ہفتہ , 23 فروری 2019

آزادی بیان کا قتل عام

معروف جرنلسٹ، پریس ٹی وی کی اینکر و تجزیہ نگار کئی دستاویزی فلموں کی رائٹر و ڈائریکٹر نیز انسانی حقوق کی فعال کارکن محترمہ مرضیہ ہاشمی کو امریکی خفیہ اداروں نے اغوا کرکے ایک بار پھر انسانی حقوق کے پرخچے اڑا دیئے، ایک صحافی کو مجرموں کی طرح گرفتار کرنا، با پردہ خاتون کو جرم بتائے بغیر اور کسی عدالت میں پیش کئے بغیر ایک ٹی شرٹ پہننے پر مجبور کرنا نیز امریکی اہلکاروں کے سامنے بے پردہ آنے اور سور کا گوشت کھانے پر مجبور کرنا کون سے مہذب معاشرے کا شیوہ ہے۔ یہ سب تو امریکی قوانین اور ان کی اقدار کے بھی خلاف ہے۔ آزادی بیان اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اور دنیا بھر میں سماجی اور شہری حقوق کے چیمپئن کہلانے والے امریکہ کے دوہرے معیار ایک بار پھر آشکار ہوگئے ہیں۔ امریکہ میں مقامی باشندوں، اقلیتوں اور سیاہ فاموں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، وہ کھل کر سامنے نہیں آتا، لیکن مرضیہ ہاشمی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس سے امریکہ کی حقیقی ماہیت نکھر کر سامنے آگئی ہے۔

دنیا میں جاری جنگوں کا ذمہ دار امریکہ، دہشت گردی کو ایجاد اور پروان چڑھانے والا امریکہ، ڈرائو اور ڈرا کر اتحادیوں کو اسلحہ خریدنے پر تیار کرنے والا امریکہ، دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے حکومتوں کے تختے الٹنے والا امریکہ، اسلامو فوبیا کا ماحول بنا کر مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے والا امریکہ، قصہ مختصر بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رہ) کے بقول شیطان بزرگ امریکہ، اس شیطان نے اپنے جرائم میں اضافہ کرتے ہوئے ایک مسلمان خاتون صحافی کو اغوا کرکے اپنے سیاسی و سماجی جرائم میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

آل سعود کی دوستی میں ڈونلڈ ٹرامپ اور ان کی انتظامیہ نے جمال خاشقچی کے بہیمانہ قتل پر محمد بن سلمان کا ساتھ دیکر جس نئے کھیل کی بیناد رکھی ہے، صحافی برادری کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ امریکی قیادت مین دنیا کو اس طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں قرون وسطیٰ کے جاہلانہ اقدامات کے نتیجے میں میڈیا سمیت کسی کو کچھ کہنے کی اجازت نہ ہو۔ جمال خاشقچی کا وحشیانہ قتل اور مرضیہ ہاشمی کا اغوا ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ عالمی صحافی برادری سمیت زبان و بیان کی آزادی کے خواہشمند عالمی ادارے اور شخصیات اگر اب بھی خاموش رہیں تو وہ دن دور نہیں جب زبانوں پر تالے ہوں گے اور ذہنوں پر پہرے۔ آج مرضیہ ہاشمی زیرعتاب ہے تو کل کوئی دوسرا باضمیر صحافی سی آئی اے، ایف بی آئی اور موساد کے رحم و کرم پر ہوگا، جتنی تاخیر اتنا زیاہ نقصان۔۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

پاک بھارت کشیدگی اور چند معروضات

(حیدر جاوید سید) پاک بھارت کشیدگی کے حالیہ دنوں میں کیا محض اس لئے حکومت ...