اعلان کیا ہے۔ زمینی حقائق سے آگاہ حلقے اسے امریکی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اس خیال کی تصدیق اسرائیل اور سعودی عرب کے مایوسی پہ مبنی ردعمل سے بھی ہوتی ہے، اسرائیل کی جانب سے اس حد تک تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ امریکہ کو یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ اس کا انخلاء اسرائیل کو درپیش خطرے میں اضافہ نہیں کرے گا جبکہ سعودی عرب کے ایک وزیر نے تو دو ٹوک الفاظ میں اس انخلاء کو اسرائیل کیلئے خطرناک اور خطے کے عدم استحکام میں اضافے کا باعث قرار دیا۔ سعودیہ، اسرائیل کے ردعمل سے یہ محسوس کرایا جا رہا ہے کہ امریکہ نے یہ اہم فیصلہ اپنے دونوں اہم شراکت داروں کو اعتماد میں لیکر نہیں کیا، جس کے امکانات کافی کم ہیں۔ امریکہ کی جانب سے شام سے انخلاء کے اعلان کے ساتھ مشرق وسطیٰ پہ توجہ رکھنے والے پالیسی ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک خلیجی ملک میں مصر، امارات، سعودی عرب اور اسرائیل کے مابین انتہائی اہم میٹنگ ہوئی، جس میں چاروں ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہان سمیت اہم افراد شریک تھے۔ میٹنگ میں ان مطالبات، تحفظات اور امکانات پہ غور کیا گیا کہ جن کی بنیاد پہ صدر بشارد الاسد کی موجودگی میں شام نے عرب لیگ میں دوبارہ واپسی کرنی ہے اور عرب ممالک نے پھر سے بشارد حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے ہیں۔

مستقبل قریب کا وہ ممکنہ منظر کتنا عجیب اور منافقانہ دوغلے پن کا آئینہ دار ہوگا کہ جس میں شام کی تباہی و بربادی کے ذمہ دار عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، امارات یا مصر وغیرہ شام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کریں گے یا عرب لیگ سمیت دیگر فورم پہ شام کی بشارد حکومت کو اپنا حلیف ’’بھائی‘‘ کہنے پہ مجبور ہوں گے۔ ممکن ہے کہ کسی سربراہ اجلاس میں بشارد کیلئے تالیاں بھی یہی بجائیں۔ مذکورہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ نے شام سے انخلاء کا فیصلہ نہ صرف اپنے شراکت داروں کو اعتماد میں لیکر کیا بلکہ انخلاء کے بعد بھی شام کی حکومت کو مصروف اور زیر اثر رکھنے کی منصوبہ بندی مکمل کی جا چکی ہے۔ مذکورہ میٹنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ ترکی کو بھی خطے میں خطرناک عسکری قوت قرار دیتے ہوئے اس کے سامنے بند باندھنے کی ضرورت پہ زور دیا گیا۔ میٹنگ کے شرکاء نے ان تمام نکات پہ بلا تردید اتفاق کیا کہ جو امریکہ پہلے سے انجام دے رہا ہے، جیسے طالبان سے مذاکرات اور افغانستان سے امریکی انخلاء، عراق میں ترک اثر و رسوخ کو کم سے کم کرنے کی کوششیں، ترکی کے خلاف کردوں کی معاونت، ماضی میں بھی شام کے شہر رقہ میں موجود کرد جنگجووں سے عراق میں سعودی سابق سفیر نے ملاقات کی تھی اور اگست 2018ء میں کرد علاقوں کی بحالی کے لئے سو ملین ڈالر امدا د کا اعلان کیا گیا تھا۔

