پیر , 22 جولائی 2019

کابل میں مودی لائبریری اور ٹرمپ

(محمد اسلم خان)
جنگ سے امریکہ کو کچھ نہیں ملا، اب ہم مذاکرات میں امن تلاش کرینگے۔ یہ صدر ٹرمپ جو مار دھاڑ سے بھرپور امریکی شاہکار کے بعد اب مذاکرات کی بساط بچھانے جا رہے ہیں لیکن افغان طالبان صرف اپنی شرائط پر مذاکرات کرینگے اس لئے وہ کٹھ پتلی کابل انتظامیہ سے مذاکرات کو تیار نہیں اور نہ اسے مذاکرات میں فریق منانے کو تیار ہیں وہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ “اصل” فریق امریکہ سے براہ راست مذاکرات کرکے حل کرنا چاہتے ہیں اب انہیں باہم متحارب لیکن دونوں امریکہ نواز ریاستوں قطر اور سعودی عرب میں بھی مذاکرات کرنا قبول نہیں جس کے بعد مذاکرات کے ممکنہ مقامات اسلام آباد ‘ تہران ‘ماسکو اور بیجنگ رہ جاتے ہیں ماسکو اور تہران میں افغان طالبان ہمہ جہتی مذاکرات کے کئی ادوار کر چکے ہیں۔ بیجنگ میں چینی قیادت ساری دنیا سے مذاکرات میں مصروف کار ہے اس لئے بیجنگ امریکی شاہ دماغوں کو قبول نہیں ہو گا جسکے بعد صرف اسلام آباد ہی قابل قبول مقام مذاکرات رہ جاتا ہے وہ جو کسی نامعلوم دانشور نے کہا تھا کہ افغان امن کی تمام شاہراہیں اسلام آباد کے ’آب پارہ ‘ سے شروع ہوتی ہیں۔ اب یہ مقولہ ایک بار پھر درست ہونے جا رہا ہے جو امریکہ سے زیادہ اس کے نام نہاد طفیلی پاکستانی دانشوروں کو بالکل پسند نہیں کہ انہیں پاکستان کی بڑائی ایک آنکھ نہیں بھاتی انہیں تو گنبد و مینار اور حروف قرآن دیکھ کر ’دردزہ‘ شروع ہوجاتا ہے لیکن تاریخ امن مذاکرات کا دھارا ایک بار پھر اسلام آباد کی طرف موڑ رہی ہے جس کا حتمی فیصلہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ نے کرنا ہے۔

امریکی ٹوڈی اشرف غنی انتظامیہ یا انجینئر گل بدین حکمت یار ٹشو پیپر جتنی اہمیت نہیں رکھتے مذاکرات ہمیشہ اصل فریقین میں ہوتے ہیں۔امریکی ’طالبان سے مذاکرات میں پسپا ہوتے ہوتے اب صرف چند فوجی اڈوں کا تسلسل چاہتے ہیں جن کا کردار قونصل خانوں جیسا ہو گا۔ امریکہ طالبان کو اربوں ڈالر افغان تعمیر نو کی مد میں دینے کی پیش کش کر رہا ہے۔ جدہ میں مقیم سینئر پاکستانی اخبار نویس جناب یسین صابر کا کہنا ہے کہ شاطر امریکی دراصل ڈالروں کے بل بوتے طالبان کو خریدنا چاہتے ہیں لیکن شہری تمدن سے نا آشنا افغان طالبان ان ڈالروں کے انبار خرچ کہاں کرینگے ؟ اس لئے ڈالر ملا ہیبت اللہ اور ان کے جانباز ساتھیوں کےلئے بےوقعت کاغذ کے ٹکڑوں جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتے۔

19 برس پر محیط طویل ترین گوریلا جنگ کے بعد امریکہ اوراس کے اتحادیوں کی شکست کی کہانی صدر ٹرمپ کی زبانی سننے سے تعلق رکھتی ہے کہ کس طرح امریکی جرنیلوں نے اس بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں اربوں ڈالر اڑا دئیے۔ مسخرے دکھائی دینے والے لیکن سنجیدہ مزاج صدر ٹرمپ بتاتے ہیں۔“ امریکہ سالانہ 54 ارب ڈالر عالمی سطح پر اپنے مفادات کے تحفظ کےلئے “دوست” ممالک کومالی امداد دیتا ہے لیکن امریکی عوام کیلئے ہم ایک پائی فالتو خرچ نہیں کرتے امریکی صدر کا دعوی ہے کہ پاکستان کو سالانہ 1ارب 30 کروڑ ڈالر امداد دی گئی۔ اسکے جواب میں ہمارے لئے کچھ نہیں کیا گیا جس کے بعداس امداد کو روک دیا بہت سارے لوگ میرے اس اقدام کو نہیں سمجھتے لیکن میں پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا متمنی ہوں۔ لیکن پاکستان ہمارے دشمنوں کوپناہ دیتا ہے اورانکی حفاظت کرتاہے۔ ہم ایسا کبھی برداشت نہیں کر سکتے لیکن میں پاکستان کی نئی حکومت سے جلد ہی مستقبل قریب میں ملاقات کرنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ ہم پاکستان کو 1ارب 30 کروڑ ڈالر کی امداد دیتے تھے جسے پانی کی طرح بے دریغ بہایا گیا۔

