اتوار , 11 اپریل 2021

حکومت نے صرف ایک ہفتے میں اسٹیٹ بینک سے 113 ارب روپے قرضہ لے لیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے صرف ایک ہفتے کے دوران بجٹ کی معاونت کے لیے اسٹیٹ بینک سے ایک سو 13 ارب روپے قرض لیا ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی ششماہی کے دوران ہدف سے کم آمدن کے باعث بجٹ سپورٹ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 31 جولائی 2017 سے لے کر 4 جنوری 2018 تک حکومت نے بجٹ سپورٹ کے لیے 8 سو 35 ارب 70 کروڑ روپے قرض لیا جب کہ گزشتہ برس یہی قرضہ 3 سو 53 ارب 40 کروڑ روپے تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے تک حکومتی قرض 7 سو 22 ارب روپے تھا تاہم 4 جنوری تک یہ قرض 8 سو 35 ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔حکومت کا زیادہ تر انحصار اسٹیٹ بینک سے قرض پر ہوتا ہے تاہم یہ قرض اب بڑھ کر 36 کھرب 50 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

حکومت نے شیڈول بینکوں سے قرض لینے کے فیصلے کو موخر کردیا ہے جس کی وجہ سے اب اس کے پاس مرکزی بینک سے قرض لینے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے کیونکہ حکومت اہداف کے مطابق آمدن حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔

علاوہ ازیں حکومت رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ بھی پیش کرنے جاری ہے تاکہ ملکی آمدن کو بڑھایا جاسکے۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حکومت اسی رفتار کے ساتھ قرض لیتی رہی تو رواں مالی سال کے دوران بجٹ خسارے کا ہدف 5.1 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کا خواہاں، عارف علوی

پاکستان کے صدر عارف علوی نے علاقائی تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پر زور …