ہفتہ , 23 فروری 2019

بھارت میں مسلمانوں سے ناروا سلوک

(امیر حسین)
قائداعظم محمد علی جناح نے اپنوں اور پرائیوںکی شدید تر مخالفت کے باوجود اپنے عزم و استقلال کے بل بوتے پر آزاد مملکت کے طو رپر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام کو یقینی بنایا تاکہ ہم آزادی کے ساتھ اپنے اپنے دینی مسالک کے مطابق اور اپنے اپنے سیاسی و اقتصادی آدرشوں کے طابع اور بردباری سے اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ سکیں۔ ہم مسجد میں جائیں، مندر، گرجا گھر یا گوردوارے جائیں ہمیں مکمل آزادی حاصل ہے۔ ہم چاہے اکثریت میں ہوں یا اقلیت میں بالآخر ہم سب پاکستانی ہی ہیں۔ پاکستانیت ہی ہماری پہچان ہے اور پاکستان ہی سے محبت ہماری حب الوطنی کا تقاضا ہے۔معاشی اور اقتصادی افراتفری اپنی انتہا پر ہونے کے باوجود پاکستان میں کبھی بھی اور کسی بھی موقع پر غیر مسلموں سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا۔ پاکستانی معاشرے میں ہمیشہ غیر مسلموں کو باعزت زندگی کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور پاکستان کو ایک اسلامی ریاست ہی ہونا چاہیے۔ لیکن کیا اسلامی ریاست مذہب کی بنیاد پر کسی ملت کو وجود بخشتی ہے؟ میثاقِ مدینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ جو لوگ ایک ریاست کو وجود میں لاتے ہیں اور جو لوگ ایک معاہدے کے تحت اس کے شہری بن جاتے ہیں وہ ایک ملت قرار پاتے ہیں۔ پاکستان میں مسلم مذہبی اکثریت اور غیر مسلم اقلیتیں خود کو ایک ہی ملت کا حصہ سمجھتی ہیں۔ پاکستان میں نہ تو اکثریت کو اقلیت سے کوئی شکایت رہی ہے اور نہ ہی اقلیت نے پاکستان سے باہر دیکھا ہے۔ یہاں بلاتفریق مذہب ہمیشہ قومی اور عالمی سطح پر امن، اخوت اور بھائی چارے کا پرچم بلند رکھا گیا ہے۔
لیکن دوسری جانب اگر بھارت میں دیکھیں تو تمام معاملات پاکستان کے برعکس ہیں۔ سب اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بھارت میں غیر ہندو اقلیتوں سے جو سلوک قیام پاکستان سے لے کر آج تک روا رکھا گیا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں نظر نہیں آتی۔ درحقیقت ہندوستان میں مسلمانوں کو بے بس، کمزور، محروم اور بے سہارا بنا دیا گیا ہے لیکن انتہائی افسوس اس بات پر ہے کہ حکومتی سطح پر پاکستان بننے کے بعد ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لئے آواز بلند نہیں کی گئی جبکہ بھارت کی حکومتیں ہمیشہ سیکولر ازم پر عمل پیرا ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتی آئی ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دیکھا جائے تو پاکستان کے نام نہاد سیاست دانوں کو اس بات کا درحقیقت ادراک ہی نہیں ہے کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا۔ تاریخ دانوں نے ہماری نوجوان نسل کو 1947ءکی وہ تاریخ ازبر نہیں کرائی جس میں ہندوؤں اور سکھوں نے زبردست منصوبہ بندی کے ساتھ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس قتل عام میں تقریباً نو لاکھ مسلمان شہید اور سوا کروڑ کے قریب مسلمان بے گھر ہوئے تھے۔ ہجرت کے دنوں میں ہندوؤں اور سکھوں نے کلمہ گو مسلمانوں کو دہکتی آگ اور بھڑکتی چنگاریوں کے سپرد کر دیا تھا۔ ان دنوں مسلم امہ کے بارے میں تنگ نظری کا پول روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا تھا۔ ناحق اور بے گناہ خون سے گاہے بگاہے مذہبی تعصب کی آبیاری ہوتی رہی۔ یہ سلسلہ ختم ہونے یا کم ہونے کی بجائے دن بدن اضافے کی طرف راغب ہوگیا، دشمنی کی جڑیں پھیلتی چلی گئیں۔ بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رہا۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پچھلے چالیس پینتالیس برسوں میں پاکستان کی کسی حکومت نے بھارت کے مسلمانوںپر جاری ظلم و ستم کے خلاف کسی بھی سطح پر کبھی آواز نہیں اٹھائی۔ ہمارے حکومتی ارکان اور سیاست دانوں کو تو شاید یہ علم بھی نہیں ہوگا کہ پاکستانی وزیراعظم نواب لیاقت علی خان اور بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے مابین بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے سلسلے میں باقاعدہ ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔ جوکہ پاک و ہند کی تاریخ میں خاص اہمیت کا حامل تھا۔ پاکستان کی درسی کتب میں اس معاہدے کو تعلیمی اداروں میں باقاعدہ پڑھایا جاتا تھا لیکن بہت عرصے سے پلاننگ کے ساتھ اسے درسی کتب سے غائب کر دیا گیا یہاں تک کہ یہ معاہدہ اب پاکستان کی website سے بھی ہٹا دیا گیا ہے جبکہ بھارت کی website پر ہنوز موجود ہے۔ اس معاہدے میں بہت سے معاملات کے علاوہ، خصوصی طور پر بھارت میں رہ جانے و الے مسلمانوں کے مکمل تحفظ کو یقینی بنائے جانے پر دونوں وزرائے اعظم نے دستخط ثبت کئے تھے۔ انگریزی زبان میں تحریر کردہ اس معاہدے کی مذکورہ شق زیر سطور ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
