منگل , 16 جولائی 2019

’’پاگل شخص” کا نظریہ کار آمد نہیں رہا‘‘

(ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)
امریکہ میں ہر روز ایک نیا ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی صدر کے بستر سے اٹھتا ہے اور اندرونی مسائل نیز بین الاقوامی مسائل کے بارے میں اظہار خیال کرتا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ امریکی صدر آج ۱۴ جنوری کو کیا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ وہ لمحوں میں فیصلہ کرتے ہیں اور ٹوئیٹر میں اپنے پیج کی برکت سے اپنا فیصلہ دنیا والوں کو پہنچا دیتے ہیں۔ امریکی صدر کس طرح سوچتے ہیں؟ کیا ان کے ناگہانی فیصلوں کے پیچھے کوئی نامی گرامی مفکر بیٹھا ہو جو خفیہ طور پر ٹرمپ کی راہنمائی کرنا چاہتا ہے؟ یا وہ خود یہ فیصلے کرتے ہیں تا کہ جتنا ہوسکے ناپیش بیں اور عجیب و غریب ہوکر دکھا سکیں؟
وہ خود مؤخر الذکر صورت کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وہ صدارت کی کرسی پر براجماں ہونے سے کئی برس پہلے بھی کہہ چکے تھے کہ “میں پسند کرتا ہوں کہ ناپیش بیں (unpredictable) رہوں”۔ وہ اپنے ان فیصلوں میں پاگل پن کی چاشنی کا بھی اضافہ کرتے ہیں تا کہ فریق مقابل کو فیصلہ کرنے کے لئے دباؤ میں لا سکیں۔ وہ کئی بار اس روش سے فائدہ اٹھا کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستعفی سفیر نیکی ہیلے (Nikki Haley) نے مجلہ اٹلانٹک (The Atlantic) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ “میں اپنی باتیں منوانے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لئے، یوں جتایا کرتی تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک پاگل شخص ہیں اور وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں”۔ انھوں نے کہا کہ “میں نے اس روش کو اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں ـ بالخصوص شمالی کوریا کے خلاف قرارداد منظور کرانے کے ـ بروئے کار لاتی رہی”۔ انھوں نے کہا ہے کہ “ٹرمپ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کرکے مذاکرات میں مخالف فریقوں سے رعایتیں لینے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں انھوں نے مذاکرات کے تین ادوار میں پیانگ یانگ کے خلاف شدید قسم کی قراردادیں منظور کروا لیں۔
ٹرمپ نے جس حکمت عملی کو اپنایا ہے اس کو امریکہ میں “پاگل شخص کا نظریہ MadMan Theory” کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ پہلی بار امریکہ کے سینتیسویں صدر رچرڈ نکسن نے اپنایا تھا۔ اس نظریئے کا خالق مشہور امریکی پالیسی ساز ہنری کیسنجر ہیں۔ اس نظریئے کے تحت امریکی صدر کو چاہئے کہ پاگلوں کی طرح عمل کرے، [بظاہر] غیر متوقعہ فیصلے کرے تا کہ ان کے رقباء اور بیرونی ممالک خوفزدہ ہوکر اس کے مطالبات کی تکمیل پر آمادہ ہوں۔
نکسن نے پاگل شخص کے اس نظریئے کے مطابق، اپنے آپ کو پاگل صدر کے طور پر پیش کیا اور آخرکار واٹرگیٹ کی رسوائی کے بموجب استعفا پر مجبور ہوئے۔ لیکن اب ان کے تقریبا ۴۵ سال بعد ایک نئے شخص نے اپنا آپ کو پاگل شخص کے طور پر متعارف کرانے کی کوشش کا آغاز کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ سنہ ۲۰۱۷عمیں باضابطہ طور پر امریکہ کے صدر بنے ہیں؛ اور انھوں نے اس عرصے میں کئی بار اسی نظریئے کے تحت عمل کیا ہے۔ پیرس کے موسمیاتی معاہدے سے علیحدگی، سات صنعتی ممالک کے سربراہوں کے بیانئے پر دستخط نہ کرنے کا اعلان، برسلز میں نیٹو سربراہی اجلاس کے انعقاد سے پہلے، اس تنظیم کے رکن ممالک پر [لفظی] حملے، ایران کے ساتھ جامع جوہری معاہدے سے علیحدگی، شام اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا غیر متوقعہ اعلان وغیرہ وہ اقدامات ہیں جنہیں عمل میں لا کر ٹرمپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ایک پاگل اور ناپیش بیں شخص ہیں۔ لگتا ہے کہ یہ پالیسی مسٹر ٹرمپ کو بہت زیادہ پسند آئی ہے اور انھوں نے سرکاری عہدیداروں کی کئی مرتبہ چھانٹی کرکے اور کابینہ میں کئی مرتبہ ترمیم کرکے، انتظامیہ کے اراکین کو بھی اسی سمت میں لگا لیا ہے۔ انھوں نے اسی بنیاد پر ٹیلرسن کو وزارت خارجہ سے چلتا کرکے اپنے جیسے دیوانے مائیک پامپیو کو وزیر خارجہ بنایا۔ یوں پاگلوں کی تعداد دو ہوگئی اور پھر تیسرے دیوانے رپپلکن جان بولٹن کو قومی سلامتی کا مشیر بنایا اور اب یہ لوگ امریکہ کی MadMan Theory کے مطابق امریکی خارجہ پالیسی کا بندوبست کررہے ہیں۔پرانے اتحادیوں سے الگ تھلگ