امریکہ نے نہ صرف اس امداد کو روکا بلکہ ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر دی جانے والی مختلف اقسام کی امداد کوبھی روک دیا ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کبھی بھی ووٹ نہیں دیا ہم ان کو اربوں ڈالر امداد دیتے ہیں لیکن یہ ممالک ہمیں کبھی اقوام متحدہ میں ووٹ نہیں دیتے۔کچھ ایسے

ممالک بھی ہیں جنہوں نے عراق میں امریکہ کا ساتھ دینے کےلئے نمائشی طور پر 200 فوجی بھیجے شام اور افغانستان میں چند درجن فوجی بھیج کر جتلاتے ہیں کہ ہم نے اتنے فوجی بھیجے اور یہ تمام “دوست” ممالک ہمیں اربوں ڈالر کانقصان پہنچا رہے ہیں ایک اور مثال بھارت کی ہے۔ وزیراعظم مودی ٹرمپ کو باربار جتلاتے رہے کہ انہوں نے افغانستان میں ایک لائبریری قائم کی ہے۔ حالانکہ جتنا پیسہ لائبریری پر لگا ہے۔ اتنا امریکہ پانچ گھنٹے میں افغانستان میں خرچ کر دیتا ہے افغانستان میں، مودی لائبریری کے قیام کی بنیاد پر باربار کہتا ہے کہ وہ سمارٹ ہے، سمجھدار ہے اوریہ کہ امریکہ کو اس کا شکریہ اداکرنا چاہیئے کسی کو نہیں معلوم کہ افغانستان میں اس لائبریری سے کون مستفید ہورہا ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ افغانستان میں مداخلت نہ کرے۔ امریکی جرنیلوں نے میدان جنگ کےلئے جتنی رقم مانگی پیش کردی جو مطالبہ کیا پورا کردیا، لیکن انہوں نے افغانستان میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھائی۔

ہمارے جرنیل کامل 19 برس سے افغانستان میں بے مقصد جنگ لڑرہے ہیں جنرل Mattis James کو 7ارب ڈالر دئیے وہ صرف ایک سال تک میرے مشکور رہے اگلے سال مزید 7 ارب ڈالر دئیے۔ ان کویقین نہیں آ رہا تھا حالانکہ نئے F-18اورF-35 طیاروں سمیت جہاز اورمیزائلوں کی بہترین کارکردگی کے باوجود انکی افغانستان میں شرمناک کارکردگی کا مظاہرہ ناقابل قبول ہے۔ میں ان کی کارکردگی سے بالکل خوش نہیں تھا ۔اوبامانے اسے نکال دیا تھا میں نے بھی نکال دیا ہے مجھے نتائج چاہیے اب ہم وہ کام کرینگے جس سے خاطر خواہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ ٹرمپ سے اصولی اختلافات پر برطرف کئے جانے والے وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس پاگل پوڈل اورجنگجو بھکشو کے نام سے مشہور امریکی فوج کے جرنیل امریکن سنٹرل کمانڈ کے سربراہ رہے ہیں۔کھلی ڈ±لی گفتگو کرنے کے عادی، اپنی اس عادت کی وجہ سے مختلف تنازعات میں الجھتے رہے ہیں۔ سول انتظامیہ کی فوج پر برتری کے ا±صول کی وجہ سے امریکہ میں کوئی بھی فوجی جرنیل ریٹائرمنٹ کے دس سال بعد وزیردفاع بنایا جا سکتا ہے اس لئے جنرل میٹس کو سیکرٹری بنانے کیلئے خصوصی استثناءلیا گیا ہے جوکہ بہت غیرمعمولی چیز ہے قبل ازیں67سال پہلے صدر ٹرومین نے اس طرح کا استثنا لیا تھا۔ اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ہم طالبان سے مذاکرات کرینگے۔ ہم بہت سارے لوگوں سے مذاکرات کرینگے۔ امریکہ اب جنگ نہیں مذاکرات کے ذریعے امن تلاش کرےگا۔ بھارت افغانستان میں موجود ہے، روس موجود ہے، روس سوویت یونین کی شکل میں افغانستان گیا۔ لیکن افغانستان نے اسے سوویت یونین سے صرف روس بنادیا، وہ افغانستان میں جنگ لڑتے لڑتے دیوالیا ہو گیا۔

