اتوار , 17 فروری 2019

سید حسن نصراللہ کی صحت کے بارے میں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ

(تحریر: توقیر کھرل)

دو دن سے سوشل میڈیا پہ لبنان میں حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کو دل کا دورہ، ہسپتال منتقلی اور کینسر میں مبتلا ہونے کی خبر وائرل تھی، خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ خبر پڑھی تو دعا نکلی کہ ہماری زندگی بھی انہیں لگ جائے اور شیر دل قائد مقاومت سلامت رہیں۔ لبنان میں اہل تشیع ہی نہیں مسیح اور اہلسنت بھی سید حسن نصراللہ کے دیوانے ہیں۔ لبنان کے حالیہ الیکشن میں بلا تفریق حسن نصراللہ کے ووٹرز میں ہر ایک مسلک اور مذہب سے حامی نظر آرہے تھے۔ سید حسن نصراللہ کی بیماری سے متعلق خبر سب سے پہلے اسرائیلی روزنامہ اسرائیل ہایوم میں شائع ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ لبنانی صحافی جیری ماہر نے بتایا کہ انہیں سکیورٹی ادارے سے وابستہ سورس سے معلوم ہوا کہ حزب اللہ کی کسی بڑی شخصیت کو بیروت کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا ہے اور بعد میں پتہ چلا کہ وہ مریض حسن نصر اللہ ہیں۔

یہی خبر روسی ویب سائٹ اسپوٹنک نے اٹھائی اور بعد ازاں مزید اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے چلائی اور دعویٰ کیا کہ لبنانی میڈیا نے خبر دی ہے، لیکن لبنانی میڈیا پر ایسی کوئی خبر تھی ہی نہیں۔ حتی کہ المنار اور پریس ٹی وی بھی اس حوالے سے خاموش تھے۔ اسرائیل کے ایک اور اخبار Israel National News نے ایک خبر میں دعویٰ کیا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر خاص نے حسن نصراللہ کی بیماری سے متعلق خبر کو صدی کا سب سے بڑا جھوٹ قرار دیا۔ سید حسن نصراللہ کی صحت کے حوالے سے افواہ پھیلانے والا صحافی جیری ماہر لبنانی صیہونی احمد الغوش کا بیٹا ہے، جس کا اصلی نام ڈینئل ہے۔ جیری ماہر کا باپ احمد الغوش صدام کی بعث پارٹی کا لبنان میں مقیم ایک جاسوس اور دہشت گرد تھا. وہ لبنان میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کا حصہ رہا۔ احمد الغوش بعد ازاں اپنے بچوں سمیت سویڈن فرار اور وہیں رہائش پذیر ہوگیا تھا۔

اس کا بیٹا ڈینئل جو آجکل جیری ماہر کے نام سے معروف ہے، سویڈن میں صیہونیوں سے منسلک ہوگیا۔ وہ اسرائیل کی خدمت کو خدا کی خدمت تصور کرنے لگا۔ بعد ازاں وہ اسرائیل بھی گیا، جہاں اس کا تعارف ایک اسرائیلی لڑکی سے ہوا، جس کے ساتھ اس نے بعد میں شادی رچا لی۔ ڈینئل الغوش المعروف جیری ماہر کئی بار اسرائیلی اور سعودی خفیہ اداروں کے حکام کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ ڈینئل نے چند بار سید حسن نصراللہ کی ذاتی زندگی و فعالیت کے بارے شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی. موجودہ جھوٹ سے پہلے جیری ماہر ایک بار سید حسن نصراللہ کی ہیفا وہبی نامی لڑکی سے شادی کی جھوٹی داستان بھی گھڑ چکا ہے۔ وہ کئی بار سید حسن نصراللہ کے قتل کا مطالبہ کرچکا اور شیعہ مساجد و امامبارگاہوں کو مسمار کرنے اور انہیں دہشت گردی کے ٹھکانے کہہ چکا ہے۔ حسن نصر اللہ نے چند روز قبل ہی سوشل میڈیا کی اہمیت کے بارے کہا تھا کہ نوجوان کم از کم سوشل میڈیا پہ اپنی ذمہ داری کا تعین کریں، لیکن کچھ معتبر افراد بھی پروپیگنڈہ میں شامل ہوئے اور پاکستان میں خبر پھیلانے میں مصروف نظر آئے۔

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...