پاگل شخص کے نظریئے کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات زیادہ تر امریکی خارجہ پالیسی میں جلوہ گر ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کے ان اقدامات کا مقصد دوسرے ممالک کو خوفزدہ کرکے اپنے مفادات کا حصول تھا۔ لیکن چونکہ امریکہ سنہ ۱۹۷۰عکی دہائی سے نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے آخری برسوں سے گذر رہا ہے، اور آج امریکی فوجی اور معاشی طاقت کے لحاظ سے تنزلی اور انحطاط سے دوچار ہے چنانچہ MadMan Theory کے نفاذ نقصانات اور اخراجات اس کے فوائد سے کہیں بڑے ہیں۔ امریکہ آج بھی ایک طاقتور ملک ہے لیکن کل کی طرح طاقتور نہیں ہے اور وہ بہت سی صلاحیتوں اور قابلیتوں کو کھو چکا ہے۔
میڈمین نامی حکمت عملی نے امریکہ کے روایتی یورپی اتحادیوں کو ـ جو کہ امریکہ کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور بین الاقوامی شعبوں میں گہرے روابط قائم کرنے کے خواہاں ہیں ـ تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ٹرمپ کے رویوں نے یورپ اور امریکہ کے درمیان شگاف ڈال دیا ہے اور یورپی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جب تک کہ ٹرمپ برسر اقتدار رہیں گے یورپ اور امریکہ کے درمیان ماضی جیسے تعلقات کی بحالی ممکن نہیں ہے اور وہ مجبور ہوکر امریکہ کی عدم موجودگی میں نئے اتحادوں کے قیام کے بارے میں سوچنے لگے ہیں۔ یورپ، ٹرمپ کی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے، روس سے توانائی کے وسائل کی درآمدات میں اضافہ کررہا ہے اور حالیہ دو برسوں میں چین اور جاپان کے ساتھ بڑے بڑے معاہدوں پر دستخط کرلئے ہیں اور یہ معاہدے ٹرمپ کی طرف سے یورپی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافے کے رد عمل کے طور پر منعقد ہوئے ہیں۔ یورپ آج ٹرمپ کے دیوانہ وار اور غیر متوفعہ اقدامات پر بداعتماد ہوچکا ہے اور یہ بداعتمادی نیٹو کے سانچے میں یورپ کے تحفظ کے حوالے سے امریکی ذمہ داریوں تک سرایت کرچکی ہے جس کے نتیجے میں یورپ میں مستقبل یورپی افواج کے قیام کے سلسلے میں چہ میگوئیاں سننے کو مل رہی ہیں۔ پہلے وہ روس اور چین کے مقابلے میں امریکی طاقت پر انحصار کررہے تھے اور آج وہ روس، چین اور امریکہ کے مقابلے میں یورپ کے دفاع کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔
ٹرمپ البتہ ایک مسئلے کو یکسر بھول گئے ہیں اور وہ یہ کہ اب جبکہ امریکی طاقت زوال سے دوچار ہوچکی ہے، دوسروں ـ خصوصا روایتی اتحادیوں ـ کو خوفزدہ کرنے کی پالیسی کچھ زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی۔ یہ ممکن ہے کہ ممالک ایک مسلط بڑی طاقت سے خوفزدہ ہوجائیں لیکن ایک زوال پذیر بڑی طاقت سے نہیں ڈرتے اور وہ اپنا راستہ جدا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
درآمدی مصنوعات پر امریکہ کی طرف سے ڈیوٹی کا نفاذ، اتحادیوں کی عسکری اور اقتصادی امداد میں کمی اور دنیا بھر میں تعینات امریکی افواج کے انخلاء کے اعلان کی وجہ سے، اس ملک کے اتحادی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکہ اب وہ اونچی اور مضبوط دیوار نہیں ہے جس کا سہارا لیا جاسکے اور اس ملک پر اعتماد کرنا، غلط اور بےجا ہے۔ جس ملک کی طاقت مسلسل گھٹ رہی ہے، جو ملک غیر عرفی اور غیر معمولی اقدامات کا سہارا لیتا ہے، اس کے ساتھ تزویری تعلقات پر سرمایہ کاری، مناسب عمل نہيں ہے۔