مصر، سعودی عرب، اسرائیل اور عرب امارات کی اس میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ بشارد حکومت کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں اس بات کا مطالبہ کیا جائے گا کہ شام کی حکومت ایران کے ساتھ تعلقات میں موجود غیر معمولی سطح اور غیر معمولی ایرانی اثر و رسوخ کو کم کرے نیز ایران اور دیگر ممالک کے درمیان تعلقات میں بیلنس قائم رکھے۔ مشرق وسطیٰ پہ توجہ رکھنے والے تحقیقی ادارے نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سوڈانی صدر عمر البشیر کے دورہ شام کا مقصد بھی اسی خاص نکتہ پہ مرکوز تھا۔ عمر البشیر کے دورے سے پہلے شام کے صدر بشارد کے خاص ایڈوائزر جرنیل علی مملوک نے قاہرہ کا پہلا منفرد نوعیت کا رسمی دورہ کیا تھا۔ مذکورہ میٹنگ میں یہ بھی طے پایا کہ شام کو اس بات کا پابند کیا جائے گا کہ وہ ترکی، قطر اور اخوان المسلمون کے ساتھ اپنا رویہ مخاصمانہ رکھے۔ ادارے نے شام میں سرکاری افواج، ترکی اور کردوں کی موجودہ پوزیشن سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ شام کے علاقے نہر فرات کے مشرقی حصے میں ترک افواج کی نقل و حمل میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، یوں لگ رہا ہے کہ ترکی کسی بھی وقت اس حصے میں گھس آنا چاہتا ہے۔

اس حصے میں موجود کرد جنگجو اس علاقے کو شام کی افواج کے حوالے کرکے انخلا کرنے کا کہہ رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ترک اپنی عسکری قوت کو بڑھاوا دے رہا ہے۔ دو اہم علاقوں اور بعض علاقوں کے کچھ حصوں کو چھوڑ کر اس وقت شام کی سرکار کا پورے ملک پر عملی کنٹرول موجود ہے۔ ادلب کے قریب کا علاقہ ہو یا پھر حلب کے شمالی حصے کا مضافاتی علاقہ، دونوں حصوں کے ترکی کے قریب ہونے کے سبب یہاں موجود زیادہ تر شدت پسند گروپوں میں ترکی کا اثر و رسوخ موجود ہے۔ ان علاقوں میں ہی التحریر الشام نامی شدت پسند گروپ کنٹرول رکھتا ہے، اس گروہ نے زنگی اور الاحرار الشام نامی گروہوں کو مار بھگانے کے بعد ان علاقوں میں اپنا کنٹرول جمایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ترک افواج اور اس گروہ کے درمیان ایک قسم کا تعاون موجود ہے۔ دوسرا اہم علاقہ مشرقی فرات کا علاقہ ہے، جہاں کرد اور امریکی افواج کا کنٹرول ہے، باجود اس کے کہ یہ علاقہ عرب اقوام پر مشتمل ہے، لیکن یہاں کرد عسکریت پسند امریکی جارح افواج کی مدد سے اپنا کنٹرول رکھتے ہیں۔

ترکی افواج بھی اس سرحدی علاقے میں اپنی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود ہیں کہ جنہیں کردوں کے کنٹرول پر اعتراض ہے، یہاں موجود کرد تنظیم پی وائی ڈی کے عسکریت پسند ترک مخالف "پی کے کے” کی ہی ایک شاخ سمجھی جاتی ہے۔ پی کے کے کو امریکہ بھی دہشتگرد تنظیم کے طور پر ڈکلیئر کرچکا ہے، لیکن یہاں اسی دہشتگرد تنظیم کے ساتھ نہ صرف تعاون جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ ان کی سرپرستی کر رہا ہے۔ امریکی انخلا کے بعد اگر ترک افواج شام کے اس علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں تو اس کا مطلب صرف اس علاقے پر کنٹرول نہیں ہوگا بلکہ جسرالشغور سے لیکر باب الھویٰ تک کا علاقہ ان کے کنٹرول میں چلا جائے گا، جو ایک بڑا اور اہم علاقہ ہے۔ فوکس ایٹ ویسٹ اینڈ ساؤتھ ایشیاء کے مطابق امریکی انخلاء کے بعد شام کے مشرقی فرات کے علاقے میں کردوں کی مزید موجودگی یہاں ممکن نہیں اور نہ ہی کرد شام کی سرکاری افواج کے ساتھ تصادم چاہتے ہیں، جو پہلے سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ وہ اس علاقے کو خالی کرنا چاہتے ہیں۔

