اتوار , 17 فروری 2019

ہم تعلیم میں پیچھے کیوں؟

(سید ذیشان علی کاظمی)
ترقی کے اس دور میں وہ قومیں ہی دیگر قوموں کا مقابلہ کر پاتی ہیں جو تعلیمی میدان میں اپنی ہم عصر اقوام سے آگے ہوتی ہیں، ایک وقت تھا مسلمان تعلیمی لحاظ سے آگے تھے عراق، اسپین، مصر، شام کی قدیم درس گاہیں اور پوری دنیا کا ان درس گاہوں سے رجوع اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے، جب پورا یورپ جہالت میں ڈوبا ہوا تھا تب مسلمان دنیا کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے تھے۔ آج صورتحال یکسر مختلف ہے کہ اہل مغرب تعلیم کے میدان میں آگے ہیں، پوری دنیا سے تشنگان علم اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے یورپ وامریکہ کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی میدان میں برتری کا مطلب ہے کہ سائنسی ایجادات اور معیشت میں بھی وہ ممالک آگے ہیں۔ پاکستان تعلیمی میدان میں کہاں کھڑا ہے اس کا اندازہ پاکستان کی تباہ حال معیشت اور سائنسی ایجادات میں فقدان سے لگایا جا سکتا ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک تعلیمی میدان میں آگے ہونے کی وجہ سے ہر میدان میں ہم سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ چند ماہ قبل ایک بزرگ نے بتایا کہ امریکہ کے تعلیمی میدان میں ہندوستانی چھائے ہوئے ہیں کیونکہ جو ہندوستانی پڑھنے کیلئے امریکہ جاتے ہیں وہ ساری توجہ پڑھائی پر لگاتے ہیں، مشکلات جھیلتے ہیں، فقر وفاقہ میں بھی وقت گزار لیتے ہیں لیکن تعلیم پوری کرتے ہیں جبکہ جو پاکستانی امریکہ پڑھنے کی غرض سے جاتے ہیں تو وہ چند ماہ بعد ہی وہاں معمولی ملازمت میں مصروف ہو کر اپنا تعلیمی سلسلہ ختم کر دیتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہندوستانی طلباء چند سالوں کے مشکل وقت کے بعد اپنی اعلیٰ تعلیم پوری کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور امریکہ میں ہی انہیں اعلیٰ سطح کی ملازمت کی آفر ہونے لگتی ہے جبکہ پاکستانی طلباء اپنی تعلیم جاری نہ رکھنے کی وجہ سے چار پانچ سال کے بعد بھی کسی ہوٹل کے برتن صاف کر رہے ہوتے ہیں یا اس طرح کی کوئی اور معمولی سی نوکر ی کر رہے ہوتے ہیں۔امریکہ میں مذہب کی بنیاد پر شائع ہونے والے اعداد وشمار سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی مختلف تعداد سامنے آئی ہے جس میں حیران کن انداز میں بعض مذاہب کی پیروی کرنیوالے دوسرے مذاہب سے بہت آگے ہیں میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیق کرنیوالی معروف کمپنی پیو ریسرچ کے مطابق کالج کی ڈگری حاصل کرنیوالی مذہبی برادری میں سب سے آگے ہندو ہیں، جن میں 77فیصد لوگ کالج سے ڈگری حاصل کرتے ہیں۔ ان کے بعد یونیٹیرین یونیورسلسٹ آتے ہیں، جن کا فیصد 67 ہے۔ اس نظرئیے کے حامی لبرل ہوتے ہیں اور سچائی کیلئے آزاد اور ذمہ دارانہ تلاش وجستجو میں یقین رکھتے ہیں۔ان دو مذہبی برادریوں کےبعد، یہودی آتے ہیں جن میں کالج کی ڈگری کے حصول کا فیصد59 ہے جبکہ اینگلیکن چرچ کا فیصد بھی ان کے برابر ہے۔ ایپسکوپل چرچ کے لوگوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا فیصد56 ہے۔ یہ نتائج 2014ء کے مذہبی لینڈا سکیپ کے مطالعے کے ہیں جس میں تعلیمی صلاحیت کے اعتبار سے امریکا کی 30 مذہبی برادریوں پر تحقیق کی گئی ہے۔ اس میں امریکا کے 35ہزار کالج کے گریجویٹ کو شامل کیا گیا ہے۔ مسلمان اس 30 مذاہب کی فہرست میں 11ویں نمبر پر آئے ہیں۔ اس تحقیق سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ امریکا میں جب تعلیم اور اقتصادی ترقی کے معاملے میں ہندو اور یہودی آگے ہیں تو اس لئے امریکا میں خاندانی آمدنی کے معاملے میں بھی یہی دو برادریاں آگے ہیں۔ 2014 کے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکا میں 44فیصد یہودی اور 36فیصد ہندو خاندان ایسے ہیں جن کی سالانہ آمدن کم ازکم ایک لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔امریکا میں گریجویٹ کرنے والوں کا اوسط 27فیصد ہے اور کئی دوسرے مذاہب بھی اس قومی اوسط سے آگے ہیں۔ ان میں بدھ مذہب کے پیروکار اور پریسبائیٹیر ین چرچ (امریکا) 47۔47فیصد ہیں۔ آرتھو ڈاکس مسیحی 40فیصد ہیں جبکہ مسلمان 39فیصد ہیں۔ امریکہ میں سب سے زیادہ تعداد کیتھولک مسیحی کی ہے جو ہر پانچ میں سے ایک ہیں اور ان میں قومی اوسط کے تقریباً برابر 26فیصد گریجویٹ ہیں۔امریکا کے ہندوؤں میں سے 87فیصد لوگ ملک سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ سخت امیگریشن پالیسی کی وجہ سے امریکی انتظامیہ تعلیم یافتہ اور ہنرمند افراد کو ہی ترجیح دیتی ہے۔

ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ارباب اختیار ملکی سطح پر تعلیمی ڈھانچے کا ازسرنو جائزہ لیں اور تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کریں صرف اتنا کر دینا کافی نہیں کہ گزشتہ حکومتوں کی نسبت تعلیمی بجٹ میں ایک یا دو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے بلکہ ملک سے مہنگی تعلیم کا تاثر ختم کرکے اسے اس طرح بنائیں کہ ملک کا کوئی بھی بچہ محض پیسوںکی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے۔ دوسرا کام ہنگامی طور پر کرنے کا یہ ہے کہ جو طلباء اعلیٰ تعلیم کیلئے ملک سے باہر جائیں وہ حکومت کے توسط سے ہی جائیں، حکومت ایسے طلباء کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کی مکمل نگرانی کی جائے، کسی بھی طالب علم کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر کام کرنے کی اجازت نہ ہو۔ جب حکومت اپنی ذمہ داری نبھائے گی تو طالب علم بھی احساس کریں گے اور یوں پاکستان تعلیمی میدان میں دیگر اقوام سے پیچھے نہیں رہے گا۔

یہ بھی دیکھیں

کچھ نئے تحقیقی زاویے

(حامد میر) تحقیق ایک محنت طلب کام ہے۔ تحقیق کا حسن یہ ہوتا ہے کہ ...