منگل , 19 فروری 2019

شام میں ترکی کا کردار

 (تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس)

شام میں جاری جنگ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے، جنگ کا نتیجہ کچھ بھی ہو، اسے ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ انسانی ضمیر اب اس سطح پر پہنچ چکا ہے کہ وہ طاقتیں جنہوں نے صرف اور صرف اپنی چودھراہٹ کے لیے شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، وہ بھی اس جنگ کو امن، انصاف اور انسانی حقوق کی فراہمی جیسے دلکش نعروں میں سجا کر اپنی عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ اگر اسے بطور جنگ ہی پیش کریں تو امریکہ اور لندن کی سڑکیں جنگ مخالف لوگوں سے بھر جائیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں شام کے حالات میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں۔ سوڈان کے صدر عمر البشیر نے شام کا دورہ کیا ہے، جو جنگ کے بعد سے کسی بھی سربراہ مملکت کا پہلا دورہ ہے، اس کے بعد وہاں کیا ہوا؟ اس پر تفصیل سے لکھیں گے، اسی طرح شام میں متحدہ عرب امارات نے اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھول دیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں بیروت میں منعقد ہونے والی عرب کانفرنس میں شام کے لئے مزید اچھی خبریں ہوں گی۔

جیسے ہی امریکی صدر نے اس بات کا اعلان کیا کہ وقت آپہنچا ہے کہ ہم شام سے اپنی افواج کو واپس بلا لیں۔ اس اعلان نے اس بات کو درست ثابت کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کسی قسم کی کوئی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی، وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی معاملے میں ایسا اعلان کرسکتے ہیں، جو کسی کے گمان میں بھی نہ ہوگا۔ ابھی تک ان کے بارے جو سمجھا جا سکا ہے، وہ یہی ہے کہ وہ صرف اور صرف یہ دیکھتے ہیں کہ امریکہ کو مالی فائدہ ہوگا اور کہاں سے امریکہ کے لئے پیسے بچائے جا سکتے ہیں۔ وہ روایتی سفارتکارانہ رکھ رکھاو کو اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے پاوں تلے روند دیتے ہیں۔ ان کے شام سے انخلا کے اعلان کا خطے کی تمام طاقتوں نے خیر مقدم کیا، کیونکہ جب تک خطے میں امریکہ موجود ہے، جنگ رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ترکی نے امریکی انخلا کو اپنے لیے ایک موقع جانا کہ اب وہ خطے میں امریکی مفادات کا نگران بن کر ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر کام کرے گا۔

امریکہ نے بڑے مقصد کے لئے تیس ہزار کرد جنگجووں کو تربیت دی ہے، تاکہ وہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ کریں۔ مسئلہ یہاں پر آکر خراب ہوگیا کہ ترکی تو پیشمرگہ، وائی جے پی سمیت کرد تنظیموں کو دہشتگرد قرار دیتا ہے اور جیسے ہی امریکہ جائے گا، یہ خطرہ ہے کہ ترکی دہشتگردوں کے خاتمے کے نام پر ان تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے گا۔ امریکہ ان تنظیموں پر اربوں ڈالر خرچ کرچکا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ترکی کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گا اور ان قوتوں کو سبق سکھائے گا۔ ہم پی کے کے، وائی جے پی اور آئی ایس ایس میں کوئی فرق نہیں کرتے، سب کی سب دہشتگرد ہیں۔ ترکی خود کو امریکہ کی جگہ کیوں دیکھ رہا ہے۔؟ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ترکی یہ سمجھتا ہے کہ وہ خطے میں موجود واحد نیٹو ملک ہے، جو امریکہ اور یورپ کا اتحادی اور خود نیٹو میں موجود ممالک میں دوسری بڑی آرمی رکھتا ہے۔