”معاہدہ مابین حکومت انڈیا اور حکومت پاکستان“
(نہرو لیاقت ایگریمنٹ) نئی دہلی5 اپریل 1950 ئ
(اے)انڈیا اور پاکستان کی حکومتیں اتفاق کرتی ہیں کہ دونوں اپنے ملکوں کی حدود میں بسنے والی اقلیتوں کو بلاتفریق مذہب برابری کی بنیاد پر شہری حقوق دینے کو یقینی بنائیں گی۔ ان کی جان و مال، معاشرتی روایات اور عزت نفس کو مکمل تحفظ فراہم کریں گی۔ انہیں اپنے مذہب پر قائم رہنے، اپنے طریقے پر عبادت کرنے کی پوری آزادی حاصل رہے گی۔ اقلیتوں کے افراد کو وہی برابر کے حقوق حاصل ہوں گے جوکہ اکثریتی افراد کو اپنے ملک میں حاصل ہوں گے۔ وہ آزادانہ طور پر سیاسی اور دیگر دفاتر قائم کرسکیں گے۔ پیشہ اپنا سکیں گے اور اپنے ملک کے سول اداروں یا فوج میں خدمات سرانجام دے سکیں گے۔ دونوں حکومتیں واضح کرتی ہیں کہ یہ جملہ حقوق پُر اثر انداز میں لاگو رہیں گے۔
”بھارتی وزیراعظم نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ بھارت میں بسنے والی اقلیتوں کو یہ جملہ حقوق دینے کی ضمانت ہمارے آئین میں موجود ہے۔ پاکستانی وزیراعظم نے بھی اس طرف اشارہ کیا کہ پاکستان کی قانون ساز اسمبلی نے بالکل اسی طرح اقلیتوں کو جملہ امور میں حقوق فراہم کرنے کو اختیار کر رکھا ہے اور یہ کہ دونوں حکومتوں کی یہی پالیسی ہے کہ اپنے ملکوں کے شہریوں کو یہ جمہوری حقوق بلاامتیاز حاصل رہیں گے۔ دونوں حکومتیں چاہتی ہیں کہ اقلیتیں اپنی ریاست کے ساتھ، ملک کا شہری ہونے کے ناطے وفادار رہیں۔“
افسوس اس بات کا ہے کہ بھارتی حکومتوں نے تو اس معاہدے کو صریحاً فراموش کر دیا لیکن پاکستان میں حکومتی عہدوں پر براجمان نام نہاد سیاست دانوں نے کبھی بھی بھارتی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند نہیں کی یا اس معاہدہ پر عمل پیرا ہونے کے لئے کسی سطح پر بھارتی حکومتوں پر زور ڈالنے کی زحمت کی ہو۔ بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام روزمرہ کا معمول سا بن کر رہ گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1954ءسے لے کر 1986ءتک کے عرصے میں مختلف مقامات پر دس ہزار مسلم کش فسادات ہوئے جن میں ہزاروں مسلمان جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی کروڑوں مالیت کی املاک نذرِ آتش کر دی گئیں۔ اگر تجزیاتی نگاہ سے مسلمانوں کے خلاف اس سفاک ذہنیت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بربریت اور منافرت کی اس آگ کے پس منظر میں انگریز مصنفین کی تحریر کردہ درسی کتب کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ جو برس ہا برس سے بھارت کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔ ان نام نہاد تاریخی کتابوں میں یہی دکھایا گیا ہے کہ مسلمان، ہندو تہذیب و روایات اور ان کے مندروں کے غارت گر ہیں۔ یہ امر کسی طرح باعث تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت کے تعلیم یافتہ طبقے کو ابتداءہی سے ایسا زہریلا مواد پڑھایا جاتا رہا ہے جسے پڑھ کر وہ مسلمانوںکو شک کی نگاہ سے دیکھنے اور باہمی امن چین برباد کرنے کی راہ اپناتے ہیں۔ ایک ہندو کی ذہنی تربیت ہی اس انداز میں ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی تاریخ کے مسلم دور کو جو آٹھ سو برس سے زیادہ عرصے پر محیط ہے، ایک بھیانک خواب سمجھتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارت میں آزادی سے لے کر آج تک مسلمانوں کا قتل عام جاری ہے۔ بھارت میں رہڑی بان سے لے کر وہاں کے وزیراعظم تک کو لفظ پاکستان سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ اس کڑوے سچ سے کسی کو انکار نہیں ہے کہ پاکستان کا وجود بھارتیوں کو آج بھی کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے وہ آج بھی اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...