بولٹن سے لیکر پیمپیو تک کے دوروں کا ایک مقصد جہاں ایک جانب ترکی کو کسی اقدام سے باز رکھنا تھا، وہیں پر اپنے ناکام اتحادیوں کی اس آخری خواہش کا احترام بھی تھا کہ ترک افواج کو شام میں گھسنے نہ دیا جائے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی شام میں ترک افواج کی موجودگی نہیں چاہتے اور ترکی کیخلاف ان کی حکمت عملی میں کرد عسکریت پسند ایک اہم پوزیشن رکھتے ہیں۔ امریکہ نے شام میں داعش کے خاتمے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق دیر الزور کے ایک چھوٹے سے حصے میں داعش دہشتگرد موجود ہیں، جبکہ اسی طرح التنف میں امریکی اور برطانوی افواج کے کچھ اڈے موجود ہیں۔ درعا کے علاقے میں متعدد دہشتگرد گروپس موجود ہیں۔ شام سے امریکہ کے فوجی انخلاء اور اس اہم میٹنگ میں پھر سے عسکریت پسندوں کی (ترکی کے خلاف ہی سہی) اعانت کے فیصلے کے بعد ممکن ہے کہ مذکورہ علاقے جلد ہی ہیڈلائنز میں ہوں۔ وجوہات کچھ بھی ہوں، یہ بات واضح ہے کہ شام سمیت مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اس کی شراکت دار جارح قوتوں کے لئے زمینی تنگ ہوچکی ہے اور ان کے لئے عافیت اسی میں تھی کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو، شام سے اپنی باقی عسکری بساط کو لپیٹ لیں اور اس کا انہیں بھی پوری طرح ادراک ہے۔

شام میں پائیدار امن ہر امن پسند شہری کی خواہش ہے، تاہم امریکی انخلاء کے بعد بھی حالات میں فوری اور بڑے بدلاؤ کے امکانات کافی کم ہیں۔ امریکی جارح شراکت دار اس انخلاء کے بعد بھی اپنے مفادات کے نام پہ شام میں عسکریت پسندوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری رکھنے پہ آمادہ ہیں، جو کہ ظاہر ہے کہ بدامنی کا ہی موجب ہوگا۔ بدامنی کے اسی ماحول میں امریکہ دوست نرم رویہ پروان چڑھانے کیلئے یہ تاویل بھی پیش کی جائے گی کہ بدامنی کا تعلق امریکہ سے نہیں تھا۔ امریکہ میں جہاں شام سے فوجی انخلاء کے اعلان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہاں بہت سوں کو اس انخلا پر اعتراض ہے، جو سمجھتے ہیں کہ اس سے روس کا اثر و رسو خ مزید بڑھے گا، بعض کا خیال ہے کہ اس سے خطے میں امریکی اتحادیوں میں موجود مایوسی میں اضافہ ہوگا اور وہ دیگر قوتوں کے قریب چلے جاینگے جبکہ خطے میں موجود امریکی اتحادی اسے اپنے ساتھ امریکی روائتی بے وفائی سے بھی تعبیر کرنے لگے ہیں۔ عرب بہار کی ابتداء سے لیکر شام میں امریکی مداخلت تک اور امریکہ سمیت تمام جارح ممالک کی تمام تر دہشتگردانہ اور جارحانہ کارروائیوں سے لیکر آج شام سے امریکی انخلاء کے اعلان اور عربوں کی جانب سے بادل ںخواستہ مذکورہ حکومت کو قبول کرنے تک بشارد الاسد نے خود کو خطے کا منفرد اور ثابت قدم حکمران ثابت کیا ہے، کیا آپ اب بشارد کیلئے تالیاں بجائیں گے۔؟

یہ بھی دیکھیں

قاسم سلیمانی اور مکتب مقاومت

مقدمہ: شہداء کے سردار کی عظیم شخصیت کے بارے میں کچھ لکھنا بہت دشوار ہے …