ٹرمپ اس حقیقت کو سمجھ گئے تھے کہ وہ سیاست کا صحیح ادراک نہیں رکھتے چنانچہ انھوں نے میڈمین کی حکمت عملی کو اپنایا۔ یہ حکمت عملی بعض مواقع پر ان کے لئے ممد و معاون ثابت ہوئی چنانچہ وہ سمجھ بیٹھے کہ اپنی صدارتی دور کے آخر اپنے آپ کو پاگل اور ناپیش بیں شخص کے طور پر پیش کرکے، بین الاقوامی سطح پر امریکی مفادات کے حصول میں کامیاب ہوسکتے ہیں لیکن اس حکمت عملی کی افادیت کے کچھ لوازمات بھی ہیں، جو ٹرمپ کی بصارت سے اوجھل ہیں۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے تصورات کے برعکس، اس روش کو اس وقت تک بروئے کار لایا جاسکتا ہے جب تک کہ مخالف فریق اس سے آگہی نہ رکھتے ہوں کیونکہ اس حکمت عملی کی حقیقت عیاں ہونے کے بعد، اس کی افادیت اور اثرگذاری ختم ہوکر رہ جاتی ہے۔ مزید برآں اس حکمت عملی کو غلط اندازوں (Miscalculations) کی بنیاد پر استوار کرنے سے مطلوبہ نتائج کے حصول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے سلسلے میں امریکی پالیسی امریکیوں کے غلط اندازوں کی ایک اہم اور زندہ مثال ہے۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی دفعہ نمبر ۳۶ اور دفعہ نمبر ۳۷ ایران پر دباؤ بڑھانے کا آسان ترین ذریعہ تھیں اور ٹرمپ ان سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، جن کے تحت معاہدے کے تمام فریقوں کو ویٹو کا اختیار دیا گیا تھا اور وہ آسانی سے ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کو پلٹا سکتے تھے۔ معاہدے کے تحت، اگر معاہدے کے فریقوں میں سے کوئی بھی فریق ایران کی طرف سے معاہدے کی عدم پابندی کی شکایت کرتا تو سلامتی کونسل “پابندیوں کی معطلی” کے بجائے “پابندیاں جاری رکھنے” کی تجویز پر غور کرنے بیٹھ جاتی۔ بالفاظ دیگر اگر اراکین میں سے کوئی بھی ایران کی طرف سے معاہدے کی پابندی کے سلسلے میں دیگر اراکین کی رپورٹ کو ویٹو کرتا، ایران کے خلاف سلامتی کونسل کی پابندیاں خود بخود پلٹ آتیں اور ٹرمپ معاہدے میں رہ کر اپنے مقاصد کو بآسانی حاصل کرسکتے تھے۔
اگرچہ، اگر ڈونلڈ ٹرمپ اس روش سے فائدہ اٹھاتے تو ایران بھی اپنے جوہری پروگرام کو از سرنو شروع کر دیتا لیکن اس سے امریکہ کو کوئی خاص نقصان نہ پہنچتا اور یہ حقیقت عیاں نہ ہوجاتی کہ امریکہ ناقابل اعتماد ہے اور اس کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہیں۔
ٹرمپ پاگل پن کا اظہار اور اثبات کرکے اور اپنے ناپیش بیں ہونے کا ثبوت دے کر، تہران کو جوہری معاہدے سے بڑھ کر، امریکی مطالبات، ماننے پر مجبور کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے غلط اندازوں نے ـ جن میں پامپیو اور بولٹن کا کردار نمایاں تھا ـ انہیں اس معاہدے سے علیحدگی پر آمادہ کیا، لیکن ان کا یہ اقدام امریکہ کے لئے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا۔
جوہری معاہدے سے علیحدگی کے احمقانہ امریکی فیصلے نے امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کے درمیان دراڑیں ڈال دیں، ایسی دراڑیں جو شاید ایران کے لئے ماضی قریب میں مفید نہ ہوں لیکن یہ دراڑیں دنیا کے نئے نظام کی تشکیل میں اثر گذار ہیں۔ وہ نظام جس کو پوری دنیا کو انتظار ہے۔
مسٹر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بعد ایک مہینے کے فاصلے پر، شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اون سے ملاقات کی؛ لیکن وہ جوہری معاہدے سے الگ ہوکر پیانگ یانگ کو بتا چکے تھے کہ “مذاکرات و معاہدات ان کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے، اور وہ معاہدے کے انعقاد کے بعد بڑی آسانی سے اس کی خلاف ورزی کرسکتے ہیں”، چنانچہ پیانگ یانگ نے پابندیوں کے مکمل خاتمے سے دو طرفہ وعدوں میں سے کسی ایک پر بھی عملدرآمد نہیں کیا۔ چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ میڈمین کی پالیسی ـ جو نکسن کے زمانے میں بھی ناکام رہی تھی ـ کی خاتمے کی تاریخ پچاس سال قبل گذر چکی ہے اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے الگ ہونے کے احمقانہ اقدام کے بعد پاگل صدر بین الاقوامی معاہدات کے درمیان الجھ گئے ہیں اور اب کوئی بھی ملک امریکہ پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتا۔
رہبر انقلاب امام خامنہ ای (حفظہ اللہ تعالی) فرماتے ہیں: امریکہ کا قول، دستخط اور عہد و پیمان، ناقابل اعتماد ہے”۔

ناقابل اعتماد ملک

یہ بھی دیکھیں

وفاق کی ڈکشنری میں گلگت بلتستان کی تلاش

(تحریر: لیاقت علی انجم) معروف دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے ایک …