اس وقت شام میں امریکی مفادات کو جاننا بہت ضروری ہے، امریکہ نے یہ طے کیا تھا کہ ہم تین اہداف کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ پہلا ہدف ظاہراً یہ تھا کہ ہم داعش کو ختم کرنا چاہتے ہیں، دوسرا ہدف یہ بتایا کہ ہم شام کے صدر بشار الاسد کو ہٹانا چاہتے ہیں اور تیسرا ہدف یہ تھا کہ ہم خطے میں ایران کے اثرات کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکہ جب خطے سے جا رہا ہے تو وہ خطے میں ایسی فورسز کو چھوڑے گا، جو اس کے ان مقاصد کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچائیں۔ ترکی کئی حوالے سے آئیڈیل ہے، لیکن امریکہ اس پر بھی اتنا اعتبار نہیں کرنا چاہتا۔ اگر ترکی کو شام میں مکمل کردار دے دیا جائے تو کل خود ترکی مسئلہ بن سکتا ہے، یہ کردار ان محدود علاقوں کے لئے ہوگا، جو شام کی مرکزی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکی کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟ ترک صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام کے تمام گروہوں پر مشتمل فوج بنائے گا، جو شام کو سنبھالے گی؟ اس سے پہلے کیا ہوگا؟ کیا ترک فوج اس قابل ہے کہ شام میں داخل ہو کر اتنے بڑے خطے کو سنبھالے۔؟ ماہرین نے ترک فوج کی صلاحیتوں پر کئی سوالات اٹھائے ہیں کہ وہ ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس کی تربیت کرد مخالفت پر کی گئی ہے، اس لئے وہ جیسے ہی کرد علاقوں میں آئے گی، کردوں کا بے تحاشہ قتل عام کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ کرد فورسز ترکی کو اپنا بڑا دشمن سمجھتی ہیں اور انہوں نے مختلف جگہوں پر اس خطرے سے بچنے کے لئے شامی فورسز کو اپنے علاقوں میں خود آنے کی دعوت دی۔ ترکی کبھی بھی ایسی فورس تشکیل نہیں دے سکتا، جس میں تمام گروہ شام ہوں، کیونکہ کردوں کو وہ اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور کرد شام کی ستائیس فیصد آبادی اور تیس فیصد رقبے پر پھیلی ہوئی بڑی آبادی ہیں۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور قطر نے امریکہ کی سرپرستی میں شام میں لشکر احرار شام، فری سیرین آرمی، داعش اور کئی دیگر تنظیمیں قائم کیں، ان سب کا نتیجہ کیا نکلا؟ کیا اس سے شام میں امن آیا؟ کیا اس سے امریکی مقاصد حاصل ہوئے؟ ان تنطیموں نے شامی عوام کا قتل عام کیا اور موقع ملتے ہی بھاگ نکلے۔ جو کام امریکہ خود نہیں کرسکا, وہ ترکی کیسے کرسکتا ہے۔؟ ترکی کی یہ کوشش ہے کہ وہ گرم تندور میں اپنی روٹی لگا لے اور کردوں کی طاقت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر کمزور کر دے، اس نے بڑے پیمانے پر اس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ بات امریکہ کو ناگوار گزری ہے اور وہ یہ چاہتا ہے کہ ترکی اس سے باز آجائے اور شام میں براہ راست کردوں پر حملہ نہ کرے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کی ہے کہ اگر ترکی نے کردوں پر حملہ کیا تو امریکہ ترکی کو معاشی طور پر تباہ کر دے گا۔ ترکی ابھرتی ہوئی معیشت ہے، اس نے تھوڑے عرصے میں بہت ترقی کی ہے، کیا یہ امریکی پابندیوں کا مقابلہ کر پائے گی۔؟

دوسرے الفاظ میں کیا اردگان اتنا آگے جائے گا کہ کردوں پر حملے کے بدلے ترکی پر پابندیاں لگتی ہیں تو لگے جائیں، وہ حملہ کرے گا؟ ترکی کا کسی قسم کا اقدام خطے سے امریکی واپسی کو وقتی طور پر روک سکتا ہے، کیونکہ امریکہ خطے میں ایسی طاقتوں کو ضرور برقرار رکھے گا، جن کو وقت پڑنے پر جب چاہے بشار کے خلاف استعمال کر لے اور چاہے تو ترکی کے خلاف استعمال کر لے۔ اس ساری صورتحال میں ظاہراً ترکی اور امریکہ آمنے سامنے آتے نظر آرہے ہیں۔ ترکی اگر ذرا بلند ہو کر دیکھے اور وقتی طور پر اپنے مفاد کی تھوڑی سی قربانی دیتے ہوئے کردوں کو برداشت کر لے، خطے سے امریکہ کو نکلنے کی راہ ہموار کر دے اور اس کے بعد روس، ایران اور شام سے ہاتھ ملا کر خطے کو مضبوط بنانے کے لئے باہم مل کر چلیں تو یہ ترکی، شام اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے امن و سلامتی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اگر ترکی دوسرا راستہ چنتا ہے تو اس کی کامیابی کے امکانات تو معدوم ہیں، کیونکہ جو کام امریکہ خود نہ کرسکا، وہ ترکی کیسے کرے گا ؟ البتہ خطے لمبی مدت تک جنگ کی آگ میں جلتا رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں پر 22 سال سے ناروا تعمیراتی پابندیاں

حال ہی میں لبنانی فوج نے فلسطینی پناہ گزین کیمپوں میں تعمیراتی سامان لے جانے ...