آج وہ جگہیں جن کانام آپ سنتے ہیں وہ کبھی سوویت یونین کا حصہ ہوا کرتی تھیں لیکن افغانستان جنگ نے ان کو دیوالیہ بنادیا۔ پاکستان افغانستان کے قریب ہے پاکستان کو افغانستان میں جنگ لڑنی چاہیے آج وہ جگہیں جن کانام آپ سنتے ہیں وہ کبھی سوویت یونین کا حصہ ہوا کرتی تھیں لیکن افغان جنگ نے ان کو دیوالیہ بنادیا۔لیکن افغانستان میں پاکستان کیوں نہیں، بھارت کیوں موجود، روس موجود نہیں لیکن امریکی فوجی یہاں موجود ہیں اور 19 برس سے لڑ رہے ہیں۔ افغانستان ہم سے ہزاروں میل دور ہے چند ہفتے قبل امریکی جرنیلوں افغانستان میں ایک علاقہ کی نشاندہی کی جہاں پر طالبان اورداعش آپس میں لڑائی کر رہے تھے۔ طالبان اور داعش دونوں ہمارے دشمن ہیں میں نے امریکی جرنیلوں سے کہاکہ ان کو آپس میں لڑنے دو لیکن امریکی جرنیل بیچ میں جاکر لڑائی کرنا چاہ رہے تھے یہ پاگل پن ہے انکی جگہ ’ میں بہت اچھا جرنیل ہوتا ہمارے دونوں دشمن آپس میں لڑرہے ہیں تو ہمیں بیچ میں جانے کی کیاضرورت ہے؟ امریکہ کو شام کے مسئلے میں نہیں الجھنا چاہیے تھا۔ شام کی جنگ ہم اسی وقت ہارگئے تھے جب اوباما نے بشارالاسد حکومت کے ریڈلائن کراس کرنے پر کوئی سخت جواب نہیں دیا تھا۔ ایران میرے آنے سے پہلے انتہائی مختلف نوعیت کاملک تھا مشرق وسطی اور دیگر خطہ جات میں جتنی بھی لڑائیاں جاری تھیں ان میں ایران کسی نہ کسی طرح ذمہ دار رہا تھا۔ آپ شام کو دیکھیں، یمن کو دیکھیں، سعودی عرب کو دیکھیں میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ لوگ تو ہر جگہ ہیں ان کو کیسے روکا جا سکتا ہے جبکہ اوباما نے اپنے دور میں ان کو لاکھوں ڈالر کی امداد دی لیکن میں نے آتے ہیایران سے ایٹمی معاہدے کوختم کردیا۔ ایران اب وہ پہلے جیسا ملک نہیں رہا۔ ایران اب شام اور یمن سے اپنے لوگ نکال رہا ہے۔ ایران اب اپنی بقا چاہتا ہے۔ ہم مشرق وسطی میں استحکام چاہتے تھے، جبکہ ایران ہر چیز پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ ایران اب بالکل مختلف ملک ہے‘ جہاں ہر بڑے شہر میں ہر ہفتے احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں وہ اپنے حالات کی درستگی کیلئے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ابھی تیار نہیں ہیں۔ ہمیں شام جانا ہی نہیں چاہیے تھا۔ ہم وہاں صرف چند حملے کرنے کیلئے گئے تھے ہمیں کئی سالوں پہلے ہی شام سے نکل آناچاہیے تھا میں نہیں چاہتا کہ ہم شام میں مزید رہیں میںواشگنٹن ہسپتال میں شدید زخمی فوجیوں کی حالت دیکھتا ہوں تو میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ہمیں یہ نہیں چاہیے ہمیں یہ پیسہ اپنے ملک کی ترقی اورفوج پرلگانا چاہیے نہ کہ روزانہ اس کو ضائع کرنا چاہیے ہم افغانستان میں صرف ایک ماہ میں اتنا خرچ کرتے ہیں جتنا ہم بین الاقوامی سطح پر سالانہ خرچ کرنے کے منصوبے بناتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

روٹی مہنگی غم سستے

(افشاں ملک) گندم بحران اورمہنگی روٹی کا وزیراعظم عمران خان نے نوٹس لے لیا ہے …