اتوار , 17 فروری 2019

پیغام پاکستان۔۔۔۔۔ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے

(تحریر: ثاقب اکبر)

16 جنوری 2018ء کو یعنی آج سے ایک برس پہلے ایوان صدر میں ایک یادگار تقریب میں 1829 علماء اور دانشوروں کے دستخطوں کے ساتھ ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام شکلوں کو مسترد کر دیا گیا۔ اس فتویٰ کو پاکستان کے تمام اسلامی مسالک کے جید اور ذمہ دار علماء کی تائید حاصل ہے۔ دینی مدارس کی پانچوں تنظیموں کے سربراہوں کی تائید و امضاء نے اسے اور بھی معتبر کر دیا ہے۔ ہم نے گذشتہ برس اس پیغام کے سامنے آنے کے بعد یہ بات لکھی تھی کہ ”پیغام پاکستان“ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق ہی نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔

ہماری یہ بھی رائے ہے کہ اس سے پہلے اکتیس علماء کے بائیس نکات بھی تاریخ پاکستان میں اسلامی مسالک و مذاہب کے اتحاد کی ایک اہم اساس، بیانیہ اور دستاویز کے طور پر سامنے آچکے ہیں۔ یقینی طور پر جب پاکستان میں دہشتگردی اور تکفیریت اپنے عروج پر تھی اور جب ایک گروہ کی طرف سے قرآن و سنت کی مختلف آیات و روایات کی مختلف تفسیروں اور تعبیروں سے سوئے استفادہ کی وجہ سے معاشرہ فکری الجھنوں کے ساتھ ساتھ خوف و وحشت کے مہیب سایوں میں آچکا تھا، ضروری ہوگیا تھا کہ ایک مرتبہ پھر تمام دینی طبقات اور اہل دانش اس کے مقابلے میں اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کے لئے اکٹھے ہوں۔ پیغام پاکستان اس ضرورت کو ہی پورا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ ریاست اور حکومت کا بھی پورے اعتماد کے ساتھ شریک ہو جانا، گذشتہ ایسی تمام کوششوں سے اسے وقیع تر بناتا ہے۔

علامہ اقبال نے اجتہاد کے بارے میں اپنے شہرہ آفاق خطبے میں اجماع کی عصری شکل پر بات کی ہے۔ ان کے خیال میں منتخب پارلیمنٹ دور حاضر میں اجماع کے لیے سب سے بہتر پلیٹ فارم ہے۔ ہماری رائے میں پیغام پاکستان کو بھی اجماع کی ایک جامع اور معتبر صورت قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی کہنا مناسب ہوگا کہ تکفیری دہشتگردوں نے ماضی کے بعض فتووں کا سہارا لے کر عوام الناس کے ایک طبقے کو گمراہ کر دیا تھا۔ یقینی طور پر جب بڑے بڑے ناموں کے ساتھ تکفیریت پر مشتمل فتوے عوام کے سامنے پیش کئے جائیں تو وہ کم ازکم تشویش اور اضطراب میں ضرور مبتلا ہو جاتے ہیں اور جذباتی لوگوں کو ایسے میں تشدد پر بھی اکسایا جا سکتا ہے۔ یہی کام ان خطرناک گروہوں نے انجام دیا ہے۔

یہ امر تاسف آور ہے کہ عصر حاضر میں بھی ان وحشی تکفیریوں کو بعض شدت پسند مفتیوں کے فتووں کا سہارا مل گیا تھا۔ اس صورت حال میں پیغام پاکستان کے عنوان سے یہ فتویٰ سامنے آنا بہت حوصلہ افزا ہے، جس میں کہا گیا ہے:”ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔”

ہم سمجھتے ہیں کہ اس درجے پر اجتماعی فتویٰ کے سامنے آنے کے بعد ماضی کے انفرادی اور یا پھر کسی ایک ادارے کے وہ تمام فتوے منسوخ قرار پاتے ہیں، جن کا معنی و مفہوم پیغام پاکستان میں دیئے گئے فتوے سے متصادم ہو۔ اس فتوے کو اس کے مقابلے میں آنے والے تمام فتووں کے ناسخ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہ تمام اسلامی مذاہب کے معتبر ترین علماء کی اجتماعی دینی دانش اور فہم کا غماز فتویٰ ہے۔ لہٰذا اس سے متصادم ہر فتویٰ منسوخ یا باطل قرار پائے گا۔ اس فتوے کے مطابق کوئی بھی جنگ حکمران کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی، اسلام میں قتال اور جنگ کی اجازت دینے کی مجاز صرف اور صرف حکومت وقت ہے۔ اس فتوے میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سب و شتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریات کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا بالکل حرام ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان کو اسلامی نظریاتی کونسل کی اس سفارش کو سنجیدگی سے لینا چاہیئے کہ پیغام پاکستان کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے اس کی بھی تائید حاصل کی جائے۔ اس سلسلے میں چاہے ایک قرارداد کے ذریعے سے یا پھر ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے اسے ایک سرکاری دستاویز بنا دیا جائے۔ اس صورت میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی۔ یہ بات لائق اطمینان ہے کہ انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے ستائے ہوئے عالم اسلام میں پیغام پاکستان کو تازہ ہوا کا ایک جھونکا سمجھا گیا ہے۔ کئی ایک ممالک کے علمائے کرام اور ذمہ دار حکام نے اس کی تائید کی ہے اور اس کے مطالب کو قرآن و سنت کے مطابق قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کے لئے بھی مفید جانا ہے۔ اگر حکومت مختلف ممالک کے ذمہ دار نمائندوں اور مفتیان کرام کا ایک عالمی اجلاس بلا کر اس دستاویز کو پیش کرکے ان کی آراء لے سکے تو اسے عالمی سطح کی ایک دستاویز کی حیثیت حاصل ہوسکتی ہے، اس پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے اور اس تجویز کو قابل عمل بنا کر اقدام کیا جاسکتا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاں خواص میں اس کی پذیرائی ہوئی ہے، وہاں پاکستان کے میڈیا نے اسے وہ اہمیت نہیں دی، جو آج کے دور میں اس فتوے کو حاصل ہونا چاہیئے تھی اور خاص طور پر پاکستانی معاشرے کے لیے اس کی جس قدر ضرورت تھی۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ابھی بہت سے اذہان ان معاملات پر گومگو میں ہیں۔ گمراہ عناصر کی بھی ایک تعداد ابھی تک موجود ہے۔ بہت سی جگہوں پر راکھ کے نیچے ابھی چنگاریاں باقی ہیں۔ اتنا ہی نہیں پاکستان کے مختلف علاقوں میں شدت پسندی کے جو واقعات اب بھی گاہے گاہے ہوتے رہتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں کہ ایسی دستاویز شائع کرکے اطمینان سے بیٹھ جانا خطرے سے آنکھ موند لینے کے مترادف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...